سچ ہے۔ زبان کی رونق خواتین کے دم سے ہے۔ نئے نئے لفظ، نت نئے محاورے، بھانت بھانت کی کہاوتیں،ذخیرۂ الفاظ میں یہ سارے اضافے اکثر خواتین ہی کرتی ہیں۔مرد تو دو ہی کام کرتے ہیں، یا تو کتابی زبان بولتے ہیں یا بازاری۔ کتابی یوں کہ مثلاً مزاج کیسے ہیں، اور بازاری یوں کہ فلاں کی پھینٹی لگائی جائے۔ اب اگر جلی کٹی باتیں سننی ہوں یا طعن و تشنیع (یا طعنے تشنے)کو سو رنگ میں باندھتے ہوئے دیکھنا چاہیں تو خواتین کی بولی میں جو لطف ہے وہ مردانے میں کہاں۔ایک زمانہ تھا جب اردو زبان کو ریختی کہنے لگے تھے ، یعنی عورتوں کی زبان۔ انشا ٔ اور جان صاحب نے تو پورے پورے دیوان اسی ریختی میں لکھ دیئے تھے۔ شکر ہے ہماری زبان پر سے وہ بلا ٹلی لیکن اگر زبان میں طرح طرح کی چاشنی بھرنی ہو اور اس میں نئے نرالے رنگوں کی آمیزش کرنی ہو تو خواتین کی مدد درکار ہو گی۔ ان سے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ کچھ کہئے، کلام کیجئے۔بس ایک اشارہ کافی ہے۔ اک ذرا چھیڑئیے پھر دیکھئے کیا ہوتا ہے۔ اب جب ہم پچھتّر سے اوپر ہو چکے تو ہمارے ذخیرۂ الفاظ میں ایک ایسا اضافہ ہوا ہے کہ نہ ہوا ہوتا تو کتنی بڑی محرومی کا احساس رہتا ۔ پاکستان کی ایک صوبائی اسمبلی میں اردو بولنے والی ایک خاتون نے کسی کی باتوں سے تنگ آکر کہا کہ آپ تو دماغ کا دہی بنا رہے ہیں۔ ہمارے زمانے تک لوگ دماغ کا کچومر نکالا کرتے تھے۔ سچ ہے، دنیا بدل رہی ہے۔ خاتون نے یہ بھی بتایا کہ یہ کراچی کا عام محاورہ ہے۔ کراچی میں تو جو بھی ہو وہ کم ہے۔ دنیا بھر کے لوگ اس شہر میں سماگئے ہیں ، شہر بھی ایسا کہ پھیلتا جاتا ہے اور سب ہی کو سمیٹتا رہتا ہے۔ ایسے میں یہاں زبان کا جو بھی حال ہو، کسی کو تعجب نہیں ہوگا۔ ویسے دماغ کا دہی بنانے کی ترکیب سن کر طرح طرح کے خیال آتے ہیں مثلاً کون سا دہی، کونڈے کا؟ضامن کا؟ بالائی والا؟ یا کھٹّا۔ اسمبلی میں خاتون نے یہ محاورہ جس طرح تنگ آکر ادا کیا ان کی مراد ہو نہ ہوکھٹّا دہی ہی ہوگا۔
کونڈے کے دہی پر ہمیں اپنا بچپن یاد آتا ہے جب ہمیں کاسہ دے کر حلوائی کے ہاں بھیجا جاتا تھا کہ کونڈے کا دہی لے آؤ۔ اس وقت حلوائی ایک سپاٹ سے چمچے سے جس طرح دہی کے قتلے اتارتا تھااس وقت ہماری دعا ہوتی تھی کہ وہ بالائی والا قتلہ ذرا بڑا دے کیونکہ اس قتلے کو ہمارے گھر تک پہنچنا نصیب نہیں ہوتا تھا اور حیرت ہے گھر والوں نے کبھی نہیں پوچھا کہ دہی کی بالائی کیا ہوئی؟ شاید ہمارے چٹور پن کی وجہ سے انہیں معلوم ہی نہ ہو کہ دہی کے اوپر بالائی بھی جمتی ہے۔ لیکن جیسا کونڈے کا دہی ہم نے ملتان میں دیکھا اس کا حال نہ پوچھئے۔ ہمارے احباب نے پوچھا کہ لسّی پئیں گے؟ ہمارے ہاں کہنے کی دیر تھی کہ وہ کسی بازار میں بہت ہی مشہور لسّی والے کے ہاں لے گئے اور لسی کا آرڈر دے دیا ۔ لسّی بنانے والے کا شاید پہلوان ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ ہو نہ ہو وہ اپنے کام کے دوران دو چار گھونٹ خود بھی پیتا ہوگا یہ بات اس کا تن بدن صاف صاف بتارہا تھا۔ اس کے پاس جو دہی کے آٹھ دس کونڈے اوپر تلے چُنے ہوئے تھے اس نے ان میں سے اوپر والا کونڈا اٹھایا اور اسی سپاٹ سے چمچے سے دہی بڑی ہی مہارت سے بڑے سے لوٹے میں انڈیلا۔ یہاں تک تو غنیمت تھا۔ اگلا غضب اس نے یہ کیا کہ قریب ہی رکھی ہوئی پیڑوں کی ڈھیری سے مٹھی بھر بھر کے پیڑے اٹھائے اور اسی لوٹے میں جھونک دئے۔ اوپر سے شکر بے حساب ڈالی اور دہی کو یوں بلویا کہ یہ منظر دیکھ کر ہی ہمارا دماغ گھوم گیا۔ پھر اس نے لوٹا اونچا کر کے ہاتھ ہاتھ بھر لمبے پیتل کے گلاسوں میں لسّی کی دھار گرائی اور وہ گلاس اس شان سے ہمارے ہاتھ میں تھمایا کہ گلاس کے اوپر جھاگ ابلا پڑ رہا تھا۔ احباب کے ساتھ ہم نے وہ لسّی تو پی لی مگر اس کے بعد اصرار کیا کہ اب ہمیں ایک بستر اور کمبل کی تمنّا ہے۔ اس رات کی نیند بھی یاد رہے گی۔بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ دہی میں نشہ بھی ہوتا ہے۔ جب کبھی ہم راولپنڈی میں ہوا کرتے تھے اور کبھی کبھی پوٹھوہار کی روایت کے مطابق کھانے کے بعد نمکین لسّی پی لیتے تھے تو بس اتنا یاد ہے کہ ہم پر نہ صرف نیند کا غلبہ ہوتا تھا بلکہ ہم بہکی بہکی باتیں کرنے لگتے تھے۔شاید وہی کیفیت ہوتی ہو جس سے دماغ کے دہی بننے کا محاورہ نکلا ہو۔
وہی دماغ جو کبھی ساتویں آسمان پر اور کبھی عرشِ معلّیٰ پرپہنچ جاتا ہے۔ کبھی بہک جاتا ہے اور کبھی پھر جاتا ہے۔ کبھی چاٹ لیاجاتا ہے اور کبھی خالی کردیا جاتا ہے۔ کبھی چل جاتا ہے اور کبھی گھوم جاتا ہے۔ کبھی خشک ہو جاتا ہے اور کبھی سڑجاتا ہے۔ کبھی کھا لیا جاتا ہے اور کبھی خلل کا شکار ہو جاتا ہے۔کبھی اس کو سردی چڑھتی ہے او رکبھی گرمی۔ اور بدترین کیس وہ ہوتا ہے جب دماغ مغز سے خالی ہو جاتا ہے۔
