• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کی بحرِ اوقیانوس یا بحرالکاہل کا نام تبدیل کرنے کی تجویز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ — فائل فوٹو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ — فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیج میکسیکو، آبنائے ہرمز اور لیک اونٹاریو کے بعد اب بحرِ اوقیانوس یا بحرالکاہل کا نام تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے 10 اکتوبر کو ریاست ٹینیسی کے شہر کلارکس وِل میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے پاس خلیج ہے، ہمارے پاس ایک خوب صورت جھیل ہے اور اب کسی نے کہا ہے کہ ہمیں ایک دریا بھی چاہیے۔

80 سالہ امریکی صدر نے کہا کہ میں دریائے ہڈسن کا نام تبدیل نہیں کرنا چاہتا۔

ٹرمپ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک دریا چاہیے، ہمیں ایک سمندر بھی چاہیے، تاہم، میں دریائے مسیسیپی کا نام تبدیل نہیں کر رہا۔ مجھے مسیسیپی سے محبت ہے، ہم نے اس ریاست میں بہت بڑے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی، چنانچہ میں سوچ رہا تھا کہ بحرِ اوقیانوس یا بحرالکاہل میں سے کسی ایک کا نام تبدیل کر دیا جائے، ہم اسے ’ٹرمپ اوشن‘ یا ’امریکاز اوشن‘ کہہ سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے پہلی مرتبہ 27 اگست کو ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کی تقریب کے دوران ان دونوں سمندروں میں سے کسی ایک کا نام تبدیل کرنے کا خیال پیش کیا تھا، تاہم انہوں نے رواں ہفتے کے اختتام پر دوبارہ اس معاملے کا ذکر کرتے ہوئے اپنے حامیوں سے کہا کہ ہمیں ایسا کرنا ہو گا، میری مدتِ صدارت ختم ہونے سے پہلے یہ کام ہو جانا چاہیے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی حکومت کو ملک کے اندر نقشوں پر جغرافیائی مقامات کے نام تبدیل کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم صدر ٹرمپ دوسرے ممالک یا بین الاقوامی تنظیموں کو ان ناموں کو اپنانے پر مجبور نہیں کر سکتے۔

اس سے قبل وہ اگست میں ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے جھیل اونٹاریو کا نام ’لیک امریکا‘ اور جنوری 2025ء میں خلیج میکسیکو کا نام ’خلیج امریکا‘ رکھنے کا اعلان کر چکے ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران وہ آبنائے ہرمز کا نام تندیل کر کے آبنائے ٹرمپ رکھنے کی تجویز بھی دے چکے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید