• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سید مودودی اور فکری انقلاب...تحریر: محمد صادق کھوکھر…لیسٹر

سید ابوالاعلیٰ مودودی بیسویں صدی کے ممتاز مفکر، سیاست دان، عالمِ دین اور تجدید و احیا دین کےعظیم داعی تھے۔ انہوں نے جب ہوش سنبھالا اس وقت پورا عالمِ اسلام سامراجی قوتوں کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا۔ ایک طرف مغربی اقوام کا سیاسی تسلط تھا۔ دوسری طرف ذہنی اور فکری غلامی بھی مسلط تھی۔غلامی کے اس تاریک دور میں آزادی اور سرفرازی کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا تھا۔ ان حالات میں بڑی بڑی شخصیات پیدا ہوئیں۔جن میں سید جمال الدین افغانیؒ، حسن البنا شہیدؒ، علامہ اقبالؒ، قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ، مولانا محمد علی جوہرؒ، سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور سید قطب شہیدؒ وغیرہ نمایاں ہیں۔ فکری رہنمائی کا جو کام علامہ اقبالؒ نے اپنی ولولہ انگیز شاعری میں کیا وہی کام سید مودودی نے پراثراستدلالی نثر کے ذریعے کیا۔ سید مودودی کی جدو جہد پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی جد وجہد کا نمایاں پہلو تجدید و احیا دین تھا۔ دورِ غلامی میں مغربی سیاسی تسلط اور تہذیبی غلبے کے باعث مسلمان دو گروہوں میں بٹ گئےتھے۔ ایک گروہ انگریزی نظامِ تعلیم کے باعث انگریزی نظامِ زندگی کا گرویدہ ہوگیا۔ انہوں نے پسپائی اختیار کرکے فرنگی تہذیب وتمدن اور افکارو نظریات کو اپنا لیا۔ یہ طبقہ اسلام کو فرسودہ خیال کرنے لگا۔ انہوں نے مغربی افکار ونظریات کو من و عن درست سمجھ کر حرفِ آخر قراردے ڈالا۔ اس لیے یہ طبقہ اسلام کی تعبیرات مغربی افکار کی روشنی میں کرنے لگا۔ اور مغربی افکار کو قرآن و سنت سے جواز بخشا جانے لگا۔ دوسرا گروہ علماء اور دینی طبقے کا تھا۔ اس گروہ نے عافیت اسی میں سمجھی کہ دنیا کے معاملات سے کنارہ کش ہو کر مساجد اور مدارس سنبھال لیےجائیں۔ انہوں نے مدارس قائم کیے۔ اور مساجد کی ضروریات پوری کیں۔ چونکہ انہوں نے خود ہی دنیاوی معاملات سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی اس لیے معاشرے پران کی گرفت ختم ہو گئی۔ ان کا کام عبادات، عملیات، وظائف، نکاح اور جنازے پڑھانے تک محدود ہوکر رہ گیا۔ انہوں نے تحقیقی کام اور اجتہاد کرنا چھوڑ دیا۔ جس سے جمود پیدا ہونے لگا۔ فرقہ بندی بڑھنے لگی۔ اس رویے کے باعث دین کی رہی سہی وقعت بھی کم ہو گئی۔ ان دونوں گروہوں میں خلیج بڑھتی گئی۔ جس سے سامراجی قوتوں کو بڑا فائدہ ہوا۔ اسی کشمکش نے دین اور دنیا کی تفریق پیدا کر دی۔ جس کے اثرات آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ سید مودودی نے ان دونوں گروہوں کی غلطی کی نشان دہی کی اور بتایا کہ دونوں رویے شکست خوردہ ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک نے عملاًنقالی قبول کر کے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ اور دوسرے نے خود ہی اپنا دائرہ کار محدود کر کے اسلام کو معاملاتِ دنیا سے الگ کر لیا ہے۔ دنیا کے معاملات اس گروہ کے ہاتھ میں چلے گئے جو بالادست تہذیب کو اپنائے ہوئے ہے۔ یہ گروہ خود کو روشن خیال، جدیدیت کا حامی اور تہذیب یافتہ کہلاتا ہے۔ لیکن در حقیقت یہ نقالی کو ہی جدیدیت تصور کرتا ہے۔ خود کوئی تخلیقی اور تحقیقی کام کرنے سے قاصر ہے۔ اس طرح معاشرتی زندگی فرسودہ رسم و رواج کے مطابق چلنے لگی۔ اور نقالی کا رنگ بڑھنے لگا۔ مولانا مودودی کا کارنامہ یہ ہے کہ ایک طرف انہوں نے مغربی افکار و نظریات پر کاری ضرب لگائی اور اس کی فکری بنیادوں کو چیلبج کیا۔ مغربی فلسفے پر جاندار تنقید کر کے اسے غلط ثابت کیا۔ عقلیت کے فریب کا پردہ چاک کرکے بتایا کہ کارل مارکس، ہیگل، چارلس ڈارون اور فرائیڈ نے اپنےغلط نظریات سے عصرِ حاضر کا جو ماحول تشکیل دے دیا ہے اس سے دنیا میں بڑی تباہی پیدا ہوئی ہے۔ انسانیت کی معروف و مسلم قدروں کو پامال کر کے حیوانیت کے درجے تک گرا دیا ہے۔ انہوں نے اپنے دلائل سے ان نظریات کا تاروپود بکھیر کر رکھ دیا۔سید مودودی کے طرزِ استدلال اور محکم دلائل سے مغربی مرعوبیت کا طلسم ٹوٹنے لگا۔ ان کے نظریات کی بنیادوں کا کھوکھلا پن واضح ہونے لگا۔ جس کے نتیجے میں پڑھا لکھا طبقہ سید مودودی کی کتب کی طرف لپکنے لگا۔ دوسری طرف انہوں نے دینی نظامِ تعلیم کی اصلاح پر زور دیتے ہوئےاس کی خرابیوں کی طرف توجہ دلائی تاکہ مسلمان عصرِ حاضر کے فکری چیلنج کا مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے دین کے محدود تصور کی اصلاح کی طرف توجہ دلاتے ہوئے بتایا کہ دین صرف عبادات اور چند مذہبی رسومات کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اللہ کے احکام کے تحت کام کرتے ہوئے انسان کا ہر فعل عبادت ہے۔ اسلام دین اور دنیا کی تفریق کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ نیز شہادتِ حق ایک اہم ایک اہم فریضہ ہے۔ جس سے غفلت برتنا جرم ہے۔ انہوں نے اسلامی تجدیدواحیا کے لیے درج ذیل امور کی طرف توجہ دلائی۔
علم و فکر… یعنی اسلام کے ابدی حقائق کی ایسی تعبیر جو موجودہ زمانے کے مسائل کا حل پیش کر کے دورِ حاضر کی رہنمائی کر سکے۔عمل و کردار- ایسے معاشرے کی تشکیل جو اسلام کی عملی تعلیمات کا نمونہ پیش کر سکے۔تعلیم و تربیت اور تنظیم- ایسی جماعت کی تشکیل جو منظم انداز سےکام کرے اور علم و فکر اور کردار کی بدولت معاشرے کی اصلاح کا کام سر انجام دے۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے جماعتِ اسلامی تشکیل دی۔ انہوں نے جو فکری کارنامہ سر انجام دیا وہ بے مثال ہے۔ سید مودودی نے قدیم وجدید جاہلیت کا مقابلہ کرتے ہوئے ایسا لٹریچر تیار کیا اس نے ایک فکری انقلاب برپا کر دیا۔ مثلا"انہوں نے تنقیہات لکھ کر اسلام اور لادینی تہذیب کے درمیان پیدا ہونے والے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے مغربی تہذیب کے غلبے کی وجوہات بیان کیں۔ اسلام اور جدید معاشی نظریات میں سوشلزم اور سرمایہ دارانہ نظام کا مقابلہ اسلام کے معاشی نظام سے کر کے بتایا کہ اسلام کا معاشی نظام کس طرح انسان کی معاشی ضروریات پوری کر سکتا ہے اور ان مفاسد سے کیسے بچ سکتا ہے جن سے انسانیت اس وقت دوچار ہے۔ معاشیاتِ اسلام میں اسلام کے معاشی اصول و احکام کی توضیح و تشریح کی۔ نیز سود پر الگ دو جلدوں پرمشتمل کتاب لکھ کر اس کے پسِ منظراور خرابیوں کو بیان کر کے اسلام کی روشنی میں حل بیان کیا۔ اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی میں اسلامی تہذیب کے خدوخال بیان کر کے بتایا کہ اسلامی تہذیب کی وہ کون سی نمایاں خصوصیات ہیں جس کی وجہ سے یہ عالمگیر تہذیب ہے۔ اور اس میں بار بار ابھرنے کی صلاحیت موجود ہے۔اسلام اور ضبطِ ولادت ،حقوق الزوجین اور پردہ لکھ کر معاشرتی اصلاح کی کوشش کی۔ الجہاد فی الاسم تصنیف کر کے اسلامی تصورِ جہاد اور اس کےاصول وضوابط اور اس کے دیگر اہم پہلوئوں پر روشنی ڈالی۔ مسئلہ قومیت میں قومیت کے اسلامی تصور پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ رنگ ، نسل، علاقے اور زبان کی بجائے اسلام کے آفاقی نظرئیے پر قائم ہوتی ہے۔اسلامی ریاست اور خلافت و ملوکیت جیسی کتب میں اسلام کے تصورِ ریاست اور سیاسی نظام کی وضاحت کی۔ نیز اسلامی قانون اور اس کی نفاذ کی عملی تدابیرکے نام سے الگ کتاب بھی لکھی۔ تجدید و احیائے دین میں تجدد اور تجدید کا فرق بیان کر کے تجدید و احیا کی اہمیت اور ضرورت پر زور دیارسائل و مسائل استفسارات اور تصریحات میں مذہبی، ٖفقہی، سیاسی، معاشرتی، معاشی سوالات و جوابات کے ذریعے رہنمائی کی،یہ چند نمونے ہیں۔ انہوں نے سو سے زائد کتب لکھی ہیں۔ جن کے تراجم مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ لیکن خطبات، دینیات اور قرآن کی تفسیر تفہیم القرآن سب سے زیادہ مقبول ہیں، انہوں نے اپنی تصانیف میں زندگی کے معاشی، سیاسی، معاشرتی، تہذیبی و تمدنی، فکری اور اعتقادی معاملات میں عالمانہ بصیرت کے ساتھ رہنمائی کی۔ سید مودودی کی فکری کاوشوں اورسرگرمیوں کا مرکزومحور یہ تھا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور ہمہ گیرنظامِ ہے۔ یہ صرف فرد کا ذاتی معاملہ نہیں ہے بلکہ زندگی کے اجتماعی معاملات بھی اس کی روشنی میں حل ہونے چاہئیں۔ اس مقصد کے حصول کیلئے قرآن و سنت سے رہنمائی لینےکی ضرورت ہے وہ عمر بھرمحکم دلائل کے ساتھ باطل نظریات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔ ملتِ اسلامیہ کو فرضِ منصبی کی ادائیگی کیلئےمتحرک کرتے رہے۔ نیز احیائے اسلام کیلئے انتھک جدو جہد کرتے رہے۔ بلاشبہ وہ بیسویں صدی کے عظیم مفکر اور تحریکِ احیائے دین کےعہد ساز رہبرتھے۔


.
تازہ ترین