امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے خفیہ ملاقات کے بعد ایران پر دوبارہ امریکی حملے ہونے کے امکان سے متعلق قیاس آرائیاں تیز ہو گئیں۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پیٹ ہیگسیتھ نے پیر کے روز اپنے غیر اعلانیہ دورۂ اسرائیل کے دوران نیتن یاہو سے ملاقات کی۔
رپورٹ میں اس ملاقات کی اطلاع باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دی گئی ہے، امریکی محکمۂ دفاع اور اسرائیلی حکام نے فوری طور پر ملاقات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
واضح رہے کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئندہ اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر نیتن یاہو کی انتخابی مہم کی کھل کر حمایت کی ہے۔
ایران کے خلاف سخت بیانات کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے نئی فوجی کارروائی کے امکانات پر بحث تیز ہو گئی، تاہم ٹرمپ کی حمایت اور حالیہ رابطوں کے باوجود ایران پر نئے حملوں کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
امریکی صدر نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر نیتن یاہو کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک مضبوط رہنما اور امن کے لیے اہم شراکت دار قرار دیا۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ایران کو فوجی اور مالی طور پر شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے اور اگر تہران نے اپنا رویہ نہ بدلا تو امریکا جلد باقی کام بھی مکمل کر دے گا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کی آئندہ انتخابات میں دوبارہ کامیابی کے لیے مکمل حمایت کا اعلان بھی کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیلی وزیرِ اعظم کے لیے حمایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل میں 27 اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات متوقع ہیں اور نیتن یاہو کے حکومتی اتحاد کو اکثریت برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ میں امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِاعظم نے دونوں ممالک میں انتخابات سے پہلے ایران کے خلاف ایک بڑے آپریشن کے امکان پر بھی گفتگو کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل اپنے ایک بیان میں یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکا نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا لیکن اس کے باوجود بھی امریکی میڈیا رپورٹس میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ پینٹاگون نے ممکنہ فوجی کارروائی کے منصوبے تیار کیے ہوئے ہیں۔
اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے اسرائیلی وزیرِاعظم کی حمایت کیے جانے سے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان سیاسی قربت کا اظہار ضرور ہوتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں رہنماؤں نے ایران پر نئے حملے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکی وسط مدتی انتخابات تک ایران پر حملے کا فوری امکان اس صورت میں کم ہے جب تک تہران کی جانب سے کوئی ایسا حملہ نہ ہو جو امریکا کو جواب دینے پر مجبور کر دے۔