تقویم کا کوئی بھی مہینہ اہم واقعات سے خالی نہیں ہوتا۔ مگر اکتوبر کا مہینہ دنیا کے مختلف خطوں میں رونما ہونیوالے انقلابات، تبدیلیوں اور تاریخی واقعات کی ایک طویل فہرست رکھتا ہے جن میں سے بیشتر کی تفصیلات پر تاحال کتابیں لکھی جارہی ہیں۔ یہ مہینہ ابھی جاری ہے جبکہ اسکی24۔تاریخ دو الگ الگ مقامات اور الگ الگ برسوں سے ایسے پیغامات لائی جو پوری دنیا کیلئے مرکز توجہ بنے مگر پاکستان کیلئے اسکی سلامتی کے تقاضوں سمیت کئی پہلوؤں سے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ سال 1945ءمیں سان فرانسسکو سے دنیا کو جنگوں کی تباہ کاریوں سے بچانے اور باہمی تعاون کے ذریعے امن کی راہ پر گامزن کرنیکا مضبوط عہد نامہ سامنے آیا جسکی عملی صورت اقوام متحدہ کا منشور ہے۔ یہ منشور 26جون1945ء کو دستخط کیلئے پیش کیا گیا اور 24اکتوبر1945ء کو نافذ العمل ہوا ۔ اسی اعتبار سے24اکتوبر کو یوم اقوام متحدہ منایا جاتا ہے۔ مذکورہ تاریخ کا ایک دوسرا حوالہ برصغیر جنوبی ایشیا کے اس خطے سےتعلق رکھتا ہے جسے آزاد جموں وکشمیر کہا جاتا ہے۔ انگریزوں نے1846ء میں بدنام زمانہ بیع نامہ امرتسر کے ذریعے75ہزار نانک شاہی روپے کے عوض 84ہزار میل رقبے سے زائد وسعت کی حامل ریاست جموں وکشمیر گلاب سنگھ ڈوگرہ کے ہاتھوں فروخت کردی تھی۔ یوں گلاب سنگھ کو ایک کشمیری صرف آٹھ روپے میں پڑا۔ مال مویشی، جنگل ،کھیت،پہاڑ، دریا، چشمے،اور جھیلیں مفت میں مل گئیں۔ ظلم یہ کہ گلاب سنگھ نے یہ رقم اپنی جیب سے نہیں دی۔ اس نے کشمیریوں کو خریدا تھا اور ان کیساتھ وہی سلوک کیا جو زرخرید غلاموں سے کیا جاتا ہے۔ کشمیریوں پرطرح طرح کے ٹیکس لگاکر یہ اصل زر ہی نہیں اس سے کئی ہزارگنا سود بھی زبردستی وصول کیا اور یہ سلسلہ اسکی نسل کی حکمرانی کے پورے دور میں جاری رہا۔ یہی نہیں، ڈوگروں نے مسلمانوں اور ہندوؤں کیلئے ایسے الگ الگ امتیازی قوانین نافذ کئے جنکے تحت ہندو قتل ہوجائے تو اس کی سزا موت تھی مگر مسلمان کی جان لینے کی سزا پہلے آٹھ آنے جرمانہ رہی، بعد ازاں دوروپے جرمانہ کی سزا مقرر کی گئی۔ یہ وہ حالات تھے جنہوں نے کشمیری مسلمانوں میں ڈوگرہ راج کیخلاف مزاحمت کو اسی روزسے جنم دے دیا تھا جس روز ڈوگروں نے انگریزوں کی مدد سے جموں وکشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا (حوالہ:کتاب ’’حساب زندگی‘‘ ازمجید اصغر۔ صفحات182-181) مذکورہ بغاوت نے1947ء میں باقاعدہ مسلح جدوجہد کی صورت اختیار کرلی۔ 23اگست1947ء کو سردار محمد عبدالقیوم خان نے نیلابٹ کے مقام پر ایک بڑے اجتماع میں ڈوگرہ حکمران کیخلاف جہاد کا اعلان کیا۔ یہ جدوجہد آگے بڑھی24اکتوبر1947ء کو آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیرکے قیام کا اعلان ہوا۔ یوں آزاد علاقہ کشمیریوں کی جدوجہد کا ایک اہم مرکز اور انکی امنگوں کا ترجمان بن گیا۔لیکن برصغیر کی تقسیم کے وقت ہونیوالے بعض فیصلوں نے کشمیر کے مسئلے کو ایک نیا رخ دے دیا۔ ان فیصلوں میں ریڈکلف ایوارڈ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ قدرت اللہ شہاب کی تصنیف ’’ شہاب نامہ‘‘ اور مجید اصغر کی حال ہی میں سامنے آنیوالی تصنیف ’’حساب زندگی‘‘ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ برصغیر کی تقسیم اور اقتدار کی منتقلی کا مرحلہ آیا تو پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا فیصلہ معتبر اور شفاف بنانے کیلئے کئی قابل عمل تجاویز پیش کی گئیں۔ان میں اقوام متحدہ کے نمائندوں کی خدمات حاصل کرنے اور برطانوی قانون دان لارڈز بلانے جیسے نکات بھی شامل تھے لیکن وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ان تجاویز کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک غیر معروف وکیل سیرل ریڈ کلف کو دونوں کمیشنوں کا سربراہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ریڈ کلف نے تقسیم ہند کے تمام فارمولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی توجیہ کے بغیر کلکتہ کو مغربی بنگال کا حصہ قرار دیا اور پنجاب میں مسلم اکثریت کے حامل ضلع گورداسپور کے بیش تر علاقے بھارت کا حصہ بناکر نئی دہلی کو کشمیر تک پہنچنے کا راستہ فراہم کردیا۔ یوں تاریخ کے ایک خطرناک باب کی پہلی سطر لکھ دی گئی۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کے جس حصے کو اب ہم پاکستان کہتے ہیں، جموں وکشمیر کے سارے راستے اسی کے مختلف شہروں سے نکلتے ہیں۔ اور یہ راستے صدیوں سے کشمیر اور بیرونی دنیا کے رابطے کا ذریعہ بنے رہے ہیں۔ 22اکتوبر 1947کو کشمیری مجاہدین اور حامی قبائلی لشکر کشمیر میں داخل ہوئے تو سری نگر کوسقوط سے بچانے کیلئے بھارتی فوجیں ہوائی جہاز کے ذریعے وہاں پہنچا دی گئیں بھارتیوں کا دعویٰ تھا کہ وہ مفرور مہا راجہ کے انضمامی دستخطوں کے پروانے کے باعث اس معاملے میں فریق ہیں جنگ بندی کا پروانہ حاصل کرنےکیلئے بھارتی وزیر اعظم کو یہ اقرار کرنا پڑا کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق کشمیری عوام کو آزادانہ ومنصفانہ استصواب رائے کا حق دینے کیلئے تیار ہے مگر اس قرار داد اور بعد کی قرار دادوں پر عمل سے بچنے کی کوششیں کرتے کرتے وہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہنے کی گردان پر آگئے۔ ریڈ کلف نے پنجاب کی تقسیم کا حتمی فیصلہ 12اگست1947ء کو تحریر کیا تھا لیکن اسے 17اگست کو منظر عام پر لایا گیا اس وقت پاکستان اور بھارت دونوں آزاد ریاستوں کے طور پر قائم ہوچکے تھے حقائق کو درست طور پر سمجھنے کیلئے داستان کا یہ حصہ اگرچہ کافی ہے تاہم صاحبان فکرودانش نے اپنے مشاہدےاور تجزیے کے ذریعے بہت سی تفصیلات ہم تک پہنچادی ہیں قصہ مختصر یہ کہ کشمیر کا مسئلہ اب ایک علاقائی تنازع نہیں رہا۔ جنوبی ایشیا کے امن اور عالمی سلامتی کیلئے ایک مستقل خطرہ بن چکا ہے پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں ان کے درمیان کسی بڑے فوجی تصادم کے نتائج دونوں ملکوں تک محدود نہیں رہیں گے ان کے اثرات پورے خطے اور عالمی امن پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں اسی بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خطے کو ایک بار پھر تباہ کن جنگ کے دہانے تک پہنچنے سے بچانےکیلئے اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ کشمیری عوام آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ وغیر جانب دارانہ استصواب رائے کے وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں۔ تاریخ نے اقوام متحدہ کے یوم تاسیس 24اکتوبر 1945ءاور آزاد کشمیر کے یوم تاسیس 24اکتوبر 1947ءکو کیلنڈر پر یک جاکرکے ہمیں عالمی ادارے کے مقاصد اور مسئلہ کشمیر کے درمیان تعلق پر غور کرنیکا موقع فراہم کیا ہے۔ یہ محض تاریخی اتفاق نہیں، ایسا حوالہ ہے جوامن، حق خود ارادیت اور عالمی ذمہ داریوں کے سوال کو بار بار سامنے لاتا ہے۔