امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن مشرقِ وسطیٰ میں 322 روزہ تعیناتی کے بعد کیلیفورنیا واپس پہنچ گیا، جہاز کا عملہ مسلسل 265 دن سمندر میں رہا اور ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ میں حصہ لیتا رہا۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکا واپس آنے والے اہلکاروں نے اہلِ خانہ سے ملاقات اور تازہ کھانا کھانے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔
ایک اہلکار کی اہلیہ نے بتایا ہے کہ میرے شوہر نے جہاز پر خوراک کی قلت کا ذکر کیا تھا اور آج وہ 10 ماہ بعد اپنی 4 سالہ بیٹی سے مل رہے ہیں۔
واضح رہے کہ طویل تعیناتی کے دوران جہاز پر خوراک اور نہانے کی سہولتوں کی قلت، خراب حالات اور عملے کے بعض ارکان کی خودکشی کی کوششوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
متعدد میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ طویل تعیناتی کے سبب امریکی بحریہ کی جنگی تیاری اور اہلکاروں کی ذہنی صحت صحیح نہیں۔
اس پر امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے عملے کی تعریف کی تھی جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاز کے خراب حالات سے متعلق خبروں کو جعلی قرار دیا تھا۔
دوسری جانب پیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے مطابق 65 فیصد امریکی ایران جنگ سے متعلق ٹرمپ کی حکمتِ عملی سے ناخوش ہیں جبکہ 33 فیصد مطمئن ہیں، جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہونے سے مہنگائی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