• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
انیسویں صدی میں پیش کیے گئے اکثر فلسفے انتہائی دقیق اور منطقی ہونے کے باوجود بے مثال فکری اور نظری بحث ومباحثہ کی موجودگی میں حالت نزاع تک پہنچ چکے ہیں،ایڈیم اسمتھ کا فلسفہ کپیٹل اکنانومی یا مارکس کا کمیونزم کیسے بتایا جائے کہ ان تلوں میں تیل نہیں۔کمیونزم کی بدقسمتی کہ نظام زراور کپیٹل اکنانومی کے ہاتھوں پے درپے شکستوں سے دوچار،اپنے گھروں چین اور روس میں بھی برات حاصل کر چکا۔ شمالی کوریا ، ویت نام ، کیوبا تک محدودتازہ بہ تازہ خبر کے مطابق یونان کے حالیہ انتخابات میںنئی نویلی فتح کو انقلاب کا پیش خیمہ سمجھ بیٹھے ہیں ڈوبتے کو تنکوں کا سہارا ۔مرید اول ٹراٹسکی کا نظریہ ضرورت، حکومتوں میں شامل ہوجائو، حصہ بن جائو، اثرورسوخ حاصل کرو،اورفلسفہ لینن کی نرسری پھیلادو،کارل مارکس کی محنت شاقہ کی کی نفی ہی سمجھی جائے۔
دنیا ایک بار پھر انگڑائی لے رہی ہے۔ بھارت میں سجے اسٹیج پر دو فنکاروں کا مزاحیہ پروگرام گردش ایام کو روکنے کی ناکام کوشش ہی رہے گی ۔ پچھلی دو صدیوں میں دوسری دفعہ سیاسی تبدیلی رونماء ہونے کو، اس دفعہ وجہ معاشی ارتعاش، جبکہ پچھلی بار معاشی جمود کا نقطہ عروج پر پہنچنا انقلاب کی نوید بنا۔ نظریہ کارل مارکس کی بنیاد ہی معاشی جمود۔ ماریکس اینگلز کا مشہور زمانہ فقرہ ’’سوشلزم کا بھوت ، یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے کر رہے گا، کوئی نہیں روک سکتا‘‘۔ لینن کا عنان اقتدار سنبھالنا پہلا قدم، صحیح سمت میں قرار پایا۔ گو چند سال بعد اسٹالن کے دور نے ریاستی ظلم اور جبر کی جو تاریخ رقم کی ، ہٹلرماند پڑگئے۔
کاش مارکس اللہ کا انکار کرنے سے پہلے قرآن کو پرکھ لیتے ۔ اسلام کی کسمپرسی کے عالم میں قرآن کومارکس جیسی نابغہ روزگارشخصیت میسرآجاتی۔ کاش مارکسسٹ قرآن کو مذہب کے خانے میں فٹ نہ کرتے اور دین کی حیثیت کو جان پاتے ۔ قرآن نے تو باربار زور دے کر کہا، ہمارے لیے ہمارا ’’اللہ‘‘ ہی کافی یقینا جس خدا کاکارل مارکس انکاری، میں دعوے سے کہتا ہوں وہ اللہ نہیں اور جس مذہب کے خلاف بغاوت کی اسکا اسلام سے تعلق نہیں۔ آل عمران (18:19) اللہ نے خود اسی بات کی شہادت دی کہ ’’اس کے علاوہ کوئی اللہ نہیں ہے ‘‘ اور یہی شہادت فرشتوں اور سب اہل علم نے بھی دی ہے۔ ’’وہ انصاف پر قائم ہے اس زبردست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی اللہ نہیں ہے اور اللہ کے نزدیک ’’دین‘‘ صرف ’’اسلام‘‘ ہی ہے‘‘۔ اہل کتاب، یہودی اور عیسائی ، کے لیے سخت پیغام کہ اللہ کے احکامات اور ہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ، پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں، ظلم وستم روا رکھتے ہیں ، لوگوںکی جان اور مال کے درپے ہیں ۔ اللہ کی مخلوق سے انصاف چھینتے ہیں، ان کودردناک سزا کی وعید سنا دی گئی۔ کتنی بدقسمتی جو انقلاب کارل مارکس یا انیسوی صدی کے نابغے برپا کرنا چاہتے مقابلتاََتحریک قرآن اس سے کہیں زیادہ موثر ، چودہ سو سال پہلے برپا ہوچکی ۔قرآن تو ہے ہی مکمل نظام حیات ،مزید براں باربار تدبر، غوروفکر کی تلقین موجود۔ کتاب تو بنی نوع انسان کو تباہی ، بربادی، بدی، چوری، ظلم، رشوت ، جبر، غلامی، کرپشن، تذلیل انسانیت سے نجات دلانے کے لیے ہی اتاری گئی، مارکس کویہ کیوں نہ معلوم ہوسکا؟
