نیوشہ توکلیان 2009ءکے انتخابات تک فارس کے ایک ملک کی فوٹو جرنلسٹ تھی۔پھر اس کا کام فائن آرٹ میں تبدیل ہوگیا۔یہ تبدیلی اس سخت گیر قانون کی وجہ سے آئی جو 1979ءکے اسلامی انقلاب کے بعد سے وہاں نافذہے۔اس قانون کے تحت خاتون آرٹسٹ پبلک میں پرفارم کرسکتی ہے اور نہ ہی اپنے میوزک البم کو مارکیٹ کرسکتی ہے۔اس قانون نے گوگوش اور لیلی فروہر جیسی پاپ اور کلاسیکی گلوکاراؤں کو جلاوطنی پرمجبور کیا۔ہائدہ خود فارس کی ام کلثوم تھی اور انکی بہن فارس کی وردہ الجزائریہ تھی۔انقلاب سے چند ماہ قبل دونوں بہنیں خاموشی سے برطانیہ کی طرف نکل گئیں۔جو عورتیں اپنا آرٹ بچانے کیلئے جلا وطن نہ ہوسکیں وہ خاموش ہوگئیں۔نیوشہ توکلیان نے سال 2010ءمیں ان خاموشیوں کو تصویر کرنے کا فیصلہ کیا۔اس نے چھ عورتوں کا انتخاب کیا جنہیں منانے میں ڈیڑھ برس کا عرصہ لگا۔مہسا وحدت آمادہ ہوگئی تو باقیوں نے بھی ہامی بھرلی۔نیوشہ انہیں باری باری اسٹوڈیو لے گئی۔تم نے آنکھیں بند کرکے گانا ہے اور تصور کرنا ہے کہ بڑا سا کنسرٹ ہے اور سامنے ہزاروں کا مجمع ہے۔میں تمہارے احساس کو کیمرے میں قید کروں گی۔جس گلو کارہ نے بھی آنکھیں بند کر کے ہزاروں کا تصور کیا اسکی ہچکیاں بندھ گئیں۔دل ز تنہائی بہ جان آمد ،خدارا ہمدمے۔نیوشہ انہیں گلے لگاتی رہی، آنسو پونچھتی رہی اور درد کو تصویر کرتی رہی۔خاموشی کو معانی دینے کیلئے نیوشہ نے خوبصورت سی ڈی کورز بھی بنائے تھے مگر ان کورز میں سی ڈیز نہیں تھیں۔صرف بولتی ہوئی خاموشیاں تھیں۔
اب یوٹیوب پرجائیں۔پرستو احمدی لکھیں۔پہلی وڈیو کے تھمب نیل میں جو خوبصورت اور ذہین لڑکی نظر آرہی ہے اسے دیکھیں۔اسکا تعلق فارس کے صوبے مازندران سے ہے۔اسکی تعلیم فلم پروڈکشن میں ہے مگر یہ گاتی ہے۔یہ جس جگہ کھڑی ہے یہ فارس کے ملک کا سب سے قدیم مسافرخانہ ہے جسے کاروانسرائی دیر ای گچین کہتے ہیں۔اب ویڈیو پر کلک کریں۔فارسی میں جو عبارت اسکرین پر دھیرے دھیرے ابھر رہی ہے اسے محسوس کریں۔ ترجمہ کچھ یوں ہے۔میں پرستو ہوں، ایک لڑکی جو اپنے چاہنے والوں کیلئے گانا چاہتی ہے، جس سرزمین سے میں دل سے پیار تی ہوں اس کیلئے گانا ایک حق ہے جس سے میں دستبردار نہیں ہوسکتی، اس فرضی کنسرٹ میں میری آواز سنو، اس خوبصورت وطن کو تصور میں لاؤ جہاں ہماری تاریخ اور اساطیر ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔
پرستو احمدی گارہی ہے۔ایسے کنسرٹ میں گارہی ہے جس کیلئے کسی نے ٹکٹ خریدا نہ ہی انٹری کروائی۔پرستو کے چاہنے والے دالانوں میں، دکانوں میں، باورچی خانوں میں، بس کی آخری سیٹوں پر، ٹرین اسٹیشن پر، ہوائی اڈوں پر، چائے خانوں میں اور یہاں تک کہ حوزہ علمیہ کے ہاسٹلز میں بیٹھے ہوئے تھے۔محتسب، فقیہ اور واعظ بھی کوئل کی کوک سننے پر مجبور تھے۔انکے دل فطرت کی آواز کو یقیناََ ریسپانڈ کر رہے ہوں گے مگر انہوں نے اپنا آموختہ بھی نبھانا تھا۔پرستو کو گرفتار کرکے قم کی عدالت میں پیش کردیا۔قم شہر کو حوصلہ پیدا کرنا چاہیے تھا مگر وہ سینتالیس برس سے مجتہد پیدا کر رہا ہے۔قم کے محتسب نے پرستو کو ستر کوڑوں کی سزا سنا دی۔ گلوکار حسین علیزادے کی بات کو رسمی ٹویٹ سمجھا گیا مگر وہ بے بسی کا اظہار تھا۔اس نے حکومت سے مطالبہ کیا، پرستو کے حصے کے کوڑے مجھے مار دیے جائیں میں حاضر ہوں۔مگر پرستو بھی تو پرستو ہے۔اس نے پلٹ کر کہا، میرے فن کی قیمت میں خود ادا کروں گی۔
محتسب فن کاروں کے پاگل پن کو اپنی طاقت بنا سکتا ہے مگر محتسب بدقسمت ہے۔وہ چاہتا ہے کہ پانچ ہزار سالہ تہذیب رکھنے والے ملک کا تصور شعر اور موسیقی کے بغیر کرلیا جائے۔یعنی شیراز کا تصور حافظ شیرازی کے بغیر اور حافظ شیرازی کا تصور شعر کے بغیر کر لیا جائے؟ باتوں سے کیا ہوتا ہے، طریقہ بھی بتانا چاہیے کہ سنتور کے بغیر پرویز مشکاتیان کا تصور اور تار و سہہ تار کے بغیر محمد رضا لطفی کا تصور کیسے کیا جاتا ہے۔آغا جان! لوگ فارس کے ملک کوایسے یاد ہی نہیں رکھنا چاہتے جس کی کہانیوں میں دجلہ بہ دجلہ یم بہ یم والی قرۃ العین طاہرہ کا حوالہ نہ ہو۔
ابھی اس وقت تک پرستو کی پشت پر کوڑے پڑ چکے ہوں گے۔آپ کہیں گے ستر کوڑے ہی تو ہیں اس سے کیا ہوتا ہے۔کوڑا پڑنے پر مجرم کو پشیمانی ہوتی ہوگی مگر آرٹسٹ کی روح پر ایک گہرا زخم لگتا ہے۔محتسب نہیں جانتا کہ زخم اور تخلیقیت کا رشتہ کتنا گہرا ہوتا ہے۔پرستو اپنی روح پر لگنے والے گھاؤ کو محسوس کرے گی مگر پشت پر موجود سرخ نشانوں سے نظریں نہیں چرائے گی۔وہ جیسے تیسے کرکے ان لال نشانوں کی تصویر لے گی۔ہر نشان کو زوم کرکے دیکھے گی اوروہی گانا گنگنائے گی جو کاروانسرائی کے فرضی کنسرٹ میں اس نے سب سے آخر میں گایا تھا۔از خون جوانان وطن لال دمیدہ۔جوانوں کے خون سے وطن کی مٹی پر لال پھول کھلے ہیں۔وہ اس تصویر کو اس فولڈر میں محفوظ کرےگی جس پر پاسورڈ لگا ہوا ہے۔اگلے دو سال وہ اس پرکام کرےگی۔پابندی کے دو سال تخلیق کار کے لیے بہت ہوتے ہیں۔پابندی کے دو سال فلم ڈائریکٹر جعفر پناہی کو ملے تو ا س نے دو فلمیں دیدی تھیں۔یہی دو سال اب پرستو کو ملے ہیں تو دیکھیے گا کوڑے کا ہر نشان فاعلن مفاعیلن اور سارے گاما پا دھانی میں کس خوبصورتی سے ڈھلتا ہے۔
سنا ہے محتسب ان لوگوں کے پتے بھی نکلوا رہا ہے جنہوں نے یوٹیوب کے کمنٹ سیکشن میں جاکر پرپرستو احمدی کو سراہا۔بیچارا محتسب۔اس نے اپنا کام بڑھا لیا ہے۔اسے اب ان چھ عورتوں کو بھی بلانا پڑے گا جنہوں نے تہران میں نیوشہ توکلیان کے اسٹوڈیو میں آنکھیں بند کر کے کچھ گیت گائے تھے۔ان سے تفتیش کرنی پڑیگی کہ انکے خیالی کنسرٹ میں سازندے کون تھے۔مقام کیا تھا اور کنسرٹ میں موجود ہزاروں لوگ کون تھے۔ان کا سراہنے کا انداز کیا تھا۔محتسب کو مزید تفتیش کیلئے پلکوں کی دوسری جانب جانا پڑے گا۔دیکھنا پڑے گا کہ گاتے وقت ان عورتوں نے کس طرح کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