امریکا کے ڈیموکریٹ سینیٹرز نے پینٹاگون سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ پر آنے والے مجموعی اخراجات کی تفصیلات ظاہر کرے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیٹرز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس جنگ کی حقیقی لاگت چھپانے کی مسلسل کوششیں اشتعال انگیز اور ناقابلِ قبول ہیں۔
امریکی اخبار ’یو ایس اے ٹوڈے‘ کے مطابق سینیٹر الزبتھ وارن کی قیادت میں 5 سینیٹرز نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کو خط لکھ کر امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کے تخمینے، مرمت کے لیے مقررہ مدت اور متبادل تنصیبات پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔
امریکی فوج کے اندازے کے مطابق 3 ستمبر تک ایران کے خلاف جنگ پر 43.6 ارب ڈالرز خرچ ہو چکے تھے، تاہم اس تخمینے میں ان فوجی اڈوں اور تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی لاگت شامل نہیں تھی جو ایرانی حملوں کا نشانہ بنے۔
سینیٹرز نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ امریکی عوام یہ جاننے کے حق دار ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی غیر مجاز جنگ پر مجموعی طور پر کتنی لاگت آئی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایک خفیہ بریفنگ کے دوران نقصان سے متعلق تخمینہ پیش کیا تھا۔
سینیٹرز نے کہا کہ اس تخمینے کو خفیہ رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
امریکی سینیٹرز کا کہنا ہے کہ اتحادی ممالک کے فوجی اڈوں اور تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان نے بھی خطے میں امریکا کے شراکت داروں کے لیے جنگ کے اخراجات بڑھا دیے ہیں اور امریکی فوجیوں کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