• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قیام پاکستان سے قبل ہی صحافت میں مذہبی بنیاد پر دو دھارے نمایاں ہو چکے تھے۔ ہندو صحافت، بالخصوص ہندوستان ٹائمز، پرتاپ، ملاپ وغیرہ کے پس پشت اکالی اور آریہ سماجی جیسے سیاسی گروہوں نیز برلا گھرانے جیسے صنعت کاروں کی دولت تھی، پیشہ ورانہ اصول ضابطے تھے۔ صحافیوں کو بروقت اور مناسب معاوضہ دینے کا رجحان تھا۔ ’مسلم صحافت‘ کہلانے والے اردو اخبارات اور جرائد کی عمومی حالت وہی تھی جو منٹو نے باری علیگ کے خاکے میں بیان کی ہے۔ نیم خود مختار ریاستوں اور رجواڑوں کے عطیات نیز چندوں کے بل پر نکلنے والے اردو اخبارات میں معاوضے سے زیادہ ’قومی خدمت‘ جیسے جذباتی ڈھکوسلوں سے کام چلایا جاتا تھا۔ 1927ءمیں مولانا غلام رسول مہر اور عبدالمجید سالک نے اجرتوں کی ادائی کے تنازع پر ’زمیندار‘ سے الگ ہو کر روزنامہ انقلاب جاری کیا تو پنجاب کی سیاست انتشار کا شکار تھی۔ روزنامہ انقلاب نے مسلم لیگ کے داخلی خرخشے میں قائداعظم محمد علی جناح کی بجائے شفیع لیگ اور علامہ اقبال کی حمایت سے اپنا سفر شروع کیا۔

تاہم اس اخبار کی حتمی شناخت یونینسٹ پارٹی کی حمایت تھی۔ تحریک پاکستان کے عروج پر انقلاب نے اپنی پالیسی تبدیل کی اور مسلم لیگ کی حمایت شروع کر دی۔ 1937ءمیں حمید نظامی ، ڈاکٹر شبر حسن ، سی آر اسلم اور مولانا عبدالستار نیازی نے ہفت روزہ ’نوائے وقت‘ کی بنیاد رکھی تو اخبار کے چاروں بانی ارکان کے فکری زاویے مختلف تھے۔ بالآخر یہ اخبار حمید نظامی کی ملکیت قرار پایا۔ قائداعظم کے ایما پر پنجاب مسلم لیگ کے صدر نواب ممدوٹ نے نوائے وقت میں سرمایہ کاری کی جس کے نتیجے میں نوائے وقت دولتانہ ممدوٹ کشمکش میں ممدوٹ گروپ کا حامی بن گیا۔ یہ وابستگی آئندہ برسوں میں لیاقت علی خان اور دولتانہ کی مخالفت کی صورت اختیار کر گئی۔ اپریل 1947ءمیں میاں افتخار الدین نے ’امروز اور پاکستان ٹائمز‘ شروع کیے تو میاں صاحب کے ذاتی طبقاتی پس منظر کے علیٰ الرغم یہ اردو صحافت میں پیشہ ورانہ طور طریقوں کا اولین نقش تھا۔ ملک کے دارالحکومت کراچی میں انگریزی صحافت کا دور دورہ تھا ۔ روزنامہ ’ڈان‘ کے مدیر الطاف حسین 1943ءسے ڈان سے وابستہ رہے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد الطاف حسین نے قائداعظم کی تربیت کے پیش نظر حکومت وقت کی ترجمانی کی بجائے آزاد اور جارحانہ صحافت کی روایت قائم رکھنا چاہی لیکن لیاقت علی خان آزادی صحافت کے کچھ ایسے قائل نہیں تھے۔ 1948ءمیں پبلک سیفٹی آرڈیننس جاری کیا گیا ۔ 1952میں خواجہ ناظم الدین نے پبلک سکیورٹی ایکٹ نافذ کیا ۔ آفیشل سیکرٹس ایکٹ اس پر مستزاد تھا ۔ ان قوانین کے تحت حکومت کسی بھی اخبار پر پابندی لگا سکتی تھی یا اخبار کے مدیر کو بغیر مقدمہ چلائے جیل بھیج سکتی تھی۔1953 میں لاہور میں مارشل لا نافذ کیا گیا تو اخبارات پر پابندی لگا دی گئی کہ کوئی خبر سنسر کروائے بغیر شائع نہیں کی جا سکتی۔ 6مارچ 1953 کو جزوی مارشل لا نافذ ہونے کے ایک ہفتے بعد حالات معمول پر آگئے تھے لیکن مارشل لا حکام رائے عامہ پر ملکی معاملات چلانے میں فوج کی بہتر صلاحیت کا تاثر مرتسم کرنا چاہتے تھے چنانچہ وسط مئی تک نالیوں پر چونا چھڑکا جاتا رہا نیز دکانوں پر جالیاں لگوانے اور ٹریفک کا بندوبست کرنے کا ذمہ بھی اٹھا لیا گیا۔ ایک طرف حکومت آزاد صحافت سے خائف تھی دوسری طرف امریکی بلاک کی طرف جھکاؤ کے باعث بائیں بازو کی صحافت پر شدید دباؤ رہا۔

