ایران کے دارالحکومت تہران کے شمال مشرق میں واقع خفیہ جوہری تنصیب میں اسرائیلی حملے کے کئی ماہ بعد دوبارہ سرگرمیاں بحال ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹی نے نئی سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر بتایا ہے کہ من زیدائی نامی جوہری تنصیب میں گاڑیوں کی آمد و رفت اور تعمیراتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق اس تنصیب میں ستمبر اور اکتوبر کے دوران مسافر گاڑیوں اور ٹرکوں کی آمد و رفت میں اضافہ ہوا، جب کہ مارچ میں ہونے والے حملے کے بعد ملبہ ہٹانے، پہاڑی حصے کو درست کرنے اور متاثرہ مقام پر مٹی کی کھدائی کا کام بھی جاری ہے۔
واضح رہے کہ یہ تنصیب 3 مارچ 2026ء کو اسرائیلی حملے کا نشانہ بنی تھی جس میں متعدد عمارتیں تباہ ہوئیں اور زیرِ زمین حصوں کو بھی نقصان پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس مقام پر ایرانی سائنسدان جوہری ہتھیاروں سے متعلق ایک اہم حصے کی تیاری پر خفیہ طور پر کام کر رہے تھے۔
انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹی کے مطابق موجودہ سرگرمیاں ممکنہ طور پر ایران کی جانب سے حملے میں تباہ ہونے والی جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق صلاحیت دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کی نشاندہی کر سکتی ہیں، تاہم دستیاب سیٹلائٹ تصاویر سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہاں جوہری ہتھیاروں کی تیاری دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔
دوسری جانب ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے الزام کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے اور یہ مؤقف رکھتا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