پچھلے کئی ہفتوں سے ایک رجعت پسند کمیونسٹ سے واسطہ پڑ چکا۔ تکلیف صرف اتنی کہ ذہانت فطانیت کا حسین مرقع، بہت ہی معمولی عمر میںغیرمعمولی علم ودانش کی بڑی بڑی منزلیں ضرور پھلانگیں لیکن بیمارنظریہ کے طوق میں گردن ساتھ ہی اٹک چکی۔ کمیونسٹوں کو ہمیشہ قدرومنزلت رتبے اور توقیر کے مقام پر رکھا ، دیکھا اور پرکھاہے ،ایسے ذہین وفطین فکری بحث ومباحثہ کے ماہر اسلام کو پرکھے بغیر کمیونزم کی کشتی میں سوار ہونے میں مستعدی کیوں دکھا جاتے ہیں؟ ہمدم دیرینہ کامریڈراجہ انور نے گتھی سلجھا دی ۔ کہ حضور وطن کے معروضی حالات کا تقاضا صرف اتنا کہ پہلے چرس، راکٹ اور دیگر ادویات کا رسیاہونا پڑتا ہے ،تاکہ کمیونزم میں جائے اماں نظر آئے ۔ اکثریت جب اس کسب میں کمال حاصل کر لیتے ہیں تو نظریاتی آماجگاہ کمیونزم کے علاوہ اور کوئی بن ہی نہیں سکتی۔
40 سال قبل آغا خالد سعید سے ملاقات ہوئی تو تب ہی طے کر لیا تھا کہ اگر اللہ نے زندگی دی تو سکہ بند کامریڈآغا خالد سعید کو زندگی کا حصہ بنانے کا تہیہ ساتھ ہی کر لیا،انتہائی نفیس، مجسمہ اخلاق ۔ قطعاََ معلوم نہ تھا وہ قید مقام سے آگے نکل کر میرے نظریاتی رہنماء بن جائیں گے۔ آغا صاحب سے اب اتنی گزارش کہ وہ واحد شخص جو علم ودانش سے مالامال اسلام اور کمیونزم دونوں پر اتھارٹی، ایک رہنماء کتاب ضرورلکھ جائیں ،ذاتی طور پر ممنون رہوں گا۔ میرے نزدیک قرآن اور کمیونزم کو آمنے سامنے نہیں آنا چاہیے اگر ٹراٹسکی کا نظریہ ضرورت رہنماء اصول بن سکتا ہے تو قرآن کے اندر کمیونزم بھی باآسانی سمو سکتا ہے، کوشش کرنے میں حرج ہی کیا۔ ایک سو سال پہلے جب موثر طریقے سے انسانی کسمپرسی پر سرمایہ دارانہ استعمارکی عمارت استوار ہورہی تھی تو اس کا موثر چیلنج کارل مارکس ہی کی طرف سے آیا۔کارل مارکس یقیناایک بڑا آدمی ہی ۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجودکہ ہیگل جیسا قوی الاہیکل فلاسفر اور سوشل سائنسدان اس وقت کے سماجی، اقتصادی تضادات کے بنیادی اصول وضع کر گیا۔ اس میں کوئی باک نہیں کہ کارل مارکس کو اپنے کام کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ہیگل کا مکتب فکر کا سہار ا لینا پڑا، اس پر مستزادفریڈرک اینگلز جیسادانشورساتھی ایسے میسر رہا کہ Communist Manifesto اور داس کپیٹل جیسی معرکۃ الآرا کتابیں تخلیق کر گئے ۔ پیرومرشد کا خراج تحسین بھی یہی کہ یہودی پیغمبر تو نہیں اور موسی کی تجلی اور عیسی کی صلیب سے محروم بھی مگرکتاب بغل میں ضرور ہے۔ ؎
وہ کلیم بے تجلی، وہ مسیح بے صلیب
نیست پیغمبرولیکن دربغل داردکتاب
اگرچہ کارل مارکس کی نظری اور فکری بحثوں کی بنیاد ہیگل کا فلسفہ جدلیاتی مادیت ہی رہا (کہ مادہ ذہن سے افضل ہے، مزید ذہن ازخود مادے کی ترقی یافتہ شکل ہے بلکہ زماں ومکاں مادے کی ہی صورتیں ہیں)۔مگر یہ پہلو بھی دلچسپ کہ کارل مارکس ہیگل کی عظمت کے بارے میں یکسو نہ رہ سکا۔ جہاں وہ ہیگل کوفلسفہ جدلیاتی مادیت کا موجد قرار دیتا ہے وہاں اسکے فلسفے کو مجموعہ ابہام بھی سمجھتارہا، کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہچکچایا نہیں۔ بقول مارکس،’’ہیگل نے معاشرتی قوتوں کے باہمی تضادکی نشاندہی کو شکل ضرور دی مگر سر کے بل کھڑا کردیا،جبکہ میں نے دو پیروں پر کھڑا کرکے سیدھا کیا‘‘۔مارکس کا ہیگل پرایک غصہ اور بھی کہ ہیگل نے کھل کر’’خدا‘‘ کے وجود کا انکار کیوں نہیں کیا۔مارکس کا الحاد پر اصرار میرے نزدیک اتنے بڑے فلسفی کے لیے تجاوزہی تھا۔ ڈارون کی نیم پختہ تھیوری نے بھی حوصلہ افزائی کی ۔
سوویت یونین کے تتر بتر ہونے پر چند سال یوں لگا کہ فلسفہ مارکس ابدی نیند سو چکا،آج جب روس اور چین میں کمیونزم پر عرصہ حیات تنگ دیکھتا ہوں تو کمیونزم کی جائے امان کہیں نہیں پاتا۔کل ہی یونان کے الیکشن میں لیفٹ کی کامیابی، تالیف قلب ضرور مگر مارکس کے فلسفہ سے کہیں بھی قریب نہیں ۔ اگر ایسی جیت پر گزارا ہوسکتا ہے تو مزید گنجائش نکال کر فلسفہ قرآن کو بھی پرکھ لیں، زیادہ دور نہیں پائیں گے۔
انیسوی صدی نابغوں کی صدی ہی، جتنے بڑے آدمی اس صدی میں آئے یا پیداہوئے انسانی تاریخ اس کی نظیر نہیں رکھتی۔ڈارون، ہیگل، ایڈم سمتھ ، آئین اسٹائن ، اینگلز ، ویگنر، غالب، اقبال ، جناح، گاندھی، روزویلٹ چرچل، لینن، ہٹلر، سٹالن، فرائڈ، گنتے جائیں ، گنتی ختم ہونے کو نہیں۔ انیسویں صدی صنعتی انقلاب کا نقطہ آغازبھی۔انسانی اقدار نچلی سطح کو چھونے میں بھی اپنی مثال ظلم، جبر، تشدد، بانڈڈلیبر، غلامی ، عورت کی حالت زار ہر چیز گراوٹ کی نچلی سطح کو چھو چکی تھی۔ کارل مارکس کا کیس بنتا تھا، مگر بدقسمتی کہ انتہا پسند فکر ونظرسے جہاں ایک طرف بہت سارے پہلو نظر اندازہوئے وہاں حل کیلئے طبقاتی کشمکش اور تشدد انقلاب کا واحد راستہ قرارپایا۔ تصوراتی طورپر دو طبقے وجود میں آئے ۔ پرولتاری (ورکنگ مین) اور بورژوا (مڈل کلاس) دونوں میں متشدد کشمکش لازم وملزوم ٹھہری۔
اگر بحث سمٹیں تو مختصراََکارل مارکس غلامی، جبروتشدد بندہ مزدور کے اوقات، عورتوں کی اندوہناک حالت زار، ناانصافی پرصدق دل سے تڑپ تڑپ گئے ۔ خدا اور مذہب پر برافروختگی اور طبقاتی کشمکش پر برانگیختگی بالکل بالکل بنتی تھی ۔ میرا تو کیس ہی یہی ہے کہ دین حق زیادہ جامع انداز میں ایسی چیزوں کو آڑے ہاتھوں لے چکا تھا۔ قرآن 1400 سال پہلے یہودیت عیسائیت کے بخیے ادھیڑ چکاتھا۔ قرآن کو جانچے پرکھے، سمجھے ،پڑھے ، سنے بغیر ، قرآن کی موجودگی میں ایسے نتائج اخذ کرنا، سائنس کی زبان میں جب مشاہدات میں کجی ہوـگی تو نتائج کیسے جامع مرتب ہوں گے؟اے میرے وطن کے جری دانشورو، ہمت کرو، اپنی دانش کا سکہ جمانے کیلئے قرآن کو زیرباعث لائو، ڈرکاہے کا، جو ڈرگیا وہ مرگیا۔ قرآن تو خودباربار غوروفکر اور تدبر پر اکساتا ہے۔ باقی رہی Opression ،غریب مساکین، عورتوں، غلاموں کی حالت زار ، زرکا سودی بینکاری نظام، ارتکاز دولت، غیرمنصفانہ تقسیم، انصاف، عدل ، تعلیم وتربیت، معاشرتی بھائی چارہ پر مارکس کا فکروفاقہ، اگراس سے بہتر کوئی نیانظام ہو توسامنے لانے میں حرج ہی کیا ؟ سرمایہ داری حالت نزاع میں، مارکسٹ نظام ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دینے کو، ایسا منطقی انجام دیوار پر کنندہ ہی تھا۔
سوشلزم بیچارہ توروس اور چین کو غذائی قلت سے نہ بچا سکا، سرمایہ دار ممالک مدد نہ کرتے تو قحط سالی جکڑ چکی تھی۔ کس منہ پرولتاری کو دو وقت روٹی مہیا کرتے ، ہاں بورژوا سے بزوربازو روٹی چھیننا نسبتاََ آساں ہے۔ عورتوں کے بارے میں 14سو سال پہلے فرمان آگیا کہ ’’ یہ مردوں کا لباس اور مرد ان کا لباس ‘‘ عورتوں کو زندہ درگور کرنا اسلام نے ختم کیا۔ غلامی کے نظام کے پنپنے کے سارے راستے مسدود کردئیے، غلاموں کے پینے اور کھانے کا معیار مالک کے برابر کردیا۔ سود گھنائونا نظام غریبوں کو برباد کرنے کا مہلک ھتیار، یک جنبش قلم خط تنسیخ پھیر دی ۔ غریبوں، مسکینوں ، یتیموں کے حقوق کی حفاظت کا پابند بنایا۔سوچ وبچار ، غوروفکرایمان کا حصہ بنادیا۔ استحصالی نظام حرام قرار پایا۔ ایک قتل انسانی کو انسانیت کا قتل کہا گیا۔ کمزور طبقے،ذمی کی حفاظت ریاست کی ہی کی ذمہ داری ۔ گو کارل مارکس ، ایک جن فلاسفر، سکالر،سوشلسٹ سائنسدان، مگر معاف کیجیے گا ، طبقاتی کشمکش پر سارے فلسفہ کی بنیاد استوارکرنا ’’اس بنیاد پر معاشرے کی اصلاح کا فلسفہ جہاں معاشرتی قوتوں کے باہمی تضادنے جلتی پر تیل کاکام کرنا تھا، میرے جیسے عامیوں کی نظر میں بھی ہیج۔آج بھی کئی ذہین فطین نابغوں کو ایسی بے سروپاء نظریے میں جکڑا پاتا ہوں تو دکھ ہی ہوتا ہے۔ ایک دفعہ ہمدم دیرینہ کامریڈ راجہ انور سے اس کی وجہ معلوم کی توحسب معمول بغیر لگی لپٹی دریا کو کوزے میں بند کر گئے کہ ہمارے ہاں، اشتراکیت کی زلف کے اسیر ہونے کی پہلی شرط لفنٹر اور اوباش پن ہی ۔ جو مخلوق اس میں کوالیفائی کرجائے ،جائے اماں اشتراکیت ہی میں۔ پیرومرشد نے قرآن کی ترجمانی ہی تو کی، کارل مارکس کی باریک بین نظر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہی ۔؎
ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق
جو تجھے حاضر وموجود سے بیزار کرے
موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کررخ دوست
زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے
دے کے احساس زیاں تیرا لہوگرما دے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوارکرے
فتنہ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلمانوں کو سلاطیں کاپرستارکرے
تازہ ترین