آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اس سے قبل کہ ہم اس موضوع کی طرف آئیں جو آج کل پاکستان میں بالعموم اور صوبہ سندھ میں بالخصوص زیر بحث ہے۔ میرا اشارہ سیّد خورشید شاہ کے اُس بیان کی جانب ہے جو انہو ں نے لفظ مہاجر کے متعلق دیا اور ایم کیو ایم نے اِس پر اپنے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا لیکن اس موضو ع پر بات کرنے سے قبل اس تنازع کو حل کرنے کیلئے ہمیں تاریخ سے رجوع کرنا پڑے گا۔ دنیا میں ارتقائی عمل ہر سو جاری رہا ۔ ہجرت ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی کی اور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ نے بھی کی۔ ہجرت کا فلسفہ بلا شک و شبہ دین اسلام سے ہی ماخوذ ہے اور اس کو سمجھنے کیلئے ہمیں ہجرت کے اس تصور کو سامنے رکھنا ہوگا جس کے تحت انبیاء اور اصحاب ؓ نے ہجرت کی۔ بنیادی طور پر ہجرت کسی مقصد ، نظرئیے اور سوچ کی خاطر کی جاتی ہے ، جبکہ ترکِ وطن یا تو کسبِ معاش کی تلاش میں کیاجاتا ہے یا تحفظ اور امان کیلئے انسان اپنا وطن چھوڑتا ہے۔ ہجرت کے لئے یہ بات قیاس میں رہنی چاہئے کہ ہجرت بھوکے لوگ نہیں کرتے۔ البتہ ترکِ وطن میں دونوں باتیں پائی جاسکتی ہیں۔ ترکِ وطن کا مقصد رزق کی تلاش بھی ہوتا ہے برصغیر کی دھرتی اس ضمن میں خاصی اہمیت کی حامل ہے۔ آٹھویں صدی کے وسط میں حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ نے سرزمین سندھ کا رُخ کیا لیکن انہوں نے اپنے آپ کو مہاجر نہیں کہا۔

بالکل اسی طرح گیارہویں صدی عیسوی میں علی ہجویری داتا گنج بخش علیہ الرحمۃ نے سرزمین برصغیر کارُخ کیا۔ ان دونوں بزرگ ہستیوں کا مقصد دین اسلام کی تبلیغ تھا۔ یہ طے ہے کہ جہاں سے وہ ترکِ وطن کرکے آئے تھے، وہ دارالحرب نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو مہاجر نہیں کہا۔ اسی طرح مخدوم خاندان نے چودہویں صدی میں اس سرزمین کو اپنا مسکن بنایا اور شاید ان کے پیش نظر بھی تبلیغ دین تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بھی اپنے آپ کو مہاجر نہیں کہا۔ اس کے علاوہ اگرہم دوسری جانب دیکھیں تو جلال خان جس نے منگول سے رزق کی تلاش میں سفر شروع کیا اور وہ سرزمین بلوچستان میں پہنچ کر میر جلال خان کہلایا اور بلوچوں کا جد بھی کہاجاتا ہے لیکن اس نے بھی اپنے آپ کو مہاجر نہیں لکھا۔ بالکل اسی طرح عرب اور فارس سے بھی بڑے بڑے بطل جلیل نے اس سرزمین پر قدم رنجہ فرمائے اور دین اسلام کی خدمت کرتے رہے لیکن انہوں نے اپنے آپ کو مہاجر نہ گردانا۔ روئے زمین پر دو سفر ایسے ہیں جن کو اختیارکرنے والے مہاجر کہلائے۔ ایک وہ جنہوں نے سرزمین بطحا (مکہ) سے ہجرت کرکے یثرب(مدینہ) کو اپنا مسکن بنایا اور یہ مہاجر کہلائے اور آج تک یہ مہاجر ہی کے نام سے پکارے جاتے ہیں اور اس روئے زمین پر ایک اور بڑی ہجرت 1947ء میں ہوئی کہ ہندوستان سے ہجرت کرنے والوں نے موجودہ پاکستان کا رُخ کیا اور وہ مہاجر کہلائے۔ 13سن نبوی میں ہجرت کرنے والوں نے ہجرت کرکے مدینے کو ایک مملکت کا درجہ دیا ۔ بالکل اسی طرح 1947ء میں غیرمنقسم ہندوستان کے اس حصے سے جو آج ہندوستان کہلاتا ہے، ہجرت کرنے والے مسلمانوں نے پاکستان کو ایک نیا وطن بنا دیا جو ہندوستان کا ہی حصہ تھا۔ اس کی تاویل میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی نے اپنے آپ کو تالپور کہا تو کسی نے کلہوڑو۔ کسی نے مغل کہا تو کسی نے شاہ۔ ہر کوئی اس سرزمین پر آیا اور اس نے اپنے اس وطن کی نسبت کو برقرار رکھا جہاں سے اس نے ترکِ وطن کیا تھا۔ اس ضمن یہ دلیل بھی دی جاسکتی ہے کے آج سندھ میں رہنے والے مبینہ سندھی اپنی نسبت فرزند فارس حسن علی آفندی سے جوڑنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اسکے علاوہ بےنظیر بھٹو اپنی کتاب دختر مشرق میں رقمطراز ہیں کے انکے آبائو اجداد یاتو عرب تھے یا پھر راجپوت وہ بھی اپنے آپ کو سندھی کہلوانے سے اجتناب کرتی نظر آئیں اس پس منظر میں اگر ہم خورشید شاہ کے بیان کو سامنے رکھیں تو ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لفظ ان سے سنگین غلطی سرزد ہوئی ہے۔ اس ضمن میں جو وضاحت انہوں نے پیش کی ، اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات واپس لینے پر تیار نہیں ہیں۔ ہاں وہ اس بات پر معذرت خواہ ہیں کہ اگر میرے اس بیان سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معافی کا خواستگار ہوں۔ سیّد خورشید شاہ کے بیان کو ایک حادثہ یا اتفاق قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اس کے پیچھے ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ تقسیم ہند کے بعد یہ بات ہم سب کے مشاہدے میں ہے کہ وہ زمینیں اور جائیدادیںجو سندھ میں آباد ہندو چھوڑ گئے تھے، وہ ہندوستان سے آنے والے مسلمانوں کے حصے میں آئیں جنہیں ہم مہاجر سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس ضمن میں لاڑکانہ، رتوڈیرو، نوڈیرو، شکارپور، دادو، ماجھنڈ، تلہار، بدین، نواب شاہ، حیدر آباد، سکھر، ڈملوٹی سمیت متعدد علاقے آتے ہیں جہاں ان مہاجروں کو بسایا گیا لیکن مخصوص حالات پیدا کیے گئے تاکہ یہ لوگ شہر چھوڑ کر چلے جائیں۔ 70ء کی دہائی کے اوائل میں کراچی اور حیدر آباد میں ایسے عارضی کیمپ قائم کیے گئے تھے جو لاڑکانہ، شکارپور اور دادو اور ماجھنڈ سے بے دخل کیے گئے مہاجرین کیلئے تھے۔ راقم کا خاندان بھی دادو کے قریب ایک علاقے ماجھنڈ میں ہجرت کرکے آباد ہوا اور بعد ازاں وہاں سے بے دخل کیا گیا۔ یہ سلسلہ ایک غیر محسوس طریقے سے ہنوز جاری ہے اور سردست یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کا اگلا شکار نواب شاہ ہوسکتا ہے جہاں سے 1988ء میں بھی ایک بڑی ہجرت کراچی اور حیدر آباد کی جانب ہوچکی ہے۔ خورشید شاہ کے بیان کو سمجھنے کے لئے 15فروری 1994ء کا بے نظیر بھٹو کا وہ بیان بھی بہت اہم ہے جس میں محترمہ فرماتی ہیں کہ ’’یہ بزدل چوہے بلوں میں چھپے ہوئے ہیں ۔‘‘ اور اس بیان کے بعد کراچی کی سڑکوں پر جس طرح خون بہایا گیا، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ بالکل اسی طرح جب سابق وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا نے سندھ اسمبلی کے فلور سے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے منتخب نمائندے کیوں قتل نہیں ہوتے؟ اور پھر یہ تاریخ گواہ ہے کہ ایم کیو ایم کے دو رکن سندھ اسمبلی رضا حیدر اور منظر امام سمیت متعدد منتخب نمائندے جن کا تعلق مقامی حکومتوں سے تھا، قتل کیے گئے۔ آج جو آگ بھڑکا ئی جارہی ہے، اس کا مقصد یہی ہے کہ سندھ کے دیگر شہروں کو بھی بے چین کیا جائے تاکہ تعصب کی آگ بھڑکا کر ان املاک کو جو آج بھی انہی مہاجرین کے نام پر ہیں، اپنے نام پر منتقل کرکے اپنے قبضے کو دوام بخشا جائے۔
یہی وہ قوتیں ہیں جو نئے انتظامی یونٹ بنانے کے خلاف ہیں۔ لہٰذا مندرجہ بالا تحریر اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ خورشید شاہ کا بیان کوئی حادثہ یا اتفاق نہیں بلکہ اسی سوچ کا تسلسل ہے جس نے حقیقی طور پر 6نومبر1962ء کو اس کا اظہار کیا تھا۔ اب اگر ہم بلاول زردار ی کی اس تقریر کا ذکر کریں جو انہوں نے کراچی میں ایک رنگا رنگ شو میں کی تھی جس کیلئے پورے پاکستان سے ٹرینیں، بسیں، ٹرک بھر کر لائے گئے اور اس باغ جناح کو نہ بھر سکے جو 19فروری 2012ء کو صرف کراچی کی خواتین نے بھر دیا تھا۔ بلاول کے جو اتالیق ہیں، ان کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں میں ان کا نام احتراماً نہیں لکھ رہا ہوںوہ انٹ شنٹ تقاریر لکھ کر بلاول کی سیاسی زندگی کو داغدار کر رہے ہیں۔ وقت تقاضا کر رہا ہے کہ نفرتوں کو ختم کرنے کے لئے وسائل کی منصفانہ تقسیم کو ممکن بنایا جائے۔ نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر وسیع البنیاد مشاورت کی جائے۔ تمام سیاسی اکائیوں کو ایک میز پر بٹھا کر اس کا قابل عمل حل نکالا جائے۔ یہ بات اب تقریباً طے ہو چکی ہے کہ موجودہ وفاقی اکائیاں عوام کے مسائل حل کرنے اور ان کو انصاف مہیا کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں۔ لہٰذا اگر انتظامی بنیادوں پر تعلقہ، ضلع، تحصیل اور ڈویژن بن سکتے ہیں تو پھر اسی طرح صوبے بھی بن سکتے ہیں۔ اگر تمام صوبے اپنے لسانی تشخص کو ختم کرنے پر آمادہ ہیں تو پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ سندھ میں بھی جنوبی، مشرقی اور بالائی سندھ کے نام سے صوبے تشکیل دے دئیے جائیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں