1817ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے جھانسی کے راجا سے معاہدہ کیا کہ ریاست اُس کی اور اُس کے وارثوں کی رہے گی، نسل در نسل۔ تب کمپنی کئی طاقتوں میں ایک تھی اور ایسا معاہدہ اُس کا سب سے سستا سودا تھا؛ راجا نے فوج گھٹا لی۔ تیس برس میں کمپنی اکیلی طاقت رہ گئی اور 1848ء میں ڈلہوزی نے وارث کی نئی تعبیر نکالی؛ صلبی بیٹا ہاں، لے پالک نہیں۔ ستارا، ناگپور، جھانسی، آٹھ برس میں درجن بھر ریاستیں کمپنی کے نقشے میں لکھ لی گئیں، بندوق ایک نہ چلی، بس ایک لفظ کی تعبیر بدلی۔ کمپنی کی طاقت کا بڑھنا کوئی نئی خبر نہ تھی، اُسی معاہدے کا پھل تھا؛ 1817ء میں معاہدہ کرنا اور 1848ء میں اُسے توڑنا ہی کمپنی کے حساب سے بہترین تدبیر تھی۔ کمپنی وہی، بس گھڑی بدل گئی۔
یہ قصہ جھانسی کا ہی نہیں، سالِ نو کا بھی ہے۔ اکتیس دسمبر کی رات ہر آدمی 1817ء کی کمپنی ہوتا ہے؛ نئے برس کے عہد نامے پر دستخط کرتا ہے، پرہیز، صبح کی سیر، والدہ کو روز فون، اور اِس اطمینان سے سوتا ہے کہ اب کے برس ایک اور آدمی اٹھے گا۔ اٹھتا وہی آدمی ہے، مگر ڈلہوزی بن کر؛ پہلی جنوری کی صبح پراٹھا سامنے رکھے وہ رات والے عہد نامے کی نئی تعبیر نکال لیتا ہے۔ معاشیات اِسے فیصلے کی ناپائیداری (Dynamic Inconsistency) کہتی ہے؛ نام بھاری، تعریف سادہ۔ ایک منصوبہ جو بناتے وقت سب سے اچھا تھا، عمل کے وقت سب سے اچھا نہیں رہتا، حالانکہ بیچ میں کوئی نئی خبر نہیں آتی، آدمی وہی رہتا ہے اور دونوں بار ایمان داری سے سوچتا ہے۔ کمپنی نے بھی وہی کیا جو ہر گھڑی میں بہترین تھا، اور یہی اُس کا جرم تھا؛ اِسی لیے درویش اِسے گھڑی کی بے وفائی کہتا ہے۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اِس لیے کہ آدمی کی آنکھ وقت کو بھی اُسی طرح دیکھتی ہے جس طرح فاصلے کو۔ دور کے دو پہاڑ ایک سے دِکھتے ہیں، چھوٹا بھی اور بڑا بھی؛ چھوٹے کے دامن میں پہنچیے تو وہی سارا آسمان گھیر لیتا ہے اور بڑا پیچھے کہیں ایک لکیر کی مانند رہ جاتاہے۔ اکتیس دسمبر کی رات پہلی جنوری کا پراٹھا اور سال بھر کے پرہیز کا پھل دونوں دورکے پہاڑہیں، مگر دور سے دونوں میں زیادہ فرق نہیں، سو عقل اطمینان سے بہتر پہاڑ کو چن لیتی ہے۔ پہلی جنوری کی صبح آدمی پراٹھے کے دامن میں کھڑا ہے؛ وہ سامنے ہے، گرم ہے۔
سارا آسمان اُسی کا ہے، اور پرہیز کا پھل دور کہیں ایک باریک سی لکیر۔ وہی عقل، وہی آنکھ، بس منظر بدل گیا۔ یہ ٹیڑھ آدمی کی ایجاد نہیں، اُس کی آنکھ کی ساخت ہے۔ 1955ء میں رابرٹ اسٹروٹز (Strotz, Myopia and Inconsistency … 1955) نے حساب لگا کر یہی اصول ثابت کیا؛ جس آدمی کی آنکھ کو قریب کی چیز اتنی بڑی دِکھے، وہ آج کا بنایا ہوا منصوبہ آنے والے کل خود پھاڑ دے گا۔ دونوں بار آنکھ ایمان دار تھی، بس گھڑی بدل گئی۔
