صحافت جدید ریاست کا اہم ترین تمدنی ادارہ ہے۔ دنیا کی کوئی حکومت آزاد اور غیر جانب دار صحافت کو پسند نہیں کرتی۔ صحافت اپنی ساخت میں حکومتی اختیار کے دائرہ کار میں نہیں آتی۔ اسکا بنیادی کام حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھنا اور اس کے اقدامات کا عوام کے معیار زندگی پر اثرات کی نشان دہی کرنا ہے۔ درحقیقت کسی ملک میں صحافت کی آزادی اور حکومت کی شفافیت میں براہ راست تعلق ہے۔ صحافت کی آزادی حکومت کی جوابدہی کا معیار متعین کرتی ہے۔ برصغیر میں صحافت کی تاریخ اٹھارہویں صدی کے اواخر میں شروع ہوئی تاہم بیسویں صدی میں ہندوستان کی تحریک آزادی کی ابتدائی کوششوں نیز عالمی جنگ کے باعث صحافت کا کردار بڑی حد تک تبدیل ہو گیا۔ نوآبادیاتی ہندوستان کے ابتدائی اخبارات سرکاری اعلامیے کا درجہ رکھتے تھے۔ غیر ملکی حکمرانوں کو صحافت کا یہ اسفل ترین درجہ بھی قبول نہیں تھا اور گاہے گاہے اس پر پابندیاں عائد کی جاتی رہیں لیکن بیسویں صدی میں انڈین نیشنل کانگریس، ہوم رول لیگ اور انفرادی آزادی پسند گروہوں سے نوآبادیاتی حکومت کو اس قدر کوفت ہوئی کہ جنگ ختم ہوتے ہی مارچ 1919 میں امپریل لیجسلیٹو کونسل میں رولٹ ایکٹ متعارف کرایا گیا۔ اس قانون کے تحت حکومت کو سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں لگانے، شہری آزادیاں کچلنے نیز صحافتی اداروں پر کڑی بندشیں عائد کرنے کا اختیار تجویز کیا گیا تھا۔ قائداعظم تحریک آزادی کے اہم رہنما ہونے کے علاوہ 1913 ءمیں پارسی رہنما فیروز شا مہتا کے قائم کردہ بمبئے کرانیکل کے بورڈ آف گورنر کے سربراہ بھی تھے۔ جناح اس اخبار کو تحریک آزادی کا مورچہ سمجھتے تھے چنانچہ انہوں نے لیجسلیٹو کونسل میں اصول قانون اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی رولٹ ایکٹ کی زبردست مخالفت کرتے ہوئے اسے کالا قانون قرار دیا ۔ اسی رولٹ ایکٹ کی مزاحمت کرتے ہوئے13اپریل 1919کو امرتسر میں جلیانوالہ باغ کا سانحہ پیش آیا تھا۔جناح کی مخالفت کے باوجود لیجسلیٹو کونسل نے 28مارچ 1919 ءکو یہ قانون منظور کر لیا تو جناح نے وائسرائے کے نام اپنا استعفیٰ بھیجتے ہوئے رولٹ ایکٹ کو کالا قانون قرار دیا۔ تب اس اخبار کا مدیر بمبئے کرانیکل کا تجربہ کار صحافی بنجمن ہارنی مین تھا۔ جناح بمبئے کرانیکل کے بورڈ آف گورنرز کے سربراہ اور مدیر بنجمن ہارنی مین کے قریبی ساتھی تھے جو ہندوستان کی تحریک آزادی کا علمبردار اور ہوم رول لیگ کا اہم رہنما تھا۔ محمد علی جناح بمبئے کرانیکل کے وکیل کی حیثیت سے عدالت میں بھی پیش ہوئے اور اپنی سیاسی زندگی میں غالباً پہلی اور آخری بار احتجاج کی قیادت کرتے ہوئے پولیس کے لاٹھی چارج کا مقابلہ بھی کیا۔ جناح نے نہ صرف یہ مقدمہ جیت لیا بلکہ ان کی دلیرانہ قیادت کے اعتراف میں بمبئی کے شہریوں نے انکے اعزاز میں65ہزار پاؤنڈ کے صرفے سے ایک یادگاری عمارت بھی تعمیر کی جو آج بھی بمبئی کی لیمنگٹن روڈ پر موجود ہے۔ بمبئی کے تب گورنر لارڈ ولنگٹن سے یہی اختلاف تیس کی دہائی میں لارڈ ولنگٹن کے بطور وائسرائے تعینات ہونے کے بعد جناح کے عارضی طور پر برطانیہ منتقل ہونے کا سبب بنا۔ قیام پاکستان کے بعد 1947ء میں انڈین سول سروس کے ایک جونیئر اہلکار آغا شاہی پبلک سیفٹی آرڈیننس کا مسودہ لے کر گورنر جنرل محمد علی جناح کے پاس پہنچے تو قائداعظم نے یہ کہتے ہوئے اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ’میں زندگی بھر ان کالے قوانین کے خلاف لڑتا رہا ہوں اور اب تم مجھ سے اس قانون پر دستخط کروانا چاہتے ہو۔ میں اس کی بھرپور مزاحمت کروںگا ‘۔ تاہم جناح کی وفات کے ایک ماہ بعد انکے جانشین خواجہ ناظم الدین نے اکتوبر 1948ء میں اس قانون کو پبلک سیفٹی ایکٹ کا نام دے کر منظور کر لیا۔ اسی قانون کے تحت مئی 1949ء میں پاکستان کے قدیم ترین اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ پر 13مئی 1949ءکو پابندی عائد کی گئی۔سو ل ملٹری گزٹ نے دہلی میں اپنے نمائندے کی دی ہوئی خبر شائع کی تھی کہ بھارت اور پاکستان میں جموں و کشمیر کی تقسیم کے سمجھوتے کا فارمولا زیر بحث ہے اور اس سلسلے میں جلد ہی معاہدہ ہونے کی توقع ہے۔ حکومت پاکستان نے اس خبر کی تردید کر دی۔ گزٹ نے اگلے روز معذرت کرتے ہوئے صفحہ اول پر اس خبر کی تردیدشائع کی اور مذکورہ نمائندے کو برطرف بھی کر دیا لیکن حکومت نے تابع فرمان اخبارات کی مدد سے گزٹ کے خلاف نوائے وقت کی قیادت میں ایک زوردار مہم شروع کر دی ۔ مغربی پاکستان کے سولہ اخبارات میں 6 مئی 1949 کو ’غداری ‘ کے عنوان سے ایک مشترکہ اداریہ شائع کیا گیا جس میں سول اینڈ ملٹری گزٹ پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔ مشرقی پاکستان کے کسی اخبار نے اس شرمناک کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ صرف امروز کے مدیر چراغ حسن حسرت نے یہ اداریہ شائع کرنے سے انکار کیا لیکن انکی مزاحمت بھی چوبیس گھنٹے میں دم توڑ گئی۔ 7مئی1949ءکو پریس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈان کے الطاف حسین ، نوائے وقت کے حمید نظامی اور فیض احمد فیض بھی شامل تھے۔ گزٹ کے مدیر ایف بی بسٹن کی معذرت کسی نے قبول نہیں کی اور حکومت نے چھ مہینے کیلئے اخباربند کر دیا۔ یہ اخبار اس پابندی سے کبھی سنبھل نہیں سکا اور بالآخر 2ستمبر1963ء میں ہمیشہ کیلئے بند ہو گیا۔ سول اینڈ ملٹری گزٹ کے اس انجام سے چار برس قبل 18اپریل 1959ءکو ایوب حکومت کے دو وزیر جنرل برکی اور ذوالفقار علی بھٹو لاہور پر حملہ آور ہوئے اور امروز ، پاکستان ٹائمز اور ہفت روزہ لیل و نہار کو سرکاری تحویل میں لے لیا۔ پاکستان ٹائمز کے مدیر مظہر علی خان فوراً مستعفی ہو گئے چنانچہ قدرت اللہ شہاب نے اس روز کا اداریہ ’نیا صفحہ‘ کے عنوان سے تحریر کیا۔ یہ نیا صفحہ دراصل صحافت اور ریاست میں کشمکش کی اس کتاب کا آخری صفحہ تھا جو 1919ءمیں شروع ہوئی تھی ۔ بعد ازاں قدرت اللہ شہاب نے ’شہاب نامہ‘ میں یہ اداریہ لکھنے پر معذرت خواہانہ بیانِ صفائی لکھا لیکن سرکاری ملازمت کسی غیر قانونی حکم کا جواز نہیں ہوتی۔ 1942ءمیںحیدر آباد میں تعینات بیس سالہ فلائنگ آفیسر اصغر خان نے بغاوت پر آمادہ حروں کے ایک قافلےپر فائرنگ کا غیر آئینی حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ سرکاری قبضے میں آنیوالے اخبار حکومتی اشارے کے پابند ہو گئے اور آزادی صحافت کا باب بھی لپیٹ دیا گیا۔