• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے سمیت 10000 افراد زیرِ حراست

---فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا 

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج سے قبل پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو حراست میں لے لیا۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے مطابق ابھیجیت دیپکے ممبئی سے نئی دہلی پہنچے تو ایئر پورٹ پر پولیس اہلکاروں نے ان سے ملاقات کی، پولیس نے ابھیجیت دیپکے کو جنتر منتر پر احتجاج منسوخ کرنے کو کہا۔

دوسری جانب بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر نوجوانوں کی سیاسی تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے احتجاج سے قبل ہزاروں پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق حکام نے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے جبکہ 57 میٹرو اسٹیشن بند، کئی طویل فاصلے کی ٹرینیں منسوخ اور احتجاجی علاقے کے 4 کلو میٹر کے دائرے میں موبائل انٹرنیٹ معطل کر دیا گیا۔ 

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے صورتِ حال کے پیشِ نظر بعض ٹرینیں چلانے کی ہدایت کی ہے۔

کاکروچ تحریک کا دعویٰ ہے کہ ملک بھر میں احتجاج سے قبل ہی کم از کم 10,000 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں پر استعفیٰ دیں جس کے نتیجے میں 130 ملین سے زائد نام خارج کیے گئے تھے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی اور الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ نظرِثانی کا مقصد دہرے اندراج اور نااہل ووٹروں کے نام ختم کرنا تھا جبکہ ناقدین کے مطابق اس عمل سے اقلیتی اور پسماندہ برادریاں متاثر ہوئیں۔

بھارتی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتجاج میں شدت انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ کے بعد آئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے 2 نائب نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران نظرِ ثانی پر کم از کم 14 مرتبہ تحفظات ظاہر کیے۔

واضح رہے کہ بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک مئی میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب چیف جسٹس سوریا کانت نے بے روزگار نوجوانوں کو ’کاکروچ‘ کہا تھا۔

جولائی کے احتجاج کے بعد امتحانی پرچوں کے لیک کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم مستعفی ہو گئے تھے جبکہ حالیہ مظاہرے 2027ء کے آغاز میں ہونے والے متعدد ریاستی انتخابات سے قبل ہو رہے ہیں جن میں اتر پردیش بھی شامل ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید