• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

14 اگست 1947ء کو جب پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس کا بنیادی تصور اور مقصد ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ پاکستانی حکمرانوں کے امریکہ، برطانیہ جیسی استعماری قوتوں کی طرف جھکاؤ اور ہماری داخلہ، خارجہ و معاشی پالیسیوں پر غیرملکی قوتوں، سُودی مالیاتی اداروں کے اثر و رُسوخ اور دباؤ کی وجہ سے اس کا زیادہ تر جھکاؤ انتظامی رِٹ اور سکیورٹی ریاست کی طرف ہو گیا۔پاکستان کے نظریاتی اور انتظامی سفر کو ہم دو بڑے زاویوں سے سمجھ سکتے ہیں۔ بانیانِ پاکستان کا وژن، یعنی قائد اعظم محمد علی جناح ؒ اور علامہ اقبالؒ کے تصورات کے مطابق پاکستان کو ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست بنانا تھا جہاں غریب اور امیر کے درمیان فرق کم ہو اور ہر شہری کو برابر کے حقوق ملیں۔ بدقسمتی سے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد کچھ ایسے سنگین حالات پیدا کئے گئے جن کے نتیجے میں مملکتِ خداداد پاکستان کو عوامی فلاح و بہبود کے کاموں پر توجہ دینے کی بجائے اپنی بقا اور انتظامی کنٹرول پر توجہ دینے پر مجبور کر دیا گیا۔پاکستان کو درپیش چیلنجز میں لاکھوں مہاجرین کی آباد کاری، بھارت کے ساتھ کشمیر کا تنازع اور وسائل کی شدید کمی جیسے مسائل نمایاں تھے۔ دوسری طرف سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملک کا نظم و نسق چلانے کیلئے نوکرشاہی اور اسٹیبلشمنٹ کا کردار مضبوط ہوتا گیا، جس سےملک کی ناؤ کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست کی منزل کی طرف رواں دواں رکھنے کی بجائےامن و امان اور انتظامی رِٹ قائم کرنا پہلی ترجیح بن گیا۔ اگرچہ آئین میں فلاحی ریاست کا وعدہ موجود ہے، لیکن عملی نفاذ کم ہے۔عملی طور پر ریاست اپنی رِٹ قائم رکھنے اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں زیادہ مصروف رہتی ہے۔گزشتہ آٹھ دہائیوں کا جائزہ لیا جائے تو ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت اِس ملک میں شہری آزادیوں اور میڈیا کی آزادی پر قدغنیں لگائی گئیں اور ہر دورِ حکومت میںبنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔ دوسری جانب حقیقی معاشی ترقی کا ہدف بھی کسی دور میں حاصل نہ ہوسکا، اگرچہ پاکستان نے 1998ءمیں ایٹم بم بناکر بڑی کامیابی حاصل کی اور اسلامی دُنیا کا پہلا ایٹمی ملک بن گیامگر ملک میں توانائی بحران، اشیائے ضرورت کی مسلسل بڑھتی قیمتیں، مہنگائی، بے روزگاری کے باعث عوام کی قوتِ خرید میں کمی اور ناقابلِ برداشت ٹیکسوں، پیداواری لاگت میں اضافہ کے باعث ملکی پیداوار، زراعت، صنعت، تجارت سمیت ہر قسم کی معاشی سرگرمی کو بریک لگ گئی۔ حکومت کاروباری سرگرمیوں اور برآمدات پر توجہ دینے کی بجائے قرضوں اور ناقابلِ برداشت، ناجائز ٹیکسوں، پٹرولیم لیوی بھتہ کےذریعےڈوبتی معیشت کو سہارا دینے کی ناکام کوشش کررہی ہے۔ سُودی قرضوں کے باعث پاکستان کی سالانہ ڈیٹ سروسز (سودی ادائیگیاں )کا حجم مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کے مطابق 8054 ارب روپےمقرر کیا گیا ہے، جوکہ مجموعی بجٹ (18771 ارب روپے) کا تقریباً 43 فیصد بنتا ہے۔ ہر ماہ کئی بار بجلی مہنگی کردی جاتی ہے۔ پاکستان نے 11ماہ کے دوران آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (IPPs) کو تقریباً 12 ارب ڈالر کی ادائیگی کی، جو تقریباً اتنی ہی رقم ہے جتنی پاکستان نے تین سال کے دوران آئی ایم ایف سے حاصل کی۔ کیپیسٹی پیمنٹ (صلاحیت کی ادائیگیاں) یعنی یہ کمپنیاں بجلی پیدا کریں یا نہ کریں، اِن آئی پی پیزکو ادائیگیاں کرنی ہیں، غلط معاہدوں کے باعث کیپیسٹی پیمنٹ اِس وقت قومی خزانے اور ملکی معیشت سمیت عوام کی جیبوں کیلئے ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔دوسری طرف کسان اور زراعت کے حوالے سے ناقص اور کسان دشمن، عوام دشمن پالیسیوں کے باعث گندم، گنا اور دیگر زرعی پیداواروں کے کسان رُل کر رہ گئے، اُنہیں اپنے فصل کی قیمت نہیں مل رہی اور وہ اپنی زرعی پیداوار لاگت سے بھی کم قیمت پر بیچنے پر مجبور کردیئے گئے ہیں۔ زرعی پیداوار میں اضافہ کے لیے جدید سائنسی طریقے نہ ہونے کے باعث ایک زرعی ملک اجناس کی درآمد کرنے پر مجبور ہے۔ صنعتیں نہ لگنے سے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بڑھ گئی، روزگار کی تلاش میں غیر قانونی طریقوں سے بیرونِ ملک جانے کو تقویت ملی جس کے نتیجے میںسینکڑوں ہنر مند افراد اپنی جانیںگنوا بیٹھے۔انسانی ترقی کے اشاریے میں پاکستان 193 ممالک کی فہرست میں 168ویں نمبر پر ہے۔ اقوامِ متحدہ (یونیسیف) کی جولائی 2026ء کی رپورٹ کے مطابق 5تا 16 سال کی عمر کے 2کروڑ 51 لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ عالمی بینک کی اکتوبر 2026ءمیں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENAAP) کے خطے میں یومیہ 3ڈالر سے کم پر گزارا کرنے والے انتہائی غریب افراد میں سے 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں۔ دوسری طرف اشرافیہ کو دیکھیں تو اُن کی تجوریوں، اُن کے اثاثوں میں دن بہ دن اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے۔ باقی رہی بات عوامی فلاح و بہبود کی تو یہ کبھی اُن کی ترجیح ہی نہیں رہی۔ بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات، کارخانوں میں بننے والی اشیاء کی پیداواری لاگت نے آج 25 کروڑ سے زائد عوام کو بدحال کردیا ہے، بھاری بھرکم یوٹیلٹی بلوں اور اشیائے ضروریہ کی ناقابلِ برداشت قیمتوں نے اُن سے دو وقت کی روٹی چھین لی ہے، اُن کی قوتِ خرید جواب دے گئی ہے۔ایک دو روز پہلے کی خبر ہے کہ چترال میں عوام نے بڑھتی ہوئی مہنگائی، پٹرول، ڈیزل کی ناقابلِ برداشت قیمتوں کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کرایوں کی ادائیگی کی سکت نہ ہونے کے باعث دور دراز علاقوں تک پیدل سفر کو ہی ترجیح دینا شروع کردی ہے، گویا قوم ایک بار پھر قرونِ وُسطیٰ کے دور میں چلی گئی ہے۔

اسلامی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں شہریوں کے حقوق، جان و مال کے تحفظ اور اُنکی فلاح و بہبود کیلئے عملی اقدامات کرے۔ نئے انتظامی یونٹس کی بحث ہو یا نئےصوبوں کے قیام کی باتیں، یہ سب صرف اُس وقت سودمند ثابت ہو سکتے ہیں جب ان کا مقصد فلاحی ترجیحات، یعنی مہنگائی اور غربت کا خاتمہ، روزگار اور سماجی انصاف کی فراہمی اور ملک کے اندر معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے ذریعے ملکی برآمدات میں اضافہ اور درآمدات پر انحصار میں کمی جیسے مقاصد کو عملی شکل دینا ہو۔ اگر انتظامی تبدیلیاں صرف سیاسی ڈھانچے کو وسعت دینے تک محدود رہیں اور معاشی وسائل عام آدمی تک نہ پہنچیں تو محض گورننس کی وُسعت قومی خزانے اور عوام کی جیبوں پر بوجھ کے سِوا کچھ نہیں ہوگی۔

تازہ ترین