ترقی پسند جرائد پر پابندیاں عائد کی گئیں اور آزاد خیال صحافی پابند سلاسل کیے گئے۔ حکومت نے صحافی کے قلم کو رام کرنے کے لیے سرکاری اشتہارات اور نیوز پرنٹ جیسے ہتھکنڈے بھی استعمال کیے۔حکومت کے حامی اخبارات کی دل کھول کر مدد کی جاتی تھی جبکہ حکومت کے ناقداخبارات کے اشتہارات بند کر کے انہیں مفلوج کیا جاتا تھا۔ ایسے میں کراچی کا روزنامہ ’ٹائمز آف کراچی‘ حکومت کے کام آیا جس کے مدیر زیڈ اے سلہری بتدریج مقتدرہ کی حمایت میں کھل کر سامنے آئے۔ سلہری صاحب فکری طور پر قدامت پرست اور جاہ پسند تھے اور درپردہ ڈان کے مدیر الطاف حسین کی صحافتی قامت سے پرخاش بھی رکھتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایوب حکومت نے ڈان کے مدیر الطاف حسین کو 1965میں وفاقی وزیر بنایا تو زیڈ اے سلہری ہی کو ان کی جگہ ڈان کا ایڈیٹر انچیف بنایا گیا۔ نومبر 1965 میں زیڈ ا ے سلہری کو افواج پاکستان کے ترجمان یعنی ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کے منصب پر اعزازی کرنل کی حیثیت سے تعینات کیا گیا۔ وہ اگست 1966 تک اس منصب پر فائز رہے۔ پاکستان کے ابتدائی دس برس صحافت اور حکومت کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے۔ مجموعی طور پر حکومت کا رویہ آمرانہ اور سخت گیری پر مبنی تھا۔ بظاہر جمہوری نقاب موجود تھا لیکن بیوروکریسی کی بالادستی اور سیاسی عدم استحکام کے باعث نئی ریاست میں صحافت اپنے منصبی تقاضے پورے کرنے سے قاصر تھی۔ ’دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب‘ ۔ یہ رجحان بالآخر 18اپریل 1959 کو پروگریسو پیپرز لمیٹڈ پر فوجی حکومت کے غیر قانونی قبضے پر اختتام پذیر ہوا۔ اس دوران صحافی کے قلم نے ہتھیار نہیں ڈالے لیکن صحافی کے قلم میں دلیل کی روشنائی ہوتی ہے۔ڈنڈے کے بلاامتیاز استعمال کا اختیار صحافی کے پاس نہیں ہوتا۔ اپریل 1959ءکو پاکستان میں آزاد صحافت کا دروازہ حتمی طور پر بند کر دیا گیا۔ ایک غیر اشتراکی ملک میں نجی ملکیت کو حکومتی قبضے میں لینا ایسی عجیب و غریب سیاسی منطق تھی کہ میاں افتخار الدین کی وفات پر فیض صاحب کو لکھنا پڑا ۔

مرے چارہ گر کو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو

جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا

کرو کج جبیں پہ سرِ کفن، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو

کہ غرورِ عشق کا بانکپن پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا

تازہ ترین