صدر آصف علی زرداری کی ہیٹ ٹرک مکمل ہوگئی۔ 25فروری 2009ء کو پنجاب میں گورنر راج لگانے کا فیصلہ ہوا تو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے بھجوائی گئی سمری پر صدر آصف زرداری نے دستخط کئے۔14جنوری 2013ء کو بلوچستان میں گورنر راج لگانے کا فیصلہ ہوا تو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی ایڈوائس پر صدر آصف زرداری نے مہر تصدیق ثبت کی اور اب 11اکتوبر 2026ء کو خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کاموقع آیا تو وزیراعظم شہبازشریف کی طرف سے بھجوائی گئی سمری پر صدر آصف زرداری نے دستخط کئے۔یوںآصف زرداری کی گورنر راج لگانے کی ہیٹ ٹرک مکمل ہوگئی ۔کچھ دوستوں کو توقع تھی کہ پیپلزپارٹی جمہوری مزاج کی حامل جماعت ہے اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی ہرممکن مخالفت کریگی مگر تاریخ سے شناسائی کے پیش نظر میں یہ حقائق مسلسل سامنے لاتا رہا کہ پاکستان میں پیپلز پارٹی کو ہی سب سے زیادہ گورنر راج لگانے کا اعزاز حاصل ہے اور اگر ایک شخصیت کی بات کریں تو آصف زرداری سب پر بھاری نظر آتے ہیں ۔پاکستان میں اب تک 16مرتبہ گورنر راج کا ہتھوڑا برسایا جاچکا ہے ۔پنجاب اور سندھ میں تین تین مرتبہ جمہوریت پر شب خون مارا گیا،مشرقی پاکستان میں دو بار جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں چار چار بار گورنر راج لگ چکا ہے۔ 1949ء میں پہلا گورنر راج پنجاب میں تب لگا جب وزیراعلیٰ نواب افتخار حسین ممدوٹ کی حکومت برطرف کی گئی ۔گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین اور وزیراعظم نواب لیاقت علی خان کے دور میں اختیارات سر فرانسز موڈی کو سونپ دیئے گئے۔بعد ازاں جب سردا ر عبدالرب نشتر پنجاب کے گورنر بنے تو یہ اختیارات انکو منتقل ہوگئے یہاں تک کہ مارچ 1951ء میں انتخابات ہوئے اور ممتاز دولتانہ وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے۔30دسمبر 1951ء کو سندھ کی باری آئی اوروزیراعلیٰ ایم اے کھوڑوکوکرپشن کے الزامات کے تحت گھر بھیج دیا گیا۔مشرقی پاکستان میں انتخابات ہوئے تویونائیٹڈ فرنٹ نے مسلم لیگ کے مقابلے میںواضح کامیابی حاصل کی مگر گورنر جنرل غلام محمد نے30مئی 1954ء کووزیراعلیٰ اے کے فضل الحق کی حکومت برطرف کرکے گورنر راج لگادیا۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد 21اپریل 1972ء کو عبوری آئین کے تحت ذوالفقار علی بھٹو نے بطور صدر حلف لیا اور بلوچستان میں غوث بخش بزنجو گورنر جبکہ سردار عطااللہ مینگل وزیراعلیٰ بن گئے۔فروری 1973ء میں عراقی سفارتخانے سے اسلحہ کی کھیپ برآمد ہونے پر بلوچستان حکومت برطرف کرکے گورنر راج لگادیا گیا اور نواب اکبر بگٹی نئے گورنر بنائے گئے ۔احتجاجاً صوبہ سرحد یعنی موجودہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ مفتی محمود نے استعفیٰ دیدیاجس پر 30دن کیلئے ’’صدر راج‘‘نافذ کردیا گیا۔ارباب سکندر کو گھر بھیج کر صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اسلم خٹک کو گورنر بنادیا گیا۔ 29اپریل 1973ء کو سردار عنایت اللہ خان وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے ۔