اسّی سال، بلکہ اکیاسی سال، ایک طویل عرصہ ہوتا ہے لیکن ایک لحاظ سے یہ طوالت اور اختصار اضافی بھی ہے۔ اگر یہ عرصہ اطمینان، سکون اور ہنسی خوشی گزر جائے تو بہت ہی مختصر لگتا ہے اور اگر روتے بسورتے تکلیفوں اور پریشانیوں میں گزرے تو بہت ہی طویل معلوم ہوتا ہے۔ لگتا ہے کہ وقت گزرنے میں ہی نہیں آتا۔ یہ باتیں مجھے ماہنامہ ’’ادب لطیف‘‘ کی اسّی سالہ سال گرہ پر یاد آئی ہیں۔ یہ ادبی رسالہ دیکھتے ہی دیکھتے اسّی (80)بلکہ اکیاسی سال کا ہو گیا۔ اس کا احساس اس وقت ہوا جب اس رسالے کا اسّی سالہ نمبر ہمارے سامنے آیا۔ یہ کل کی بات معلوم ہوتی ہے جب قیام پاکستان کے بعد ہم سرکلر روڈ پر ’’ادب لطیف ‘‘ کے دفتر جایا کرتے تھے۔ اس وقت میرزا ادیب اس کے ایڈیٹر تھے۔ بہت خلوص اور پیار سے ملتے تھے۔ وہ باتیں کرتے کرتے کہتے ’’ذرا اس افسانے یا مضمون کی پروف ریڈنگ تو کر دو‘‘ ہم پروف ریڈنگ کرتے اور میرزا صاحب ادیبوں کے خط یا ان کی نئی تحریریں پڑھتے رہتے۔ تھوڑی سی فراغت ملتی تو چائے پینے انارکلی چلے جاتے۔ ان دنوں انارکلی میں ایک چھوٹا سا چائے خانہ ہوتا تھا۔ میرزا صاحب چائے نہیں پیتے تھے، دودھ پتی پیتے تھے اور ہم چائے۔ میرزا صاحب سے ہمارا تعلق اس وقت سے تھا جب انہوں نے ادب لطیف میں ہمارا ایک افسانہ چھاپا تھا۔ اس وقت تک ہم پاکستان نہیں آئے تھے اور یہ تعلق میرزا صاحب کی آخری عمر تک قائم رہا۔ اس وقت تک جب وہ بیمار ہو کر اپنے داماد بشیر موجد کے گھر آ گئے تھے۔ ہمارا گھر موجد کے گھر کے قریب ہی تھا۔ ادب لطیف کے حوالے سے میرزا ادیب کا ذکر ہم نے اس لئے کیا ہے کہ یہ میزا ادیب ہی تھے جنہوں نے سب سے زیادہ عرصے اس رسالے کی ادارت کی۔ آج یہ رسالہ اسّی یا اکاسی سال کا ہو گیا ہے تو میرزا ادیب کو یاد کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس پر سب سے گہری چھاپ میرزا ادیب کی ہی ہے۔
چوہدری برکت علی نے یہ رسالہ 1935 میں نکالا تھا۔ کہتے ہیں احمد شجاع پاشا نے چوہدری برکت علی کو یہ رسالہ نکالنے پر آمادہ کیا تھا۔ ادب لطیف نام بھی انہوں نے ہی رکھا تھا۔ اردو میں اس سے پہلے بھی کئی رسالے نکل رہے تھے لیکن احمد شجاع پاشا ایک مختلف قسم کا رسالہ نکالنا چاہتے تھے اور چوہدری برکت علی گورنمنٹ کالج سے نئے نئے فارغ ہوئے تھے۔ اردو ادب کے فروغ میں ’’ادب لطیف‘‘ کا کیا کردار رہا ہے؟ ملتان یونیورسٹی کی ڈاکٹر شگفتہ حسین نے اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے میں اس کا بھرپور جائزہ لیا ہے۔ انہو ں نے اسے صرف ایک جریدہ ہی نہیں بلکہ ادب اور سماجی تاریخ میں اسلوب، فکری فیض رسانی اور جمالیاتی و ذہنی تربیت کا بہت بڑا حوالہ قرار دیا ہے۔ اور یہ بات صحیح بھی ہے۔ اردو کے جن ادبی جریدوں نے کئی نسلوں کی ادبی اور فکری تربیت کی ہے ان میں ادب لطیف بھی شامل ہے۔ ان جریدوں نے ہی نئے رجحانات کے ساتھ نئے نئے ادیب و شاعر بھی متعارف کرائے ہیں۔ اب اگر1935 سے حساب لگایا جائے تو اس سال یہ رسالہ اکاسی سال کا ہو گیا۔ اس عرصے میں اردو ادب میں جتنے بھی ادبی رجحان سامنے آئے، اور جتنی بھی ادبی تحریکیں چلیں اس رسالے نے زمانے کے اعتبار سے ہر رجحان اور ہر تحریک کی نمائندگی کی۔ پھر یہ بھی دیکھئے کہ اردو ادب کا کونسا ایسا بڑا چھوٹا نام ہے جس نے اس رسالے کی ادارت نہیں کی۔ آپ فیض صاحب سے شروع کر لیجیے اور گنتے جایئے کہ کون کون ادیب و شاعر اس کا ایڈیٹر رہا۔ احمد ندیم قاسمی، انتظار حسین، میرزا ادیب، فکر تونسوی، عارف عبدالمتین، ممتاز مفتی، سید قاسم محمود، ذکاء الرحمٰن، ناصر زیدی اور اظہر جاوید۔ ان میں آپ ہمیں بھی شامل کر لیجیے کہ کچھ عرصہ ہمیں بھی یہ اعزاز حاصل رہا۔ ہم نے بھی اس کی ادارت کی۔ ہر ایڈیٹر نے اپنی ذہنی افتاد کے حساب سے اس کی صورت گری کی لیکن اس رسالے کو زندہ رکھنے کا سہرا صدیقہ بیگم کے سر ہے۔ چوہدری برکت علی کی صاحب زادی صدیقہ بیگم نے اپنا بیش قیمت خاندانی ورثہ سمجھ کر آج تک اسے جاری رکھا ہے۔ اس عرصے میں کتنے ہی رسالے نکلے اور بند ہو گئے لیکن یہ واحد ماہوار رسالہ ہے جو آج بھی پابندی کے ساتھ ہر مہینے شائع ہوتا ہے اور یہ صدیقہ بیگم کی ہمت کا ہی نتیجہ ہے۔ آج بھی اس کے ایڈیٹر بدلتے رہتے ہیں لیکن ایک عرصے سے شاہد بخاری صدیقہ بیگم کی مدد کر رہے ہیں۔ ادب لطیف کا اسّی سالہ نمبر ایک ہزار کے قریب صفحات پر مشتمل ہے اور اس نمبر کی ادارت میں صدیقہ بیگم کے ساتھ مظہر سلیم مجوکہ اور شاہد بخاری شامل ہیں۔
ادب لطیف کے ضخیم نمبر کا ذکر آیا ہے تو ایک اور رسالے کا ذکر بھی ہو جائے۔ یہ رسالہ ہے ’’ماہ نو‘‘۔ اس کی عمر بھی ستر سال ہونے کو آئی ہے۔ آزادی سے پہلے متحدہ ہندوستان میں ’’آج کل‘‘ کے نام سے سرکاری ادبی رسالہ نکلتا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد ’’ماہ نو‘‘ کے نام سے پاکستان کا سرکاری ادبی رسالہ نکالا گیا۔ اس کے ایڈیٹروں میں بھی بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ سید وقار عظیم سے لے کر رفیق خاور تک اور پھر کشور ناہید تک کون کون اس کا ایڈیٹر نہیں رہا۔ ہمیں تو کشور ناہید کی ادارت کا زمانہ یاد ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کا کونسا شاعر ،کونسا نقاد اور کونسا افسانہ نگار ایسا تھا جس سے کشور ناہید نے ’’ماہ نو‘‘ کے لئے نہیں لکھوایا۔ کشور ناہید کا حکم ایسا ہوتا تھا کہ کوئی’’نہ‘‘ کر ہی نہیں سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس عرصے میں ’’ماہ نو‘‘ ایک نہایت ہی معتبر ادبی جریدہ مانا جاتا تھا۔ اور یہ بھی کشور ناہید ہی تھیں جنہوں نے ’’ماہ نو‘‘ کا چالیس سالہ نمبر شائع کیا۔ ’’ماہ نو‘‘ کا یہ چالیس سالہ نمبر آج بھی ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ کشور کے بعد بھی یہ رسالہ شائع ہوتا رہا مگر اس کی وہ حیثیت برقرار نہیں رہ سکی تھی۔ اب پھر محمد سلیم کی نگرانی اور موئید بخاری، شبیہ عباس اور ان کی ساتھی مدیروں نے اسے نئی جلا بخشی ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اب اس کا ہر شمارہ نہایت ہی ضخیم خاص نمبر ہوتا ہے۔ چند سال پہلے فیض صاحب پر خاص نمبر شائع کیا گیا تھا اور اب احمد ندیم قاسمی اور جوش ملیح آبادی پر پانچ پانچ سو صفحے کے دو ضخیم نمبر شائع کئے گئے ہیں۔ اور یہ نمبر انتہائی قیمتی آرٹ پیپر پر چار رنگوں میں شائع کئے گئے ہیں۔ خیر، ہم اس پر اعتراض کرنے والے کون ہوتے ہیں کہ ان خاص نمبروں کی چھپائی پر اتنی خطیر رقم کیوں صرف کی گئی ہے۔ سرکار کا پیسہ ہے، جتنا چاہے خرچ کرو۔ ہم توصرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اگر تھوڑا سا معاوضہ لکھنے والوں کو بھی ادا کر دیا جائے تو اس میں سب کا ہی بھلا ہو گا۔ پہلے ’’ماہ نو‘‘ میں لکھنے والوں کو معاوضہ دیا ہی جاتا تھا۔ دوسری بات یہ کہ کسی بھی رسالے کا خاص نمبر اس کے ایڈیٹر کی ہنرمندی کا ثبوت نہیں ہوتا۔ اصل تو عام نمبر ہوتے ہیں جو کسی بھی رسالے کا معیار متعین کرتے ہیں۔
.