’’اگر یہ دہشت گرد ہمارے حصے میں نہ آئے ہوتے تو وہ نیویارک لندن اور خدا جانے مشرق بعید کی سڑکوں پر کیا کیا کر رہے ہوتے‘‘یہ میں نہیں کہہ رہا یہ انکشاف پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے 25ستمبر کو اقوام متحدہ کی81ویں جنرل (UNGA) میں کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس بار تیسری مرتبہ جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کچھ جنگ کچھ امن کا ذکر کیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے انڈیا سے چار روزہ جنگ جیت لی ہے اور اب ہم اپنے علاقے میں امن حاصل کرنا چاہتے ہیں، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور تاریخی واقعات کا حوالہ بشمول کشمیر یوں کےحق خود ارادیت کا یہ سلسلہ پاکستانی رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تقاریر سے چلتا ہوا ذوالفقار علی بھٹو کے 1965ء کے خطاب سے لے کر عمران خان کی متنازعہ تقاریر تک پھیلا ہوا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی تقریر میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’امن کا آدمی‘ قرار دیتے ہوئے انہیں نوبل امن انعام کیلئے نامزد کیا ۔
شہباز شریف سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کے 1965 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر چکے تھے2015ءاور 2016ءمیں نواز شریف کے خطاب کو میں مختصر اپنے حساب سے عرض کروں گا ۔بھٹو نے جنرل اسمبلی میں کشمیر تنازع کئی بار اجاگر کیا، وزیراعظم نواز شریف نے 2016ءمیں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امن کے فروغ کی بات کی انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں لڑائی جھگڑا اور جنگ ہمارا مقدر نہیں ہونی چاہیے پاکستان بھارت کے ساتھ امن سے رہنا چاہتا ہے ۔
اُڑی کے حملے کے دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں نواز شریف نے کشمیر کا بھی ذکر کیا انہوں نے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا اور اقوام متحدہ سے حقائق جاننے کے مشن کا مطالبہ بھی کیا۔ سابق وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ مکالمے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی ہی میں بھارت نے پاکستان کے جواب میں پاکستان کے الزامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جواب دیا اس وقت کی وزیر خارجہ ششما سوراج نے اپنی جوابی تقریر میں کہا کہ میں صرف یہ کہہ سکتی ہوں کہ جو لوگ دوسروں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگا رہے ہیں بہتر ہوگا کہ وہ خود احتسابی کریں اور دیکھیں کہ وہ اپنے ملک بشمول بلوچستان میں کون کون سی سنگین زیادتیاں کر رہے ہیں ہم نے مذاکرات کیلئے کوئی پیشگی شرط نہیں رکھی جو پاکستان کو قبول نہ ہو۔ کیا ہم نے پرائم منسٹر نواز شریف کو اپنی حکومت کی حلف برداری کی تقریب کیلئے دعوت دینے سے پہلے کوئی شرط پیشگی عائد کی تھی؟
ہم نے مسائل کو حالات کی بنیاد پر نہیں بلکہ دوستی کی بنیاد پر حل کرنے کی پہل اور کوشش کی،ایک برس پہلے 2015ءکی جنرل اسمبلی میں نواز شریف نےعہدہ سنبھالتے ہی بھارت سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ جب میں نے تیسری بار وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا تھا تو میری اولین ترجیحات میں سے ایک بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا بھی تھا۔
انہوں نے یہ تجویز بھی دی تھی کہ پاکستان اور بھارت کشمیر میں ایل او سی پر مکمل جنگ بندی کے 2003ءکے معاہدے کو رسمی شکل دیں اور اس کا احترام کریں، دوسری تجویز پرائم منسٹر کی یہ تھی کہ پاکستان اور انڈیا اس بات کی تصدیق کریں کہ وہ کسی بھی صورت میں طاقت کا استعمال نہیں کریں گے بعد ازاں انہوں نے تیسری تجویز میں یہ کہا کہ کشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے کے اقدامات کیے جائیں اور چوتھی اور آخری تجویز یہ پیش کی کہ سیاچن ،جو دنیا کا سب سے بلند میدان جنگ ہے، سے غیر مشروط انخلاکیا جائے۔ اس منصوبے کو کبھی عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا کہ ایک برس کے دوران ہی اُڑی پر جنگجوؤں نے حملہ کر دیا۔
اس تقریر کے تین ماہ بعد دسمبر 2015ءمیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے افغانستان سے واپس انڈیا جاتے ہوئے لاہور میں ایک غیر سرکاری وزٹ کیا اور نواز شریف کی پوتی کی شادی میں شرکت کی جسکی دعوت وزیراعظم نواز شریف نے انہیں دی تھی یہ بھارت کےکسی وزیراعظم کا پاکستان کا 10 سال سے زیادہ عرصے میں پہلا دورہ تھا جو نواز شریف کے مرہونِ منت تھا ،نواز شریف نے ذاتی طور پر انتہائی گرم جوشی سے ہوائی اڈے پر مودی کو خوش آمدید کیا۔
اس سے قبل 1998ءمیں بھی جب بھارت اور پاکستان جوہری ہتھیار بنا چکے تھے اور جنوبی ایشیا پر جنگ کا دھواں اپنا سیاہ اور منحوس سایہ ڈال چکا تھا نواز شریف نے مزید کہا تھا کہ ہمارا پڑوسی بھارت ہمیشہ سے جوہری ہتھیاروں کو طاقت کا منبع اور سلامتی کونسل میں مستقل نشست کی چابی سمجھتا ہے 30برس پہلے ہم نے دنیا کو خبردار کیا تھا کہ بھارت جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے مگر ہماری وارننگ کو نظر انداز کر دیا گیا، آخر وہی ہوا۔ اس کے جواب میں ہم نے بھی جوہری تجربات کیے جو صرف اپنے دفاع کیلئے ہیں پھر جب بھارتی وزیراعظم واجپائی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا تو انہوں نے بھارت کی جوہری تخفیف اسلحہ کے عزم کا خود ہی ذکر کیا لیکن دانستہ پاکستان کے جوہری تجربات کا ذکر نہ کیا کیونکہ دونوں فریق اس بات پر متفق تھے کہ ستمبر 1999تک’’ تجرباتی پابندی معاہدہ‘‘ (CTBT) پر دستخط کر دیے جائیں گےلیکن یہ خواہش کبھی پوری نہ ہو سکی کہ اس کے درمیان 1999ءمیں کارگل کی جنگ آ گئی، یہ جنگ کس نے شروع کی اور کیوں شروع کی میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچئے۔