فلسطینی رہنما یاسر فات کو ہم سے جدا ہوئے بہت سے برس ہو گئے ہیں گزشتہ دنوں اس عظیم رہنما کی برسی کے موقع پر اسرائیلی فوج نے غزہ میں فائرنگ کر کے دو فلسطینی بچوں کو موت کی وادی میں دھکیل دیا اسی روز راکٹ حملے میں ایک فلسطینی ڈاکٹر اور ایک سیاسی کارکن زخمی ہو گئے عظیم فلسطینی رہنما یاسر فات کی بات شروع کرنے سے پہلے میں عظیم یروشلم کا ذکر کرنا چاہتا ہوں اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد اسرائیلی حکومت نے اس شہر کو اسرائیل میں شامل کر لیا امریکہ کی یہودی لابی نے ریپبلکن پارٹی کے ارکان کے ذریعے 1996 میں امریکی کانگریس سے یہ قرارداد منظور کروائی کہ 1999 تک امریکہ اپنا سفارت خانہ کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دے گا دوسری طرف فلسطینی اتھارٹی کے پہلے انتخابات کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے غزہ میں 1996 کو یاسر فات نے فلسطینیوں کو یہ خوشخبری سنائی تھی کہ بہت جلد ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس کا دارالحکومت یروشلم ہوگا 1993 میں جب ’’امن کے بدلے میں زمین‘‘ مذاکرات کا فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان سلسلہ شروع ہوا تو عربوں اور مسلم ممالک کو امید تھی کہ فلسطینیوں کو ان کا حق مل جائے گا اور عربوں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات دوبارہ ان کے قبضے میں آ جائیں گے جن پر ایک فلسطینی حکومت قائم ہوگی۔ لیکن یہ تمام باتیں سراب ثابت ہوئیں فلسطینی آج بھی ایک آزاد فلسطینی مملکت اور یروشلم کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ میرے حساب سے یہ سب عربوں کی کمزوری کے آثار ہیں عرب اگر اپنا حق حاصل کرنے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں تو امریکہ کو دیتے ہی بنے گی یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ عربوں کی ناراضی سے امریکہ کو ہر سال ایک ٹریلین (کھرب) ڈالر سے زائد کا نقصان ہو سکتا ہے ۔تنہا سعودی عرب کا امریکہ کی معیشت میں 700 بلین ارب ڈالر سرمایہ لگا ہوا ہے مگرـــ یہ اگر مگر ہی دراصل فلسطینی مملکت کا قیام عمل میں نہیں لا سکے۔ آیئے یاسر عرفات کی بات شروع کرنے سے پہلے تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھتے ہیں 1917 میں جب برطانیہ بلفور اعلامیہ کے ذریعے یہودی مملکت کا اعلان کر رہا تھا اس وقت یہودی مملکت کے ساتھ فلسطینی ریاست کے قیام کا اعلان نہیں کیا گیا حالات نے کروٹ لی 1967 کی جنگ نے عربوں کو شرمناک شکست سے دوچار کر دیا جولائی 1971 میں اردن کے ہاتھوں (یہ جنرل ضیاء الحق کا کارنامہ تھا) فلسطینیوں کے قتل عام کے بعد 1976 میں لبنان میں پی ایل او اور لبنانی فوج میں خون ریز تصادم کے بعد جون 1980 میں مصر کے انور سادات کی طرف سے پی ایل او کو فلسطینیوں کی نمائندہ تنظیم تسلیم کرنے پر تامل اور شام کے حافظ الاسد کے لبنانی خانہ جنگی کے زمانے میں عیسائیوں کی مدد سے لبنان میں پی ایل او کے اثر و رسوخ کو ختم کر دینے سے امریکہ اور یورپ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مشرق وسطی کے عرب ممالک فلسطینیوں کو ایک حد میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اس وقت میں نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا عرب ممالک خود فلسطینی ریاست کا قیام نہیں چاہتے ورنہ 1917 / 1948 سے لے کر آج تک انہیں بے شمار مواقع ملے ہیں لیکن انہوں نے اس کا فائدہ نہیں اٹھایا اور ـ آج امریکہ ساری دنیا کے مسلمانوں کی خود اعتمادی خود داری اور عزت نفس کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دینا چاہتا ہے۔ـ یاسر فات کا ذکر آئے گا تو یہ بات بھی کہی جائے گی کہ عالمی تاریخ ایسی شخصیات کے ذکر سے بھری پڑی ہے جو اپنے وطن کی آزادی کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔ ان میں سے بہت سوں نے اپنے وطن کی خاطر جان قربان کر دی اور بہت سوں کو دوران جدوجہد موت نے آدبوچا لیکن وہ اپنی موت سے آزادی کی جنگ کو نئی زندگی عطا کر گئے ۔عرفات کی موت سے فلسطین ایک ممتاز قائد سے محروم ہو گیا یاسر عر فات اپنی 75 برس کی زندگی میں 27 سال جلا وطن رہے لیکن ان کی عزت و مقبولیت کسی دور میں متاثر نہیں ہوئی ۔عبدالرؤف محمد یاسر المعروف یاسر عر فات اس ققنس کی مانند تھے جو اپنی راکھ کے ڈھیر سے ابھرتا ہے اور پوری دنیا کو اپنے وجود کا احساس دلاتا ہے۔ عرفات چاہے جلا وطن رہے ہوں یا اپنے ہی ہیڈ کوارٹر میں محصور و مقید اسرائیل نے ان کے قتل کی سازشیں کیں، ان کے ہیڈ آفس کو بلڈوزروں سے زمین بوس کرنے کی کوشش کی مگر عر فات پوری حوصلہ مندی کے ساتھ ہر بحران سے ابھرتے رہے اور مرتے دم تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھا۔ یاسرعر فات کی بیوہ سوہا عرفات نے شوہر کی وفات کے تین برس بعد اپنے پہلے انٹرویو میں کہا کہ’’یاسر عر فات شہید تھے جب وہ کومہ میں چلے گئے تو ڈاکٹروں نے مجھے کہا کہ کومہ سے نکلنے کی واحد صورت یہ ہے کہ ان سے بات چیت کرتے رہا جائےجس پر میں یاسر عر فات کی پسند کی باتیں کرتی رہی فلسطین مقبوضہ بیت المقدس اس کے بچپن اس کی والدہ کی باتیں لیکن عرفات کومے سے نہ نکل سکے۔‘‘ سوہا عرفات ان دنوں اپنی اعلیٰ تعلیم یافتہ بیٹی کے ہمراہ مالٹا میں مقیم ہیں اور پانچ ہزار یورو ماہانہ پر بمشکل گزارا کر رہی ہیں۔ یہ رقم فلسطینی اتھارٹی پنشن کے طور پر ادا کرتی ہے یہ اتھارٹی ریڈ انڈین کے ان سرداروں کی طرح ہےجو سارے سردار ہیں مگر کوئی عام فلسطینی نہیں۔