انگلینڈ اور ویلز میں نفرت پر مبنی جرائم میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد اضافہ ہوا ہے، ان میں نسلی اور مذہبی بنیادوں پر کیے جانے والے جرائم کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔
مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے مذہبی نفرت کے جرائم میں 15 فیصد اضافہ ہوا اور یہودیوں کے خلاف ایسے جرائم کی تعداد میں 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ہوم آفس کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026ء تک کے ایک سال کے دوران انگلینڈ اور ویلز میں پولیس نے نفرت پر مبنی مجموعی طور پر 146825 جرائم ریکارڈ کیے۔
مذہبی بنیادوں پر نفرت کے جرائم میں 13 فیصد اضافہ ہوا، جن کی تعداد 10067 سے بڑھ کر 11419 ہو گئی، جبکہ نسلی بنیادوں پر نفرت کے جرائم ایک بار پھر اکثریت میں رہے، ایسے جرائم کی تعداد 107926 رہی، جو گزشتہ سال کے 98890 جرائم کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہے۔
میٹروپولیٹن پولیس سروس (MPS) کے اعداد و شمار کو الگ رکھنے کے بعد کیونکہ اس کے جرائم ریکارڈ کرنے کے نظام میں تبدیلی کی گئی تھی، نسلی اور مذہبی بنیادوں پر نفرت کے جرائم کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
میٹروپولیٹن پولیس کے اعداد و شمار کو نکال کر مارچ تک کے 12 ماہ کے دوران انگلینڈ اور ویلز میں مذہبی بنیادوں پر نفرت کے 8214 جرائم ریکارڈ کیے گئے، مارچ 2012ء کے سال سے ریکارڈ رکھے جانے کے بعد یہ سب سے زیادہ سالانہ تعداد ہے۔
اسی طرح تازہ ترین سال کے دوران میٹروپولیٹن پولیس کے اعداد و شمار کو خارج کرنے کے بعد نسلی بنیادوں پر نفرت کے 90378 جرائم ریکارڈ کیے گئے، جو 2012ء کے بعد سے اب تک کی بلند ترین تعداد ہے۔