یہ بیماری نئی نہیں ہے۔ 109ھ میں خراسان کے گورنر اشرس بن عبداللہ سُلمی نے سمرقند اور بخارا کے لوگوں سے کہا کہ جو اسلام قبول کرے گا اُس سے جزیہ نہیں لیا جائے گا۔ لوگ جوق در جوق مسلمان ہوئے، اور دو برس میں خزانہ خالی ہو گیا۔ اب اُسی گورنر کیلئے بہترین تدبیر یہ تھی کہ نئے مسلمانوں سے جزیہ پھر وصول کیا جائے، سو کیا گیا۔ اہلیانِ سمرقند کلمہ پڑھنے سے پہلے یہ حساب لگانے میں ناکام رہے تھے، سو بغاوت کر دی؛ اگلے بیس برس خراسان سلگتا رہا۔ گورنر وہی، بس گھڑی بدل گئی تھی۔
حکومت اعلان کرتی ہے کہ دریا کی نشیبی زمین پر بند نہیں بنے گا، گھر مت بناؤ۔ لوگ پھر بھی بنا لیتے ہیں، کہ جانتے ہیں گھر بن گئے تو کوئی رحم دل حکومت بند بنائے بغیر نہ رہے گی۔ ریاست کی گھڑی پراٹھے سے نہیں، سننے والوں کے عمل سے بدلتی ہے؛ 1977ء میں فن کڈلینڈ اور ایڈورڈ پریسکاٹ (Kydland and Prescott, Rules Rather than Discretion, 1977) نے ریاضی کی زبان میں سمجھایا کہ ایسی حکومت بھی جو صرف عوام کی بھلائی چاہے اپنے اعلان سے پھر جائیگی، اور دیکھنے والے یہ بات پہلے سے جانتے ہوں گے؛ دونوں کو 2004ء میں نوبیل انعام ملا۔ بن چکے گھر، پڑھے جا چکے کلمے، گھٹ چکی فوج: یہ سب اعلان کو نبھانا بے سود اور توڑنا سودمند کر دیتے ہیں۔ سننے والے نے یہ حساب سیکھ لیا تو وعدہ ٹوٹنے سے پہلے بے قیمت ہو جاتا ہے؛ 1857ء میں جھانسی کی رانی میدان میں تھی، اور کمپنی کا لفظ اتنا بے وقعت تھا کہ تاجِ برطانیہ کو خود کہنا پڑا، اب کوئی ریاست ضبط نہ ہو گی۔ حکومت وہی، بس گھڑی بدل گئی۔
ہمارے ہاں ایسے وعدے 1958ء سے باقاعدگی سے ٹوٹ رہے ہیں؛ ٹیکس معافی کی درجن بھر اسکیمیں آ چکیں، ہر ایک آخری۔ ہر معافی کے دن ریاست سچ کہتی ہے کہ یہ آخری ہے، کہ آخری کہے بغیر معافی بکتی نہیں؛ اور دولت چھپانے والا سچ جانتا ہے کہ اگلی تنگی کی بہترین تدبیر پھر معافی ہو گی؛ سو ایمان دار بھی انتظار کرتا ہے۔ حاکم وہی، بس گھڑی بدل گئی۔
جس دن آپ نے جنوری میں ٹوٹے عہد نامے کو کردار کا نہیں، گھڑی کا فیصلہ مان لیا، اُس دن خود کو کوسنا چھوڑ دیں گے؛ اور جس دن کسی آخری اعلان پر پوچھ لیا کہ اعلان کس گھڑی میں ہوا اور عمل کس گھڑی میں ہو گا، اُس دن آپ جھانسی کے راجا بننے سے بچ جائیں گے۔ وعدے کی قیمت اُس دن کھلتی ہے جس دن نبھانا مہنگا ہو؛ باقی دنوں میں وہ فقط ایک جملہ ہے۔ سو ہر وعدے کے ساتھ، اپنے بھی، ریاست کے بھی، ایک سوال رکھیے؛ مہنگا ہونے کے دن اِسے کون نبھائے گا؟ جس وعدے کے پاس جواب نہیں وہ اکتیس دسمبر کی رات کا عہد نامہ ہے، خواہ اُس پر کمپنی کی مہر ہو؛ مہر لگی رہے گی، گھڑی بدل جائے گی۔ حافظ نے بدلتی گھڑی سات سو برس پہلے دیکھ لی تھی۔ بہ عزمِ توبہ سحر گفتم استخارہ کنم / بہارِ توبہ شکن میرسد چہ چارہ کنم؛ سحر کو توبہ کا ارادہ کیا، مگر توبہ شکن بہار آ رہی ہے، کیا چارہ کروں۔ ارادہ سچا، ٹوٹنا سچا، دونوں کا پہلے سے علم بھی سچا۔ شیراز کا رند، جھانسی کا راجا اور خراسان کا گورنر، سب گھڑی کی بے وفائی کے مارے ہوئے ہیں۔