ایک دیوار اور چار برلن۔یہ الفاظ آج کسی عجائبات والی کہانی کا عنوان معلوم ہوتے ہیں۔لیکن دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کےبعد عشروں تک یہی الفاظ ایسی حقیقت بنے رہے جس سے خاندانوں کی تقسیم سے لیکر انسانی جانوں کے زیاں تک کئی المیے وابستہ تھے۔عالمی طاقتوں کی کشمکش، مقامی لوگوں کی سماجی وجذباتی کیفیات کی تفصیل بھی شامل تھی اور بہت سے ان کہے واقعات بھی۔3۔اکتوبر2026ء کو جب جرمن قوم اپنا یوم اتحادمنا رہی تھی تو نئے دور کے نئے تقاضوں کے مطابق امکانات کے خاکوں پر گفتگو کے ساتھ ساتھ پرانی نسل کے وہ مشاہدے بھی یقیناً سن رہی ہوگی جن کو سامنے رکھ کر اگلی منزلوں کا سفر آسان تر بنایا جاسکتا ہے۔ 3۔اکتوبر1990وہ دن تھا جب مشرقی اور مغربی جرمنی کے درمیان قائم سیاسی تقسیم ختم ہوئی اور متحدہ جرمنی نے ایک نئے سیاسی دور میں قدم رکھا۔ لیکن اس اتحاد کی کہانی صرف ایک سیاسی معاہدے یا ایک تاریخ کی داستان نہیں۔ اپنے جلو میں بہت کچھ رکھتی ہے۔ داستان کا آغاز اس وقت سے ہوتا ہے جب ایڈولف ہٹلر کی قیادت میں نازی پارٹی نے جرمنی میں اقتدار حاصل کیا، اور قوم پرستی کو جارحانہ اور توسیع پسندانہ رنگ دیا۔1939میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو دیکھتے ہی دیکھتے یورپ کابڑا حصہ اس کی لپیٹ میں آگیا۔ بعد ازاں یہ جنگ یورپ سے نکل کر شمالی افریقہ اور ایشیا وبحرالکاہل تک پھیل گئی۔جرمنی نے بڑے پیمانے پر فوجی پیش قدمی کی۔ لیکن بالآخر جنگ کا رخ تبدیل ہوا اور جرمنی ایک تباہ حال ملک کے طور پر جنگ سے باہر آیا۔
جنگ کے خاتمے کے بعد فاتح اتحادی طاقتوں (یعنی امریکہ، سوویت یونین اور فرانس) نے جرمنی کو اپنے قبضے کے چار علاقوں میں تقسیم کردیا۔ دارالحکومت برلن کا پورا شہر اگرچہ سوویت قبضے کے علاقے میں واقع تھا مگر اتحادی طاقتوں نے اسے الگ الگ چار انتظامی حصوں میں بانٹ دیا۔ شہر ایک ہی تھا تاہم انتظامی اعتبار سے چار برلن بن گئے۔ بعد میں یہ تقسیم مشرقی اور مغربی برلن میں کیسے تبدیل ہوئی؟ وہ دیوار کیسے اٹھی جو کئی دہائیوں تک سرد جنگ کی علامت بنی رہی؟ اس کی اپنی کہانی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کےفوراً بعد دنیا ایک نئی کشمکش سے دوچار ہوئی۔اتحادی قوتیں اس طرح آمنے سامنے آئیں کہ ایک طرف امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی تھے۔ دوسری طرف سوویت یونین تھی۔ سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام کے درمیان نظریاتی اور سیاسی رسہ کشی سرد جنگ کی صورت اختیار کر گئی۔ جرمنی اس نئی عالمی صورتحال کے عین درمیان میں تھا۔1949ء میں مغربی قبضے کے علاقوںسے وفاقی جمہوریہ جرمنی قائم ہوا (جسے عام طور پر مغربی جرمنی کہا جاتا ہے)۔
اسی سال سوویت یونین کے زیر تسلط علاقے میں جرمن ڈیمو کریٹک ری پبلک ( یعنی مشرقی جرمنی) کا قیام عمل میں آگیا۔ یوں جرمن عوام ایک ہی قوم ہونے کے باوجود دوالگ ریاستوں میں تقسیم ہوگئے۔ دونوں ملکوں کے سیاسی نظام مختلف تھے۔ ان کے عالمی اتحادی مختلف تھے اور ان کے درمیان ایسی سرحد وجود میں آگئی جو وقت کے ساتھ مزید سخت ہوتی چلی گئی۔ اس تقسیم کی سب سے نمایاں علامت برلن بنا۔ برلن کا مغربی حصہ تین انتظامی یونٹوں کی صورت میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے زیر انتظام تھا جبکہ مشرقی برلن سوویت یونین کے زیر اثر تھا اور بعد میں مشرقی جرمنی کا دارالحکومت بن گیا۔ یوں ایک ہی شہر کے باشندے دومختلف ،سیاسی نظاموں کے درمیان زندگی گزارنے لگے۔ شروع میں آمدورفت کی کچھ صورتیں باقی رہیں۔ لیکن مشرقی جرمنی سے لوگوں کے مغرب کی طرف جانے کا سلسلہ بڑھنے لگا تو اسے روکنے کیلئے مشرقی جرمنی نے 13اگست 1961ء کو دیوار برلن کی تعمیر شروع کی چند ہی برسوں میں تاروں، رکاوٹوں کے ساتھ کنکریٹ کی دیوار نے بھی مشرقی اور مغربی برلن کو ایک دوسرے سے جدا کردیا ۔ بعد کے برسوں میں یہ سرحدی نظام مزید مضبوط کیا گیا۔ اور یہ دیوار سردجنگ کی بڑی علامت کی خاص پہچان کے ساتھ ایسے المیے کا نشان بھی بنی جس میں والدین ایک طرف اور اولاد دوسری طرف رہنے پر مجبور تھی۔ بہت سے خاندانوں،اہل محلہ، عزیزوں، دوستوں کی اپنے پیاروں کے غم اور خوشی میں شریک ہونے کی کوششیں سرحدی محافظوں کے ہاتھوں ان کی جانوں کے زیاں کی صورت میں ظاہر ہوئیں۔
تاریخ کا سفر کبھی ایک ہی سمت اور ایک ہی رفتار سے جاری نہیں رہتا۔ حالات بدلتے ہیں تو واقعات بھی نئی کروٹ لیتے ہیں۔1989ء میں مشرقی یورپ کے کئی کمیونسٹ ممالک میں سیاسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہوئیں۔پولینڈ،ہنگر ی ،مشرقی جرمنی، چیکوسلوواکیہ،بلغاریہ اور رومانیہ میں پرانے سیاسی نظام کمزور یا ختم ہوئے۔ تغیر کے اس ماحول اور عوامی احتجاج کی کیفیت میں مشرقی جرمنی کی حکومت نے سرحدی پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا۔ دیوار برلن کے دونوں طرف کے لوگ اس دیوار پر چڑھ کر ایک دوسرے سے گلے ملے ۔ خوشی ومسرت کے انہی لمحات میں28برس سے جرمنی کی تقسیم کی علامت کہلانے والی دیوار لوگوں کے ہاتھوں ٹوٹنے لگی،راستہ کھل گیا۔ جرمنی کے دوبارہ اتحاد کا سفارتی عمل شروع ہوا اور3اکتوبر کو باقاعدہ طور پر مشرقی ومغربی جرمنی ایک ملک بن گئے۔
جرمنی کی اس تاریخ کا تعلق پاکستان سے بھی ایک دوسرے انداز میں بنتا ہے۔ پاکستان اور وفاقی جمہوریہ جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات 15 اکتوبر1951ء کو قائم ہوئے تھے۔ اس لحاظ سے2026ء میں دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات کے75برس مکمل ہورہے ہیں۔ یہ دن پاکستان اور جرمنی کے درمیان دیرینہ دوستی اور کثیر جہتی شراکت داری کے حوالے سے آگے بڑھنے کے عزم کی تجدید اور باہمی تعاون کے نئے پہلو تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ سات دہائیوں سے زیادہ کے اس سفر میں تعلیم، ثقافت، تجارت، صنعت اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ملکوں کے روابط مسلسل آگے بڑھے ہیں اور بحری شعبے سمیت کئی اہم عنوانات کے ساتھ جاری یہ پیش رفت آنے والے وقتوں میں ان شاءاللہ زیادہ تیزی سے جاری رہے گی۔
اس باب میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جرمنی یورپی یونین میں پاکستان کا سب سے بڑاتجارتی شراکت دار ہے اور اسلام آباد کو جی ایس پی پلس کی تجارتی مراعات دلانے میں بھی اس کا اہم کردار رہا ہے۔جرمنی اور پاکستان کے تعلقات کی بنیاد باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پرقائم ہے، وقت کے ساتھ دونوں ممالک نے بدلتے ہوئے عالمی حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے نئے راستے تلاش کئے اور مختلف شعبوں میں روابط کا دائرہ وسیع ہوا۔ یہ تعلقات سفارتی اور تجارتی شعبوں تک محدود نہیں، عوامی سطح پربھی مختلف شکلوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔اکتوبر کا مہینہ جرمنی اور پاکستان، دونوں کیلئے اس اعتبار سے خاص تاریخی اہمیت رکھتا ہے کہ اس ماہ جرمنی کا اتحاد عمل میں آیا تھا جبکہ پاکستان اور جرمنی کے سفارتی تعلقات نے بھی اس ماہ75 برس کا سفر مکمل کیا ہے۔ تاریخ کے یہ دونوں حوالے اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ اور آج دونوں ملکوں کے درمیان جاری تعلقات اس طویل سفر کی ایک نئی کڑی ہیں۔