کراچی(اسٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے شہر میں پانی کی قلت سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران اپنی آبزوریشن میں کہا ہے کہ شہر کے لوگ بے پناہ مسائل سے دوچار ہیں، واٹر بورڈ پانی فراہم نہیں کرتا تو بلدیہ عظمی کچرا نہیں اٹھاتی، گھوسٹ ملازمین گھروں میں بیٹھے تنخواہیں وصول کرتے ہیں، جب انتظامیہ مسائل حل نہیں کریگی تو عدالت کو مداخلت کرنا پڑتی ہے، شہر میں پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے غیر قانونی ہائیڈرنٹس بند کیے جائیں،چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ میں 2001 سے ڈیفنس میں رہ رہا ہوں آج تک لائن سے پانی نہیں ملا، جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ واٹر بورڈ پانی فراہم نہیں کر سکتا تو ٹھیکے پر دے دیں، جمعرات کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی اور جسٹس امیر ہانی مسلم پر مشتمل بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت ایم ڈی واٹر بورڈ مصباح الدین فرید، ایڈووکیٹ جنرل سندھ ضمیر گھمرو سمیت دیگر افسران پیش ہوئے ،جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ شہر کو منصفانہ طریقے سے پانی کی فراہمی کیلئے کئے جانیوالے اقدامات سے آگاہ کریں، ایم ڈی واٹر بورڈ نے جواب دیا کہ ہمارے 13 ہائیڈرنٹس چل رہے ہیں واٹر بورڈ نے 6 اضلاع میں 1،1 ہائیڈرنٹ رکھا ہے تاکہ ہنگامی صورت میں پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، اسی طرح ڈی ایچ اے اور این ایل سی کے لیے بھی 1،1 ہائیڈرنٹ مختص کیا گیا ہے، شہریوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ پانی کی لائنیں بچھائی گئی ہیں لیکن لائنوں میں پانی نہیں آ رہا ہے، ایم ڈی واٹر بورڈ نے جواب دیا کہ کچھ مسائل کاسامنا ہے جنہیں جلد ہی حل کر لیا جائے گا ،چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ شہر میں بے پناہ مسائل ہیں لیکن انہیں حل کرنے میں سنجیدگی نہیں دکھائی جا رہی ہے ہر طبقے کے لوگ یہاں آباد ہیںلیکن کراچی کو کوئی اون کرنے کو تیار نہیں ہے، واٹر بورڈ پانی فراہم نہیں کرتا تو بلدیہ عظمی کچرا نہیں اٹھاتی، گھوسٹ ملازمین گھروں میں بیٹھے تنخواہیں وصول کرتے ہیں ان مسائل کو انتظامیہ کب حل کرے گی جب انتظامیہ مسائل کو حل نہیں کرے گی تو عدالت کو مداخلت کرنا پڑتی ہے، میگا سٹی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ حکومت ترجیحی بنیادوں پر عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، حکام بالا سڑکوں پر نکل کر ترقیاتی کاموں کا جائزہ لے رہے ہیں، مسائل حل کرنے میں وقت لگتا ہے، گھوسٹ ملازمین کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کئے جا رہے ہیں، ایم ڈی واٹر بورڈ کا کہنا تھا کہ پانی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے اسکیمیں متعارف کرائی ہیں، چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ پہلے تو پانی ملتا نہیں ہے، جہاں پانی پہنچتا ہے تو وہ بھی گندا ہوتا ہے، شہری کب تک پینے کے پانی کو ترستے رہیں گے، جہاں پانی نہیں پہنچتا تو ہڑتال ہونے لگتی ہے، ایم ڈی واٹر بورڈ کا کہنا تھا کہ حب ڈیم میں پانی آنے سے کچھ مسئلہ حل ہوا ہے شہریوں کو پانی کی فراہمی جاری ہے، اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ پانی کے مسائل کے حل کیلئے ماہرین کی کمیٹی بنا ئی جائے، اس موقع پر عدالت میں موجود افسر نے کہا کہ این ای ڈی یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں جنہوں نے ان مسائل پر ریسرچ کی ہے اور 2 کتابیں بھی لکھی ہیں، عدالت نے ہدایت کی کہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس بند کئے جائیں اور ماہرین کے نام تجویز کئے جائیں۔