24مئی 1974ء کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی میجر جنرل ریٹائرڈ سید غواث کو صوبے کا گورنر مقرر کردیا اور 17فروری 1975ء کو وزیراعلیٰ سردار عنایت اللہ گنڈاپور کی حکومت برطرف کرکے 90دن کیلئے گورنر راج نافذ کردیا گیا۔خیبرپختونخوا میں دوسری بار گورنر راج بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں تب لگا جب 25فروری 1994ء کو وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر فاروق لغاری نے وزیراعلیٰ پیر صابر شاہ کی حکومت برطرف کرکے گورنر راج نافذ کردیا اور اختیارات میجر جنر ل ریٹائرڈ خورشید علی خان کے سپرد کردیئے گئے ۔یہ گورنر راج اپریل 1994ء میں تب ختم ہوا جب آفتاب احمد خان شیر پاؤ وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے ۔مسلم لیگ ن نے ایک بار گورنر راج لگایا۔کراچی میں حکیم سعید کے قتل کے بعد سندھ میں حالات خراب ہوئے تو وزیراعظم نوازشریف کی ایڈوائس پر 30اکتوبر 1998ء کو صدر رفیق تارڑ نے آئین کے آرٹیکل 232کے تحت سندھ میں گورنر راج نافذ کیا ۔2016ء میں وفاقی حکومت کو خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کی تجویز ضرور دی گئی لیکن اس پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا۔یعنی پیپلز پارٹی کے دور میں چار مرتبہ گورنر راج لگایا گیا اور آصف علی زرداری نے بطور صدر تین مرتبہ گورنر راج نافذ کرنے کی سمری پر دستخط کئے۔
پاکستان کی تاریخ میں اکتوبر کا مہینہ جمہوریت کیلئے اچھا نہیں رہا ۔16اکتوبر 1951ء کو پاکستان کے پہلے وزیراعظم نواب لیاقت علی خان کو قتل کردیا گیا۔24اکتوبر 1954ء کو گورنر جنرل غلام محمد نے پہلی دستور ساز اسمبلی کو برطرف کرکے جمہوریت پر شب خون مارا۔7اکتوبر 1958ء کو پاکستان کے آئین کو سبوتاژ کرکے پہلا مارشل لا لگایا گیا۔27اکتوبر 1958ء کو جنرل ایوب خان صدر اسکندر مرزا کو گھر بھیج کر پاکستان کے بلاشرکت غیرے حکمران بن گئے ۔12اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے عنان اقتدار پر قبضہ کرکے جمہوریت کی بساط لپیٹ دی اور اب بظاہر جمہوری دورِ حکومت میں جب مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی شریک اقتدار ہیں تو 11اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگادیا گیا ہے تاکہ 12اکتوبر کو یوم سیاہ منانے کا تکلف نہ کرنا پڑے ۔شایدہم نے تاریخ سے ایک ہی سبق سیکھا ہے کہ ماضی سے کچھ نہیں سیکھنا۔ انگریزی کا مشہور مقولہ ہے کہ اگر آپ کے ہاتھ میں ہتھوڑا ہو تو ہر مسئلہ کیل نظر آتا ہے ۔پاکستان کے آئین میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی گنجائش ضرور ہے لیکن ماضی میں اسکا استعمال ہمیشہ سیاسی ضروریات کے تحت کیا گیا ہے ۔تکلف برطرف،جنرل پرویز مشرف نے بھی 3نومبر 2007ء کو ایمرجنسی نافذ کی تھی لیکن اس کے بعد کیا ہوا ،اقتدار اور اختیار انکی ہتھیلی سے ریت کی طرح پھسلتا چلا گیا ۔آئین میں تو اب دو ماہ کیلئے ایمرجنسی لگائی جاسکتی ہے اور اس میں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک اضافہ کیا جاسکتا ہے لیکن بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جس طرح 14اگست 2023ء میں تین ماہ کیلئے آنے والی نگران حکومتیں فروری 2024ء تک قائم و دائم رہیں ،اسی طرح یہ گورنر راج بھی اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے تک برقرار رکھا جائے گا۔