پاکستان ایک تقسیم کے نتیجے میں قائم ہوا۔ یہ تقسیم متفقہ نہیں تھی۔ چنانچہ ہمیں نسل در نسل ایک منقسم ذہنیت کی میراث ملی۔ 25برس ہم بنگالی ہم وطنوں سے دست و گریبان رہے۔ خود مغربی پاکستان میں زبان، سیاسی رائے، معاشی مفادات اور سماجی ترجیحات کی بنیاد پر صف بندیوں کا شکار رہے۔ قوم کی تعمیر حقوق، اختیار، مواقع اور احترام میں شمولیت مانگتی ہے۔ ہم ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ ریاست نے قوم کو مفتوحہ قلمرو میں بدل دیا۔ ایسی ریاست کے شہری اپنے تعصبات کے اسیر ہو کر ایک دوسرے پر تہمت تراشی میں پناہ لیتے ہیں۔
اس اجتماعی نفسیات کے بہت سے اسباب ہیں۔ شمال مغربی ہند کے جن مسلم اکثریتی منطقوں میں موجودہ پاکستان قائم ہوا، یہ ہندوستان پر برطانوی قبضے کے بالکل آخر میں برطانوی بندوبست کا حصہ بنے۔ بنگال، کرناٹک، گجرات اور اوڑیسہ پر برطانوی بالادستی بہت پہلے قائم ہو چکی تھی چنانچہ شمالی مغربی ہندوستان سیاسی، علمی اور معاشی ترقی میں پیچھے رہ گیا۔ یہ پسماندگی سیاسی شعور اور تمدنی ارتقا پر بھی اثر انداز ہوئی۔ تحریک آزادی ہند کے ابتدائی نقوش بھی ہندوستان کے شمال اور جنوب مشرقی منطقوں میں نمودار ہوئے۔ پسماندہ سیاسی بصیرت پاکستان کو وراثت میں ملی۔ قدیم نفسیات انسانی اجتماع کے تہ دار تنوع کو نہیں سمجھتی اور معاملات کو سیاہ اور سفید کے دو ٹوک خانوں میں دیکھتی ہے۔ من و تو کی اس تقسیم میں ہماری صفوں اور ہمارے قبیلے میں سب سفید اور اچھا ہے۔ جو ہم جیسا نہیں، یا ہم سے مختلف ہے، وہ گمراہی، جہالت، اور مطلق برائی کا استعارہ ہے۔ دوسری طرف جدیدیت نام ہی انسانی اجتماع کی پیچیدگی کو سمجھ کر اس تنوع میں نکتہ ہائے اشتراک کی جستجو کا ہے۔
اس تجریدی بیان کو حالیہ سیاسی تاریخ کے تناظر میں دیکھئے۔ یورپی تاریخ میں ’دائیں اور بائیں بازو‘ کی اصطلاحات 20جون1789ءکے ایک تاریخی واقعے سے مشتق ہیں۔ ہندوستان میں اشتراکی تحریک کی باقاعدہ بنیاد تو 1925ءمیں رکھی گئی لیکن ہندوستانی مسلمان اس سے بہت پہلے دو حصوں میں بٹ چکے تھے۔ 1875ءمیں علی گڑھ مدرسۃ الاسلام قائم کر کے جدید علوم کی مدد سے سیاسی احیا کا راستہ نکالنے کے محرک سر سید احمد خان کو ’نیچری‘ کا خطاب دے کر سیاہ خانے میں ڈال دیا گیا۔ علی گڑھ کالج سے کوئی دس برس پہلے قائم ہونے والے مدرسہ دیوبند کے قابل احترام بانی جدید علمی منہاج کو مسترد کر کے غیر ملکی حکمرانوں کیخلاف جدوجہد کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے ایک گروہ کو جدت پسندی کی کلاہ پہنا دی اور دوسرے گروہ کو حریت کا نشان بنا دیا۔ اب مڑ کر دیکھئے۔ کیا ’اسباب بغاوت ہند‘ کے مصنف سر سید احمد خان واقعی انگریزوں کے ایجنٹ تھے؟ کیا سر ولیم میور کی تصنیف کے جواب میں’خطبات احمدیہ‘ لکھنے والا سید احمد خان واقعی ’کرسٹان‘تھا۔ کیا 1913 میں جرمنی، ترکی اور افغانستان کی مدد سے انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے کا خواب دیکھنے والے عالمی بساط پر فوجی اور معاشی قوتوں کا توازن سمجھتے تھے؟ کیا کوپر نیکس اور گیلیلیو سے کوئی چار سو برس بعد 1919ءمیں ایک سو پانچ ’دلائل‘ کی مدد سے حرکت زمین کو مسترد کرنے والے حسین احمد مدنی علمی ترقی کی راہ نکال رہے تھے؟ اکیسویں صدی کا ایک چوتھائی سفر طے ہو چکا ۔ دائیں اور بائیں بازو کی بحث ختم ہو چکی۔ ہم مقبولیت پسند اور تحکمانہ سیاست کے دھندلکے سے گزر رہے ہیں۔ گزشتہ عشروں کا عالمی بندوبست ختم ہو رہا ہے۔ پچھلی صدی کی جمہوری امیدیں بہت پیچھے رہ گئی ہیں۔
آج کی دنیا میں کوئی ڈیگال ہے اور نہ کوئی مارٹن لوتھر کنگ۔ کوئی نکرومہ ہے اور نہ کوئی سوئیکارنو۔ ہم سرمائے کی جارحانہ پیش قدمی سے دو چار ہیں۔ سائنس کی کارگاہوں کے مٹھی بھر سرمایہ دار مالک انسانیت کے امکانات متعین کر رہے ہیں۔ آج ہماری ریاست ہم سے طالبان کی مزاحمت کا تقاضا کر رہی ہے۔ ہم بندگان کم مایہ نے تو 1979ءہی میں عرض کی تھی کہ افغانستان کے پسماندہ ملائوں سے گٹھ جوڑ ہماری نسبتاً ترقی یافتہ معاشرت کی بنیادیں ہلا دے گا۔ آج افغانستان کے شعلے ہماری زمین تک آ پہنچے ہیں۔ اب وہ خود ساختہ منٹگمری اور رومیل کہاں ہیں جو فتح جنگ روڈ اور کوئٹہ میں تربیتی ٹھکانوں پر فخر کیا کرتے تھے۔ ضیا آمریت تو اپنی مدت پوری کر کے رخصت ہو گئی۔ آمریت کا المیہ یہی ہے کہ وہ تاریخ کی عمارت میں ایک بدنما رخنے کی صورت اپنا نشان چھوڑ جاتی ہے۔ تب ہمارے ملک میں دائیں بازو کو سیاسی اور سماجی بالادستی حاصل تھی جس نے ہمارے تمدنی، سیاسی اور معاشی ڈھانچے تباہ کر دیے۔ تاریخ کا پہیہ کبھی رکتا نہیں۔ آمریت کا چکر مکمل ہونے پر قوم وہیں کھڑی ملتی ہے جہاں سے انحراف کیا تھا۔ آج ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ ہم گزشتہ غلطیوں سے رجوع کر رہے ہیں۔ وقت فیصلہ کرے گا کہ ہم غلطیوں سے رجوع کر رہے ہیں یا غلطیوں کا اعادہ کر رہے ہیں۔
نوے کی دہائی کے وسط میں جب میں نے عرفان صدیقی مرحوم کو پڑھنا شروع کیا تو وہ ہماری مفروضہ سیاسی لکیر کی دوسری طرف کھڑے تھے۔ ایک ہی اخبار میں لکھتے تھے۔ حسب توقع ہمارے بیچ ملفوف اختلافی اشاروں کا تبادلہ ہوتا تھا۔ عرفان صدیقی بالادست فکری بیانیے سے وابستہ تھے۔ ان کی تنقید دوٹوک ہوتی تھی۔ میرا ردعمل کسی قدر منفعل ہوتا تھا۔ پھر 12 اکتوبر 1999 کی رات ریاست نے بندوق اٹھا کر اپنا استمراری جرم دہرایا۔ عرفان صدیقی اب لشکرِ مزاحمت کی صفوں میں تھے۔ ہمارے بیچ مگر غیریت کی دیوار قائم رہی۔
ریاست کا جرم منزلیں مارتا 2018 تک آ پہنچا۔ 27 جولائی 2019 کی صبح خبر آئی کہ دست کاشتہ سرکار نے عرفان صدیقی کو گرفتار کر لیا ہے۔ معلوم ہوا کہ ملک کے بڑے اخبارات نے عرفان صدیقی کے کالم شائع کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ہمارے بیچ برف پگھل گئی۔ بنیادی فکری اختلاف پس پشت چلا گیا اور ایک انسانی تعلق نے جنم لیا۔ میں نے کسی قدر جھجکتے ہوئے عرض کی کہ میرا پلیٹ فارم ان کے کالموں کے لیے حاضر ہے۔ انہوں نے کمال مہربانی سے اپنی تحریریں بھیجنا شروع کر دیں۔ ہفتے کے مقررہ روز رات گہری ہوتے ہی اسکرین پر عرفان بھائی کی شفقت جھلک دیتی۔ ’یا اخی‘۔ میں تسلیم عرض کرتا۔ اس دوران کچھ ملاقاتیں ہوئیں۔ واللہ کیا ظرف تھا۔ کیا متانت تھی۔ شفقت کی ایک جوئے رواں تھی۔ سیاسی سوچ آئینے کی مانند شفاف تھی۔ میں اپنی گزشتہ کوتاہیاں یاد کر کے قعر ندامت میں غرق ہو جاتا تھا۔ مارچ2021ءمیں عرفان صاحب کا ایوان بالا میں ورود گدلی سیاست کی بدرو میں ٹھنڈے میٹھے دھارے کی نمود تھا۔ عرفان صدیقی اب احترام کے بلند ترین زینوں پر ایستادہ ایک چھتنار پیڑ تھے۔ افسوس کہ رفاقت کی یہ کیفیت وقفہ مستعجل تھی۔ 10نومبر2025ءکی رات یہ شاہ بلوط وقت کے دست سفاک کی نذر ہو گیا۔ بھائی عرفان صدیقی کی یاد اب ایک قابل احترام ہم وطن اور قد آور سیاست دان سے محرومی کا ملال ہے۔