آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
چند ماہ قبل ہماری اسلام آباد میں ایف بی آر کے چیئرمین طارق باجوہ سے اتفاقاً ملاقات ہو گئی، باتوں باتوں میں کہنے لگے کہ آپ پہلے تو اپنے کالموں میں ایف بی آر کو مثالی ادارہ بنانے کیلئے ٹھوس اور قابل عمل تجاویز دیتے تھے‘ اب کافی عرصہ سے اس اہم ایشو پر آپ کا کالم نظر سے نہیں گزرا۔ طارق باجوہ ہماری رائے میں مسلمہ دیانتدار، محنتی اور مثبت سوچ کے حامل شخص ہیں اور اس ادارے کی ساکھ بحال کرنے کے بھی زبردست حامی ہیں لیکن لگتا ہے کہ وہ تمام تر کوششوں کے باوجود اپنی مثالی ٹیم نہیں بنا سکے‘ ان کی موجودہ ٹیم تو غیرمعمولی صلاحیتوں سے عاری ہے۔ ان کی ٹیم ابھی تک ٹیکس اصلاحات کو موجودہ دور کے جدید تقاضوں کے مطابق بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور جو بھی اصلاحات موجود ہیں وہ آسٹریلیا اور یورپ کے نظام سے نقل کی گئی ہیں جو ہماری اقدار، ماحول، رواج اور عوام کی نفسیات سے بالکل مطابقت نہیں رکھتیں، یہی وجہ ہے کہ یہ پالیسیاں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔ ہم نے عرض کیا تھا کہ ایف بی آر آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کی ڈکٹیشن لینے کی بجائے اپنے محب وطن عوام کی رائے لیکر ٹھوس اور قابل عمل پالیسیاں بنائیں تو پھر ہی ہم ٹیکس کے معاملات میں غیرمعمولی ٹارگٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ ٹیکس کے حصول کیلئے جو پیچیدگیاں

موجود ہیں ان کو آسان ترین بنانے کے بجائے مزید مشکل ترین بنا دیا گیا ہے۔ ہم نے انہیں کہا کہ جب تک ایف بی آر کو خودمختار ادارہ نہیں بنایا جاتا اور ٹیکس دینے والوں کو جب تک یہ یقین نہیں دلایا جاتا کہ ان کا ٹیکس ملک وقوم کی فلاح و بہبود کیلئے ہی خرچ ہو گا، اس وقت تک کوئی بھی ٹیکس دینے والا ٹیکس دینے پر فخر محسوس نہیں کرے گا۔ ہم نے انہیں بتایا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ حکمرانوں کو غیرمقبول کرنے میں آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن کا بڑا ہاتھ ہے۔ جب تک آئی ایم ایف کے بے مقصد مطالبات ماننے کی بجائے اپنے بزنس مینوں کو پرکشش خصوصی مراعات نہیں دیتے اور ان میں مقابلے کا رجحان پیدا نہیں کرتے اس وقت تک کچھ نہیں ہو گا۔ بزنس مینوں کو باور کرایا جائے کہ جو مقررہ حد تک ٹیکس دے گا، اس کو وزیراعظم، وفاقی وزراء کا پروٹوکول دیا جا ئے گا، بیرون ممالک جانیوالے بزنس مینوں کا متعلقہ ملک کا سفیر استقبال کرے گا۔ اسی طرح جو بھی افسر اہم عہدوں پر تعینات کئے جائیں‘ ان کو ٹارگٹ دیں اور وقت مقرر کر دیں، اگر جو بروقت ٹارگٹ پورا نہ کریں ان سے جان چھڑا لیں اور جو ٹارگٹ پورا کریں انہیں ترقی کے ساتھ ساتھ غیرمعمولی انعامات سے بھی نوازا جائے۔ جب تک ایسا نہیں کریں گے اس وقت تک ٹارگٹ تو دور کی بات ہے صرف اپنی غربت مٹانے والے افسروں کی ہی حوصلہ افزائی ہو گی اور مثبت، دیانتدار، محنتی اور ٹارگٹ پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوتی رہے گی۔ اس طرح کسٹم میں بھی دیہاڑی لگانے والوں کی بجائے مسلمہ دیانتدار افسروں کو تعینات کریں اور وہ تمام طریقہ کار بروئے کار لائے جائیں جس سے کسٹم ڈیوٹی میں ہیراپھیری کرنے کے تمام طریقے ختم ہو جائیں۔ آئی ایم ایف کے ہاتھوں کھلونا بننے کی بجائے ایسی ٹھوس اور قابل عمل آئیڈیل پالیسیاں بنائی جائیں جو عوام دوست ہوں اور عوام ٹیکس چوری کرنے کی بجائے ٹیکس دینے پر فخر محسوس کریں۔ آج تک کسٹم اور انکم ٹیکس پالیسی بناتے وقت عوام سے رائے نہیں لی گئی، یہی وجہ ہے کہ ان کی عوام دشمن پالیسیاں عوام دوست نہیں بن سکیں۔ افسروں کی تقرری کرتے وقت کوئی ایسا طریقہ کار نہیں بنایا گیا کہ یہ ان افسروں کو ہی اہم عہدوں پر تعینات کر سکیں جو واقعی ٹارگٹ پورا کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتے ہوں‘ نہ جانے کیوں طاقتور میرٹ پر ہی عملدرآمد کرانے پر مجبور ہیں۔
