• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپنے گزشتہ کالموں میں میں نے اعلیٰ تعلیم، جامعات کے تدریسی و تحقیقی معیار، عالمی درجہ بندی اور چیلنجز پر اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بعض جامعات کے امتحانی نظام، مالیاتی معاملات، انتظامی اختیارات اور وائس چانسلرز کی مدتِ ملازمت سے متعلق قومی میڈیا میں سامنے آنے والی خبروں نے میری توجہ یونیورسٹی گورننس کے اہم موضوع کی طرف مبذول کرائی ہے۔ اپنے تجربے کی روشنی میں اپنا نقطۂ نظر پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ خودمختاری اور جواب دہی سے متعلق غلط فہمیاں دور ہوں۔

پنجاب یونیورسٹی، قائداعظم یونیورسٹی، یو ای ٹی ٹیکسلا اور دیگر اداروں میں ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ کسی جامعہ کی کامیابی کا انحصار محض وسائل پر نہیں، بلکہ قیادت کے کردار، میرٹ، انصاف، غیر جانب داری، شفافیت اور قانون کی بالادستی پر ہوتا ہے۔ ان اصولوں کے مثبت نتائج خود دیکھے ہیں۔ اساتذہ، طلبہ اور ملازمین سے ملنے والا اعتماد اور احترام میرے لیے سب سے قیمتی اثاثہ رہا ہے۔سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ یونیورسٹی کی خودمختاری کسی فرد کے غیر محدود اختیارات کا نام نہیں۔ ہر جامعہ اپنے متعلقہ ایکٹ، اسٹیچوٹس، ریگولیشنز اور منظور شدہ قواعد کے تحت کام کرتی ہے۔ تعلیمی پروگراموں اور نصاب سے متعلق فیصلوں میں بورڈ آف اسٹڈیز، بورڈ آف فیکلٹی، اکیڈمک کونسل اور دیگر مجاز فورمز کا کردار ہوتا ہے۔ اسی طرح تقرریوں، بجٹ اور مالی معاملات کیلئے متعلقہ کمیٹیوں، سنڈیکیٹ اور سینیٹ کے اختیارات متعین ہیں۔ وائس چانسلر، ڈین یا سربراہِ شعبہ اپنی خواہش سے قواعد نہیں بدل سکتا؛ تبدیلی مجاز فورم سے منظور کرانا ہوتی ہے۔وائس چانسلر کو قانون اہم انتظامی، اور بعض صورتوں میں ہنگامی، اختیارات دیتا ہے۔ تاہم ان کا استعمال مقررہ شرائط اور جواب دہی کے تابع ہے۔ میرا مؤقف ہے کہ قانونی باڈیز کو باقاعدگی سے فعال رکھا جائے اور اہم فیصلوں میں اختلافِ رائے اور مشاورت کا احترام ہو، تاکہ ہنگامی اختیار معمول کے طریقۂ کار کا متبادل نہ بنے۔

پنجاب یونیورسٹی میں میری ذمہ داری کے دوران فیکلٹیز کی تعداد 13سے بڑھا کر 19کرنے کی تجویز اس کی عمدہ مثال ہے۔ مجھے اس تبدیلی کی ضرورت پر یقین تھا، مگر میں نے اپنا مؤقف مسلط کرنے کے بجائے تقریباً دو سال اکیڈمک کونسل میں بحث و مشاورت جاری رکھی۔ بعد میں سنڈیکیٹ سے منظوری لیکر تجویز سینیٹ کے سامنے پیش کی۔ چانسلر صاحب نے بعض اعتراضات کا ذکر کیا تو میں نے عرض کیا کہ تمام آرا سنی جائیں، اور اگر اعتراضات درست ہوں تو تجویز واپس لینے پر بھی غور ہوگا۔ تقریباً دو گھنٹے کی بحث کے بعد 130 ارکان میں سے 125 نے حمایت، دو نے مخالفت اور تین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ اصل کامیابی فیکلٹیز کا اضافہ ہی نہیں، بلکہ اختلافِ رائے کا احترام اور اجتماعی فیصلہ تھا۔میرے نزدیک اچھی یونیورسٹی گورننس کے پانچ بنیادی اصول میرٹ، انصاف، غیر جانب داری، شفافیت اور قانون کی بالادستی ہیں۔ ان کا اطلاق ہر عمل پر ہو۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے امتحانی نتائج، تقرریوں، منظوریوں اور مالی ادائیگیوں کا قابلِ تصدیق ریکارڈ محفوظ رکھا جائے، تاکہ انسانی غلطی، غیر ضروری مداخلت اور بے ضابطگی کے امکانات کم ہوں۔کنٹرولر امتحانات کا دفتر ڈگری جاری کرنے سے پہلے متعلقہ طالب علم کے ہر سمسٹر، مضامین، کریڈٹ آورز، نتائج اور دیگر لازمی تقاضوں کی مکمل جانچ کرے، پھر مجاز طریقے سے اس کی اہلیت کی تصدیق کرے۔ رجسٹرار آفس یقینی بنائے کہ نچلے گریڈ سے پروفیسر تک تمام تقرریاں متعلقہ قانون کے مطابق مشتہر خالی اسامیوں، مساوی مواقع اور مجاز سلیکشن کمیٹی یا سلیکشن بورڈ کے ذریعے ہوں۔جہاں اشتہار لازم ہے وہاں اس کے بغیر تقرری نہ کی جائے۔ٹریژرر آفس صرف وہی ادائیگی منظور کرے جو قانونی طور پر جائز، متعلقہ مجاز اتھارٹی سے منظور شدہ اور دستیاب بجٹ ہیڈ کے اندر ہو۔ خلافِ ضابطہ ادائیگی پر وائس چانسلر کو واضح رائے دینا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ سرکاری آڈیٹر کی آبزرویشنز کو سنجیدگی سے لیا جائے، ان کا جواب دیا جائے اور جہاں خامی ہو اسے درست کیا جائے۔

یونیورسٹی گورننس کا دوسرا اہم پہلو سربراہ کی شخصیت ہے۔ وائس چانسلر جامعہ کی علمی، اخلاقی اور ادارہ جاتی شناخت ہوتا ہے۔ طلبہ، اساتذہ اور ملازمین اسے رول ماڈل اور شفیق سرپرست سمجھتے ہیں۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ میرے دفتر کے دروازے سب کیلئے کھلے رہیں، ہر شخص کی بات سنی جائے اور فیصلوں میں ذاتی تعلقات کے بجائے انصاف کو ترجیح دی جائے۔ میرا تجربہ ہے کہ عہدہ احترام دلا سکتا ہے، مگر پائیدار احترام کردار سے ملتا ہے۔

پہلی مرتبہ وائس چانسلر کے انٹرویو میں سلیکشن کمیٹی نے متوقع تنخواہ پوچھی تو میں نے عرض کیا کہ یہ منصب میرے لئے اتنا بڑا اعزاز ہے کہ اس کی قدر تنخواہ سے نہیں ناپ سکتا۔ اس واقعے کا مقصد مالی مراعات کی نفی نہیں، بلکہ یہ یاد دہانی ہے کہ علمی قیادت ایک قومی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔میرا یقین ہے کہ وائس چانسلرز سمیت عوامی عہدوں پر فائز افراد کا کردار ایک کھلی کتاب کی مانند ہونا چاہئے۔ وہ عوامی اعتماد کے امین اور اپنے فیصلوں کے لیے جواب دہ ہیں۔ نجی زندگی کا جائز حق اپنی جگہ، مگر ذاتی مفادات یا طرزِ عمل کے وہ پہلو جو عوامی فرائض پر اثر ڈالیں، شفافیت اور جواب دہی سے بالاتر نہیں ہونے چاہئیں۔ حالیہ شکایات کے حوالے سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تشکیل کردہ کمیٹی کو الزامات کا منصفانہ جائزہ لینا چاہیے۔ تحقیقات سے پہلے کسی الزام کو حقیقت نہ سمجھا جائے، تاہم اداروں کی ساکھ مسائل چھپانے سے نہیں، بروقت اصلاح سے محفوظ رہتی ہے۔اپنے تجربے کا نچوڑ یہی ہے کہ بہترین وائس چانسلر وہ نہیں جو اختیارات اپنی ذات میں جمع کرے، بلکہ وہ ہے جو ایسا منصفانہ، شفاف اور مضبوط نظام قائم کرے جو اس کے بعد بھی قائم رہے۔ جامعات کی خودمختاری قانون سے، ترقی میرٹ سے اور عظمت قیادت کے کردار سے وابستہ ہے۔

تازہ ترین