• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کی بحرِ اوقیانوس کا نام تبدیل کرنے کی تجویز پر گوگل نے کیا کہا؟

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ گوگل نے بحرِ اوقیانوس کا نام میرے نام یا امریکا کے نام پر رکھنے کی درخواست مسترد کر دی۔

برطانوی اخبار کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی کیرولائنا میں انتخابی ریلی کے دوران اس گفتگو سے متعلق انکشاف کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ میں نے اس تجویز کے حوالے سے گوگل کے سی ای او سندر پچائی سے ذاتی طور پر رابطہ کیا تھا، کیونکہ میں بحرِ اوقیانوس کا نام تبدیل کرنے پر غور کر رہا تھا۔

امریکی صدر نے کہا کہ اس سے قبل ہماری انتظامیہ کی جانب سے خلیج میکسیکو اور جھیل اونٹاریو کے لیے استعمال ہونے والے ناموں میں تبدیلی کر چکی ہے۔

ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے صرف 2 سمندر بحرِ اوقیانوس اور بحرالکاہل پسند ہیں، میں ان دو کے علاوہ کسی اور سمندر کے نام کے ساتھ نہ ٹرمپ کا نام جوڑنے جا رہا ہوں اور نہ ہی امریکا کا۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ سندر پچائی نے میری تازہ درخواست یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی کہ سمندر متعدد ممالک کی حدود تک پھیلے ہوئے ہیں۔

ٹرمپ نے گوگل کے سربراہ سے منسوب بیان نقل کرتے ہوئے کہا کہ جناب! سمندر مختلف ہوتے ہیں، وہ بہت سے ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں، براہِ کرم ہم سے ایسا کرنے کے لیے نہ کہیں۔

مبینہ طور پر درخواست مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ نے اس خیال سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اسے بحرِ اوقیانوس ہی رہنے دیتے ہیں۔

گوگل نے تاحال ٹرمپ کی جانب سے بیان کردہ اس گفتگو کی عوامی سطح پر تصدیق نہیں کی ہے۔

اس سے قبل کمپنی نے ٹرمپ کے انتظامی احکامات کے بعد گوگل میپس میں امریکی صارفین کے لیے خلیجِ امریکا اور جھیلِ امریکا کے نام ظاہر کرنے کے لیے تبدیلیاں کی تھیں، تاہم میکسیکو اور کینیڈا میں صارفین کو اب بھی ان جغرافیائی مقامات کے اصل نام ہی دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید