• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

PTI حکومت بچانے اور عمران کیلئے ریلیف حاصل کرنے کا موقع گنوا بیٹھی

اسلام آباد (انصار عباسی) خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو بڑا سیاسی دھچکا پہنچا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ پارٹی اپنی صوبائی حکومت بچانے اور جیل میں قید اپنے بانی عمران خان کیلئے اہم رعایتیں حاصل کرنے کا موقع گنوا بیٹھی ہے۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع تسلیم کرتے ہیں کہ حالیہ مذاکرات میں عمران خان سے ملاقات، ان کی بہنوں کی فوری رہائی، سابق وزیراعظم سے ملاقاتوں کا معمول بحال کرنے اور ڈاکٹروں کی سفارش پر اسپتال میں داخلے سمیت ان کے طبی علاج کے انتظامات کا امکان موجود تھا۔ ان معاملات پر یقین دہانیاں زیرِ بحث آئیں، لیکن حتمی معاہدہ طے نہ پانے کے باعث متوقع رعایتوں میں سے کوئی بھی عملی شکل اختیار نہ کر سکی۔ مذاکرات کی ناکامی کے نتیجے میں پی ٹی آئی وفاقی حکومت کے ساتھ محاذ آرائی کم کرنے اور اپنا سیاسی گڑھ سمجھے جانے والے صوبے میں اپنی حکومت برقرار رکھنے کا موقع بھی کھو بیٹھی۔ بعض حلقے دو شخصیات محمود اچکزئی اور سہیل آفریدی کے کردار کو موجودہ صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ ماننے سے قبل عمران خان سے ملاقات پر اچکزئی کا اصرار مذاکرات میں ایک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آیا۔ اگرچہ پی ٹی آئی کے بانی تک رسائی پارٹی کے مطالبات کا مرکزی پوائنٹ تھی، لیکن ملاقات کو پیشگی شرط قرار دینے کے اصرار نے فوری تصفیے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا دیا۔ سہیل آفریدی کے محاذ آرائی پر مبنی موقف نے بھی کشیدگی میں اضافے میں کردار ادا کیا۔ ان کے سخت بیانات، خصوصاً انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی کیخلاف اُن کی باتیں ایسے وقت میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بنی جب مذاکرات بحران سے نکلنے کا ممکنہ راستہ فراہم کر رہے تھے۔ انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر اختلاف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تنازع کا ایک بڑا پوائنٹ رہا۔ وفاقی حکومت، بشمول سکیورٹی اداروں، نے خیبر پختونخوا کی انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ عسکریت پسندی کیخلاف کارروائیوں میں مناسب تعاون کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کے موقف کی مخالفت کی اور ان اقدامات کی مزاحمت کی جنہیں وفاق صوبائی خودمختاری میں مداخلت تصور کرتا تھا۔ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے تو پی ٹی آئی عمران خان اور ان کے خاندان کو براہِ راست متاثر کرنے والے معاملات پر پیش رفت حاصل کر سکتی تھی اور ساتھ ہی صوبائی انتظامیہ پر اپنا کنٹرول بھی برقرار رکھ سکتی تھی، لیکن اس کے بجائے، معاہدہ طے نہ پانے کے نتیجے میں گورنر راج نافذ ہو گیا، جس سے پی ٹی آئی حکومتی طاقت کا اپنا سب سے اہم باقی ماندہ مرکز بھی کھو بیٹھی۔ اس پیشرفت نے پارٹی کی مذاکرات کی حکمتِ عملی پر سوالات اٹھا دیے ہیں، نیز یہ سوال بھی پیدا ہوا ہے کہ آیا مذاکرات کی ترتیب اور شرائط کے معاملے میں زیادہ لچک اختیار کی جاتی تو مختلف نتائج حاصل کیے جا سکتے تھے۔ پی ٹی آئی کیلئے اس کے نتائج صوبائی حکومت سے محرومی تک محدود نہیں۔ وفاقی سطح پر اقتدار سے محروم ہونے کے بعد سے خیبر پختونخوا پی ٹی آئی کی سیاسی طاقت اور تنظیمی موجودگی کا مرکزی محور رہا ہے۔ صوبائی اقتدار سے محرومی ایسے وقت میں پارٹی کی ادارہ جاتی گنجائش مزید محدود کرتی ہے جب اس کی سیاست کا محور عمران خان کی قید اور ریلیف کے مطالبات ہیں۔ یوں ناکام مذاکرات نے پارٹی کو ایک بڑے سیاسی دھچکے سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ وہ زیرِ بحث رعایتیں بھی حاصل نہیں کر سکی۔ جو معاملہ عمران خان کو ریلیف دینے اور خیبر پختونخوا حکومت برقرار رکھنے کے معاہدے کی صورت اختیار کر سکتا تھا، اس کا اختتام پارٹی کے سب سے اہم صوبائی گڑھ سے محرومی پر ہوا۔

اہم خبریں سے مزید