• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمد رضوان کے معاملے میں سامنے آنے والی تفصیلات نے بہت سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان میں سب سے اہم سوال نہ تو کرکٹ کی کارکردگی کا ہے، نہ کسی کھلاڑی کی ڈسپلن کی خلاف ورزی کا، بلکہ ایک بنیادی انسانی اور مذہبی آزادی کا ہے۔ سامنے آ رہی اطلاعات کے مطابق ویسٹ انڈیز کے حالیہ دورے کے دوران ایک موقع پر ویسٹ انڈیز کا ایک مسلمان کھلاڑی رضوان اور پاکستان کے دوسرے کھلاڑیوں کو عصر کی نماز کیلئے مسجد لے جانے آیا۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ اُس وقت نہ کوئی ٹریننگ سیشن تھا، نہ ٹیم میٹنگ اور نہ ہی کرکٹ سے متعلق کوئی ایسی ذمہ داری جس میں ان کھلاڑیوں کی شرکت ضروری ہوتی۔ مبینہ طور پر جب دوسرے کھلاڑی اپنے ذاتی وقت میں اپنی مرضی کی سرگرمیوں میں مصروف ہو سکتے تھے، مگر ان کھلاڑیوں کو مسجد جانے سے روک دیا گیا۔ باقی کھلاڑی رک گئے جبکہ رضوان نماز پڑھنے مسجد چلے گئے۔ یہ الزام اگر درست ہے تو پھر یہ کوئی معمولی نوعیت کا معاملہ نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ محمد رضوان ایک کرکٹر ہیں یا ایک مذہبی شخص۔ سوال یہ ہے کہ انہیں مسجد جانے سے کس نے روکا؟ کس اختیار کے تحت روکا؟ کس کے حکم پر روکا؟ اور روکنے کی وجہ کیا تھی؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آنا چاہئے۔ اگر یہ الزام درست نہیں تو پھر پاکستان کرکٹ بورڈ کو واضح کرنا چاہئے کہ حقیقت کیا تھی۔ کیونکہ معاملہ اب محض ڈریسنگ روم یا ٹیم مینجمنٹ کے اندر کا نہیں رہا۔ یہ بات عوامی سطح پر آ چکی ہے۔ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے۔ یہاں کسی بھی شخص کو اسکی عبادت سے روکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کسی مسلمان کو مسجد جا کر نماز ادا کرنے سے روکنے کا معاملہ تو بہت زیادہ حساس ہے۔ یقیناً مذہب کسی کھلاڑی کو اسکی پیشہ ورانہ ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں کرتا۔ اگر کسی کھلاڑی کی ٹریننگ ہو، ٹیم میٹنگ ہو، میچ کی تیاری ہو، سیکورٹی بریفنگ ہو یا کوئی اور لازمی ذمہ داری ہو تو وہ ذمہ داری پوری کرنا اسکا فرض ہے۔ لیکن اگر جیسا کہ الزام لگایا جا رہا ہے اس وقت ایسی کوئی ذمہ داری موجود ہی نہیں تھی اور دوسرے کھلاڑی اپنے ذاتی وقت میں آزاد تھے تو پھر صرف مسجد جا کر نماز ادا کرنے پر کسی کھلاڑی کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔میری نظر میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہئے تھا۔ کم از کم اتنی انکوائری تو ہونی چاہیے تھی کہ واقعہ پیش آیا یا نہیں۔ اگر پیش آیا تو کس نے روکا؟ کس کی ہدایت پر روکا؟ اور کیا اس وقت کوئی ایسی پیشہ ورانہ مجبوری موجود تھی جسکی وجہ سے رضوان کو مسجد جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی تھی؟ یہ انکوائری محمد رضوان کے حق میں یا ان کیخلاف فیصلہ دینے کیلئے نہیں، بلکہ اصول واضح کرنے کیلئے ضروری ہے اور اس سوال کے جواب کیلئے کہ کیا کسی کھلاڑی کو مسجد میں نماز پڑھنے سے روکا جا سکتا ہے؟ رضوان جن پر Betting اور Gambling سے متعلق بھی الزامات سننے میں آ رہے ہیں وہ اُنکے ماضی کے بالکل برخلاف ہے۔ رضوان کا جوئے اور جوئے کی کمپنیوں کے متعلق موقف سب پر واضح ہے۔ جوئے کی کمپنیوں کے کرکٹ میں اشتہارات کے وہ بڑے مخالف ہیں جو رضوان کی کوئی حالیہ پوزیشن نہیں بلکہ برسوں سے انکے ذاتی اور پیشہ ورانہ مؤقف کا حصہ ہے۔ رضوان کے بارے میں کہا جاتا ہے ایسی کمپنیوں کی تشہیر کیلئے اُنہوں نے کروڑوں کی پیشکشیں بھی مسترد کیں جنہیں وہ براہ راست یا بالواسطہ Betting یا Gambling سے منسلک سمجھتے تھے۔ یہی نہیں، انکے کمرشل معاہدوں میں بھی انکی مذہبی اور ثقافتی اقدار کے مطابق ایسی شقیں شامل کرائی جاتی رہیں کہ Alcohol، Gambling، Betting، Casinos اور ان سے براہ راست یا بالواسطہ وابستہ تشہیر کو انکی کِٹ، لباس اور Promotional Material سے دور رکھا جائے، بلکہ انکا مؤقف یہ بھی رہا کہ ایسی Sponsorship سے حاصل ہونیوالی آمدنی سے انکا معاوضہ بھی منسلک نہ ہو۔ اب ایک طرف کسی شخص کا یہ مسلسل اور علانیہ مؤقف ہو کہ وہ Betting اور Gambling کی تشہیر سے نہ صرف دور رہتا ہے بلکہ اس مقصد کیلئے مالی مواقع بھی چھوڑتا رہا ہے، اور دوسری طرف اسی شخص پر Betting سے متعلق الزام سامنے آئے، تو کم از کم اتنا حق تو اسے ملنا چاہیے کہ اس کیخلاف الزام کے حقائق واضح طور پر سامنے رکھے جائیں۔ یہاں بھی اصول وہی ہے کہ الزام ہو تو ثبوت کیساتھ، اور اگر کوئی پیشہ ورانہ خلاف ورزی ہوئی ہے تو اسکی تاریخ، جگہ، حکم اور متعلقہ ضابطہ واضح کیا جائے۔ یہاں ایک اور دلچسپ تضاد بھی ہمارے سامنے آیا ہے۔ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر نئے ترقی پانیوالے لیفٹیننٹ جنرلز کی تصاویر اور تعارف دیکھتے ہوئے یہ خوشی ہوئی کہ ان میں اکثریت افسران مذہبی شناخت کیساتھ، داڑھیوں کیساتھ، اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر ملک کی اعلیٰ فوجی ذمہ داریوں تک پہنچے ہیں۔ ایک اسلامی معاشرے میں کسی شخص کا مذہبی تشخص اسکی پیشہ ورانہ اہلیت کے راستے میں رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے۔ پھر محمد رضوان کے معاملے میں ہمیں یہ سوال کیوں سنائی دے رہا ہے کہ انہیں مسجد جانے سے روکا گیا، وہ نہیں رکے جس پر اُن سے حکام ناخوش ہیں؟ یہ سوال میں کسی نتیجے کے طور پر نہیں بلکہ تحقیق کے مطالبے کے طور پر اٹھا رہا ہوں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم صرف گیارہ کھلاڑیوں کا نام نہیں۔ یہ ملک کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس ٹیم میں مختلف مزاج، مختلف خیالات اور مختلف مذہبی وابستگی رکھنے والے کھلاڑی ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایک چیز سب کیلئے یکساں ہونی چاہئے: پیشہ ورانہ نظم و ضبط۔ اور اسی کیساتھ ایک اور چیز بھی یکساں ہونی چاہئے اور وہ ہے جائز مذہبی عبادت کی آزادی۔ اگر کوئی کھلاڑی اپنی نمازکیلئے مسجد جانا چاہتا ہے اور اس وقت اسکی کوئی پیشہ ورانہ ذمہ داری متاثر نہیں ہو رہی، تو اسے روکنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ یہ سوال محض محمد رضوان سے متعلق نہیں، بلکہ ادارہ جاتی اصول کا سوال ہے۔ اسی لئے میری رائے میں اس معاملے کو دبانے یا خاموشی سے گزر جانے کے بجائے پاکستان کرکٹ بورڈ کو حقائق سامنے لانے چاہئیں۔ وزیراعظم کو بھی، اگر معاملہ انکے علم میں آیا ہے، یہ یقینی بنانا چاہیے کہ کسی بھی شہری کے مذہبی حق سے متعلق ایسے حساس الزام کی حقیقت واضح ہو۔ کیونکہ آخر میں معاملہ محمد رضوان کا نہیں رہتا معاملہ یہ بن جاتا ہے کہ کیا پاکستان کی نمائندگی کرنیوالا ایک مسلمان کھلاڑی، اپنی کسی پیشہ ورانہ ذمہ داری کو متاثر کیے بغیر، مسجد جا کر نماز بھی نہیں پڑھ سکتا؟ اگر جواب ’’ہاں‘‘ ہے تو اسکی وجہ قوم کو معلوم ہونی چاہیے۔ اور اگر جواب ’’نہیں‘‘ ہے تو پھر یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ رضوان کو مسجد جانے سے آخر روکا کس نے تھا۔

تازہ ترین