ایف بی آر میں ایسا کڑا نظام وضع کیا جانا چاہئے کہ ہر افسر عوام کو جوابدہ ہو اور اس سے پوچھا جانا چاہئے کہ اس کے شعبے نے کیا کارنامے انجام دئیے ہیں، عوام کو بھی کوئی فائدہ پہنچایا ہے یا اپنی غربت مٹانے پر ہی دن رات ایک کئے رکھا۔ ایسا نظام بنایا جائے کہ ملک کا ہر شخص ٹیکس کی تفصیلات دیکھ سکے کہ کہاں کیا خرچ ہوا اور کیا عوام کو بھی کوئی فائدہ یا سہولتیں میسر آئیں۔ اس سے اس ادارے کو باوقار بنایا جا سکتا ہے، اسی صورت میں ہی اس پر عوام اعتبار کر سکتے ہیں۔ ہمیں دوسرے ممالک کی ان پالیسیوں کو اپنانے کی ضرورت ہے جو ہمارے ملک کے حالات و واقعات اور اقدار سے مطابقت رکھتی ہیں۔ ان ممالک میں تو ٹیکس کیلئے کسی اشتہاری مہم کی بھی ضرورت نہیں پڑتی‘ عوام خود ٹیکس دینے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہم نے انہیں باور کرایا کہ جب تک سینٹ‘ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین پورا ٹیکس نہیں دینگے تو پھر دوسرے لوگوں کو ٹیکس دینے پر کیونکر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ ہم نے انہیں یہ بھی باور کرایا کہ ایف بی آر کا ایسا کارڈ سسٹم وضع کیا جائے جس کو ہر شعبہ زندگی کی سہولتوں سے منسلک کر دیا جائے اور اس کارڈ کی وجہ سے رعایتیں بھی دی جائیں تو ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔ جو کارڈ جاری کیا جائے، اس میں آئی ڈی کارڈ نمبر بھی شامل کیا جائے۔ ٹیکس کے دائرے میں لانے کیلئے ہر جائیداد اور دیگر خریداری کیلئے این ٹی این کارڈ لازمی قرار دیا جائے۔ غیرمعمولی ٹیکس دینے والوں کو وی وی آئی پی‘ وی آئی پی کا درجہ دیا جائے‘ گریٹس پاسپورٹ بھی ایسے ہی ٹیکس گزاروں کو دیا جائے۔ ٹیکس کے دائرہ میں لانے کیلئے انعامی سکیمیں بھی جاری کی جائیں۔ ٹیکس اور کسٹم نظام کو ٹھوس اور قابل عمل بنانے کیلئے عوام سے رائے لیں۔ اس کے بعد عوام کی تائید و حمایت سے ٹیکس چوروں کی نشاندہی کا انعام بھی دوبارہ شروع کریں۔ افسروں کے ذمہ ٹارگٹ لگائیں اور ٹیکس کے دائرہ میں لانے کیلئے حدمقرر کی جائے۔ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسروں کے ساتھ ون ٹو ون ملاقات کریں‘ ان سے تجاویز لیں‘ ان سے ان کے ویژن کا بھی پتہ چل جائے گااور یہ بھی معلوم ہو جائے گاکہ وہ ٹارگٹ پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں‘ اس سے بھی یقینا ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے میں غیرمعمولی مدد ملے گی۔ ہم نے انہیں یہ بھی باور کرایا کہ پاکستان میں جی ڈی پی اور ٹیکس محصولات کا تناسب صرف ساڑھے 8فیصد ہے جو ایشیاء میں تقریباً سب سے کم ہے۔ بھارت میں یہ تناسب 15 فیصد ہے‘ اس سے حکمرانوں کی ’’مثالی‘‘ کارکردگی کا پتہ چل سکتا ہے اور اسی وجہ سے ہم آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور دیگر مالیاتی اداروں کے چنگل میں پھنستے جا رہے ہیں۔ ہمارے محصولات کم ہونے کی وجہ سے حکومت بڑے فخر سے کھربوں روپے کے قرض لیتی ہے اور ان قرضوں پر صرف سود کی ادائیگی کیلئے مزید قرضے لے رہی ہے۔ گزشتہ حکومت کی مالی بدعنوانیوں اور موجودہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہم قرضوں کے ایک ایسے جال میں پھنس چکے ہیں کہ ہم اپنی ساری توانائیاں قرضوں پر سود کی رقم اتارنے اور پھر قرضے اتارنے کیلئے صرف کر رہے ہیں۔ ہمارا جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے اس پر پہلے سے 90 ہزار روپے قرض طے ہو چکا ہوتا ہے، اس وجہ سے ملک کا مالی مستقبل دن بدن تاریک ہوتا جا رہا ہے۔ ملک میں صرف دس لاکھ ٹیکس گزار ہیں جو گوشوارے جمع کرواتے ہیں، اٹھارہ، بیس کروڑ کی آبادی میں یہ تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ خود حکمران طبقہ اور مراعات یافتہ طبقہ ٹیکس نہیں دے رہا۔ پارلیمنٹ کے 70 فیصد عوامی نمائندے ٹیکس نہیں دیتے اور جوگوشوارے جمع کرواتے ہیں وہ بھی معمولی ٹیکس ادا کرتے ہیں، اس سلسلے میں روزنامہ جنگ، نیوز گروپ نے متعدد بار تحقیق کر کے اس کی نشاندہی بھی کر چکی ہے۔ جب ہمارے منتخب نمائندے اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھیں گے تو کاروباری لوگ بھی ٹیکس دینے سے کترائیں گے، یہی وجہ ہے کہ ملکی معیشت کا تقریباً نصف حصہ کالے دھن پر چل رہا ہے۔ کسی بھی قومی یا صوبائی اور سینٹ کے ممبر کا ماہوار خرچہ اوسطاً کسی طرح بھی پانچ لاکھ سے کم نہیں ہوتا، اس طرح ایک عوامی نمائندے کا سال بھر کا کم از کم خرچہ ساٹھ لاکھ بنتا ہے لہٰذا ان اخراجات کیلئے کم از کم آمدن بھی ساٹھ لاکھ ہو گی جس پر کم از کم ٹیکس بھی تقریباً 13 لاکھ بنتا ہے لیکن عوامی نمائندوں اور قانون بنانے والے لیڈر اور عوامی حکمران خود ٹیکس کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور عوام سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کی عیاشیوں کیلئے ٹیکس ادا کریں۔
گزشتہ حکومت اور موجودہ حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ملک کے سب سے اہم اور بڑے ادارے ایف بی آر میں بھی آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، ہر سال نئے نئے تجربے کئے جاتے ہیں جس سے ٹیکس دہندگان کا اعتماد حکومت اور آئے دن بدلتے طریقہ کار پر نہیں رہتا۔ ایف بی آر کی نام نہاد اصلاحات کیلئے ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف سے جو قرضے لئے گئے ان کا فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہوا ہے۔ آڈیٹر جنرل آڈٹ کی مارچ 2014ء کی رپورٹ کے مطابق سال 2005ء میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے ساڑھے چھ ارب روپے کے قرضے سے شروع کئے گئے ٹیکس ایڈمنسٹریشن ریفارم پراجیکٹ پر دسمبر 2011ء تک پانچ ارب ساٹھ کروڑ خرچ کئے گئے مگر ایف بی آر کے نظام میں کی گئی اصلاحات مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہیں اور ایف بی آر بجٹ پورا کرنے کیلئے ہر سال نئے وِدہولڈنگ ٹیکس لگاتا ہے۔ گزشتہ برس جائیداد کی فروخت اور سیونگ سکیموں پر نہ صرف نئے ٹیکس لگائے گئے بلکہ انکم ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی ہے۔ باقاعدہ ٹیکس گزاروں کی تعداد نہ صرف بہت ہی کم ہے بلکہ سیل ٹیکس گزاروں کی باقاعدہ تعداد نوے ہزار سے بھی کم ہے۔ سیلز ٹیکس کے نظام میں جعلی ری فنڈوں کا ایک باقاعدہ اور بڑے پیمانے پر کاروبار چل رہا ہے۔ ایف بی آر نے سیلز ٹیکس کے قوانین اس طرح بنائے ہیں کہ لوگوں کو ریفنڈ بنانے کا وسیع موقع فراہم ہوتا ہے حالانکہ جن اشیاء پر سیلز ٹیکس سے چھوٹ ہے، اس میں ٹیکس نہ لینے اور ریفنڈ نہ دینے کا قانون لاگو کیا جاسکتا ہے جو بہت آسان ہے لیکن ایف بی آر وزارت خزانہ اور مفاد پرست کاروباری مافیا سے ملکر ایسے قوانین وضع کرتا ہے جس سے ہر سال کھربوں روپے کے جعلی ریفنڈ جاری ہو جاتے ہیں اور بڑے پیمانے پر قانونی مقدمات میں سیلز ٹیکس کا محکمہ الجھا رہتا ہے لیکن سیلز ٹیکس کے نظام کو بہتر بنانے کی بجائے ویٹ VAT کے نام پر مزید خراب کیا جا رہا ہے حالانکہ وَیٹ کے نظام سے سیلز ٹیکس گزاروں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ ٹیکس کے نظام میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے کاروباری سوداگروں سے سود پر قرضہ لیکر ان کی شرائط پر ٹیکس کا جو نظام بنایا گیا ہے، اس سے ایف بی آر کا نظام مزید بگاڑ کا شکار ہوا ہے۔ فنکشنل ڈویژن بنا کر افسروں کو کسی ایک یونٹ یا سرکل میں کام سیکھنے کے موقع سے محروم کر دیا گیا ہے، نتیجہ یہ ہوا کہ کئی سال گزرنے کے باوجود افسروں کو پورا کام سیکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ فائلیں اور ریکارڈ کسی اور ڈویژن میں ہوتے ہیں اور ٹیکس گزاروں کو اپنے مسئلے کے حل کیلئے کسی اور ڈویژن میں بھیجا جاتا ہے اور انہیں دفتروں کے دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ اس پر مزید یہ کہ کمپیوٹرائزڈ کرنے کے بہانے سے ٹیکس نظام کو مزید الجھا دیا گیا۔ یہ نظام ہمارے کاروباری حالات اور مقامی ضروریات اور مسائل سے قطعی مطابقت نہیں رکھتا بلکہ اس طرح کا نظام ترقی یافتہ مغربی ملکوں میں کامیاب ہے لیکن ہماری حکومت اور ایف بی آر نے قرضہ لیکر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط اس طرح مان لیں جیسے انہوں نے خیرات دی ہو اور ہمارے ادارے ان کیلئے ٹیکس اکٹھا کر رہے ہوں۔ یہ بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ نام نہاد ٹیکس اصلاحات کو دس سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ٹیکس کے نظام میں بہتری کی بجائے تنزلی ہی آئی ہے۔ ٹیکس افسروں میں ڈبل تنخواہ، دیگر مراعات اور پروموشن کے مواقع ملنے کے باوجود مایوسی اور بے دلی چھائی ہوئی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ٹیکس اصلاحات کا ہمارے زمینی حالات سے دُور کا بھی تعلق نہیں ہے، اسی وجہ سے یہ اصلاحات ناکام ہوئی ہیں۔ ایف بی آر کی اس حالت ِ زار کی وجہ سے آئے دن پوسٹنگ اور ٹرانسفر پر زور دیا جا رہا ہے جس سے افسروں کی کارکردگی مزید متاثر ہو رہی ہے۔ کچھ افسروں نے ہمیں بتایا ہے کہ سیاسی لیڈروں کے دبائو پر آئے دن ٹرانسفر آرڈر کئے جاتے ہیں اور ایف بی آر اپنے طور پر کوئی ٹھوس پالیسی اختیار کرنے کا اہل نہیں ہے، اس کی واضح مثال گزشتہ سال کی ٹیکس ریٹرن ہے جو ابھی تک صحیح طور پر ترتیب نہیں دی جاسکی کیونکہ ایک ایسے ملک میں جس میں شرحِ خواندگی چالیس فیصد سے بھی کم ہے۔ وہاں کاروباری طبقے سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ کمپیوٹر کا ماہر ہو گا اور اپنا ٹیکس گوشوارہ آسانی سے تیار کر کے آن لائن یا دستی طور پر فائل کرے گا، اگر ٹیکس جمع کرنیوالوں کے حالات ایسے ہی رہے تو ملک کی معیشت پر بیرونی مالیاتی اداروں کا غلبہ بہت جلد تکمیل تک پہنچ جائیگا۔ (جاری ہے)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں