امریکی وفاقی تحقیقاتی اداروں نے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس الہان عمر کا موبائل فون ضبط کر لیا جبکہ ان کے اہلِ خانہ سمیت متعدد افراد کو عدالتی سمن جاری کر دیے گئے ہیں۔
برطانوی اخبار گارجین کے مطابق حکام مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی رکنِ کانگریس کی امیگریشن دستاویزات میں ممکنہ دھوکا دہی کے معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
تحقیقات سے واقف ایک شخص کے مطابق مینیسوٹا میں قائم جیوری کی تحقیقات کے سلسلے میں 12 سے زائد عدالتی سمن جاری کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ وفاقی اہلکاروں نے پیر کے روز واشنگٹن ڈی سی میں الہان عمر کے گھر کی تلاشی بھی لی تھی، یہ کارروائی امریکی وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے قبل کی گئی ہے جن میں الہان عمر دوبارہ انتخاب لڑ رہی ہیں۔
امریکی وزیر برائے داخلی سلامتی مارک وین ملن نے اشارہ دیا ہے کہ تفتیش کار الہان عمر کے اہلِ خانہ کی امیگریشن دستاویزات سے متعلق ممکنہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی اٹارنی جینین پیرو نے کہا ہے کہ حکام الہان عمر کے مالی گوشواروں سے متعلق معاملات کی بھی جانچ کر رہے ہیں۔
جینین پیرو نے فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی جرم ثابت ہوا تو الہان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
الہان عمر نے اس کارروائی کو سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ 10 سال سے میرے خلاف بے بنیاد الزامات اور کردار کشی کی مہم چلا رہے ہیں اور حالیہ کارروائی سیاسی دباؤ ڈالنے کی مہم میں مزید شدت ہے۔
الہان عمر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ میں خاموش نہیں رہوں گی۔