یہ سب ہم نے بارہا دیکھا مگر دماغ کا دہی بنتے کبھی نہیں دیکھا۔ خوش ہیں کہ اب دیکھ لیا۔ ان خاتون سے ہمیں ہمدردی ہے جنہیں اسمبلی کے اسپیکر کی نشست پر بٹھا دیا گیا جہاں ان کا یہ حال ہوا۔ ان کو ہمارا مشورہ ہے کہ اس دہی کو یا تو چھینکے پر لٹکائیں یا نعمت خانے میں رکھیں۔ نئے زمانے کے پڑھنے والے پوچھیں گے کہ وہ کیا ہوتا ہے۔ ابھی تو ہم نے اُس مٹھّے کا ذکر ہی نہیں کیا جس سے کڑھی بنتی ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ لوگ پوچھیں گے کہ یہ مٹھا کس بلا کا نام ہے۔ اور وہ دن تو اب آیا، اب آیا جب ہماری نئی نسل کڑھی کو curryکہنے لگے گی۔
زبان میں جو نئے لفظ اور محاورے آرہے ہیں وہ زیادہ نہیں لیکن جو جارہے ہیں، متروک ہو رہے ہیں یا ان کا مصرف نہیں رہا یا جنہیں ہم بھولتے جارہے ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ یہ سراسر گھاٹے کامعاملہ ہے۔ زندہ زبانوں کو فروغ آپ ہی آپ نصیب نہیں ہوتا، اس میں کچھ کوشش بھی کرنی ہوتی ہے۔ یہ ہمارا فرض ہو نہ ہو ، یہ زبان کا حق ضرور ہے۔ اس معاملے میں لکھنے والوں پر ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ بلا سبب متروک ہونے والے لفظوں کو اپنے استعمال میں لائیں۔ اس کے لئے کلاس روم لگانے کی ضرورت نہیں۔ لفظ کان میں پڑتے رہیں، یہی بہت ہے۔ باقی کام وہ خود کرلیں گے۔ وہ سے میری مراد ہے،الفاظ۔
قدرت کے کام نرالے ہیں۔ سنہ ستّر کے شروع برسوں کی بات ہے، جب علاقے کے حالات کی وجہ سے بی بی سی لندن کی نشریات سننے والوں کی تعداد کروڑوں میں تھی، عین ان ہی دنوں میں اس عالمی نشریاتی ادارے سے وابستہ ہوا۔ وہاں پہنچ کر ذہن نے نرالے ہی فیصلے کئے ۔ یہ کہ تمہارے سامنے کھلا میدان ہے۔ میدان سے زیادہ خود کو آزماؤ۔ دوسرے یہ کہ اردو جیسی زبان اتنی بڑی خلقت کے کانوں میں ڈالنا بہت ہی بھاری ذمے داری ہے،اسے نبھاؤ۔ اسی قدرت نے جو مجھے وہاں لے گئی تھی میرا ہاتھ بٹایااور میں نے کام نہیں کیا، قدرت نے مجھ سے کام لیا۔ میں نے زبانِ اردو کی قدیم ترین کتابوں پر تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یہ مجھے خود اپنی تربیت کرنے کا موقع بھی ملا ہے اور بہانہ بھی۔ قدیم ادب کے مطالعے کے دوران میں نے الفاظ کو سمجھا، ان کی ادائیگی کا ہنر جانا، ان کی روح بھی ہوتی ہے، یہ بھی جانا۔ اس کے بعد تیس برس سے بھی زیادہ عرصے میں نے اپنے سننے والوں کے کانوں میں جس حد تک ممکن تھا ، صحیح زبان منتقل کی۔ ہر چند کہ میں پیشے کے اعتبار سے صحافی تھا اور اب بھی ہوں، میں نے صحافت میں ادب کی،یایوں کہہ لیجئے کہ نفاست، شائستگی اور لطافت کی آمیزش کی۔
یہ مرحلے طے کرنے کے بعد جس سکون کی دولت مجھے ملی ہے اس نے میرے دماغ کو دہی نہیں، وہ بالائی بنادیا ہے جس کا ذائقہ کوئی میرے دل سے پوچھے۔