آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
برصغیر میںمسلمانوں کی الگ آزاد اورخود مختار مملکت کاخواب سب سے پہلے جس شخص نےدیکھا اوراسےپاکستان کانام دیا3فروری کواس کی 64 ویں برسی ہے۔ اس کی یاد منانا تودرکنار قومی سطح پراسے وہ مقام اورمرتبہ بھی نہیں ملا جس کاوہ مصور پاکستان علامہ محمداقبال اوربانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے بعد سب سے زیادہ مستحق تھا۔ ہوشیارپور(مشرقی پنجاب) میں16 نومبر 1897 کوپیداہونے والایہ شخص تاریخ کی کتابوںمیں چوہدری رحمت علی کے نام سے جاناجاتا ہے۔اس عظیم شخصیت کاذکر زیادہ تراس حوالے سے کیاجاتا ہے کہ انہوں نے لفظ ’پاکستان‘تخلیق کیا۔لیکن موجودہ نسل کے شاید کم ہی لوگ جانتے ہوں گے کہ سب سے پہلے انہوں نے ہی برصغیر میںوفاق ہندوستان کے متوازی مسلم اکثریت کے شمالی مغربی علاقوں پرمشتمل وفاق پاکستان کے قیام کی تجویز پیش کی تھی جوپاکستان اسکیم کے نام سے مشہور ہوئی۔یہی نہیں بلکہ سوانح نگاروں کے مطابق انہوں نے ہندوستان کےمسلم اکثریتی واقلیتی علاقوں پرمشتمل مزید 9 آزاد ریاستوں کی تشکیل کاخاکہ بھی پیش کیاتھا اوران کے نام بھی تجویز کئے تھے جنہیں ان کی اسکیم کے مطابق وفاق پاکستان کاحصہ ہونا چاہئے تھا،جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں،پنجاب کے پہلے حرف’پ‘ افغانیہ(شمالی مغربی سرحدی صوبہ ۔اب خیبر پختونخوا)کے’ الف‘ کشمیر

کے’ک‘سندھ کے ’س‘ اور بلوچستان کے ’تان‘ کو ملا کر پاک ستان یا ک کے نیچے زیر کے ساتھ پاکستان بنتا ہے۔ یہ انگریزی کاPAKISTANنہیں کیونکہ اس میں انگریزی حرف’آئی‘ اضافی ہے جوکسی علاقے کے نام سے مشتق نہیں۔چوہدری رحمت علی کی اسکیم کے مطابق یہPAKSTANہے۔یعنی پاک قوم کاوطن،یہ اسکیم انہوںنے1933میں اپنے ایک کتابچے کے ذریعے متعارف کرائی جس کاعنوان تھا’’اب یاکبھی نہیں‘‘۔ انہوں نے ہندوستان کے نقشے پرسبز رنگ پھیرکرمجوزہ پاکستان کی جغرافیائی حدود کی نشاندہی بھی کردی تھی۔ان کے پاکستان میں دریائے جمنا تک ساراپنجاب‘موجودہ خیبر پختونخوا‘ جموں و کشمیر، سندھ سے ملحق کاٹھیاواڑاور گجرات کے کچھ علاقے، سندھ اوربلوچستان شامل تھے۔
تاریخی حقیقت تویہی ہے کہ برصغیر میں ہندومسلم دوقومی نظریہ اورمسلمانوں کے لئے ہندوستان کے شمالی مغربی علاقوں پرمشتمل جداگانہ وحدت کاتصورسب سے پہلے علامہ محمد اقبال نے1930میں اپنے مشہور خطبہ الہ آباد میں پیش کیا تھا۔لیکن اس کاکوئی نام تجویز نہیں کیاتھا۔چوہدری رحمت علی کی اسکیم علامہ کی تجویز سے بنیادی طور پرمختلف اورغیر مبہم تھی لیکن فکری لحاظ سے کہاجاسکتا ہے کہ انہوں نے علامہ کے تصور کوہی آگے بڑھایا۔اس وقت وہ کیمرج یونیورسٹی کے عمانویل کالج میں پڑھ رہے تھے۔ہندوستان کےمسلمان قائدین نے پاکستان اسکیم کوایک گمنام طالب علم کاخیالی پلاؤ سمجھ کراسے کوئی خاص اہمیت نہ دی۔چوہدری رحمت علی بھی ہندوستان کےمسلم دھارے سے الگ تھلگ انگلستان ہی میں بیٹھے رہے اورپاکستان نیشنل موومنٹ قائم کرکے اس کے پلیٹ فارم سے عملی سے زیادہ علمی اورقلمی جہاد میں مصروف رہے۔ اس لئے وہ خود اوران کے ساتھ پاکستان اسکیم بھی ہندوستانی مسلمانوں کی زیادہ توجہ حاصل نہ کرسکی۔ تاہم کچھ لوگوں نے ان کے نظریے سے متاثر ہو کر پنجاب میں مجلس کبیرپاکستان قائم کی ۔1939 میں یہیںایک تنظیم پاکستان ایسوسی ایشن تشکیل دی گئی۔یوپی میں ہفت روزہ پاکستان جاری ہوااور پاکستان کے تصور کی تشہیر کےلئے بمبئی میں بھی ایک ہفت روزہ شائع ہونے لگا،اس طرح پاکستان کانام لوگوں کی زبانوں پرآگیا۔متعصب ہندو اخباروںنے مسلم دشمنی میں اسے بہت اچھا لا جس سے مسلمان بھی متوجہ ہونے لگے مارچ 1940میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں ایک مسلم مملکت کے لئے جوقرارداد منظور ہوئی اس میں پاکستان کاکوئی ذکرتک نہ تھا مگر قائداعظم اوران کے رفقا لاہور سے واپسی کےلئےجب ریلوے اسٹیشن پرپہنچے تووہاں موجود عوام کے جم غفیر نے قائداعظم زندہ باد کے ساتھ پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے بھی لگائے۔جس سے یہ نام لوگوں کے دل ودماغ پرچھا گیا اوربالآخر قرارداد لاہور ،قراردادپاکستان میںتبدیل ہوگئی۔بنگال بھی ابتدا میں پاکستان کے منصوبے کاحصہ نہیںتھا۔اسے اس وقت شامل کیاگیا جب دہلی کنونشن میں متحدہ بنگال کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی نے بنگال کوپاکستان کاحصہ قرار دینے کی قرار داد پیش کی جس کی مولانا عبدالحمید بھاشانی نے پرزور تائید کی۔اسے تاریخ کی ستم ظریفی کہئے یاکچھ اورکہ بنگالی خود اصرارکرکے پاکستان میں شامل ہوئے اورآخر میں لڑجھگڑ کرخود ہی الگ ہوگئے۔اس طرح پاکستان کی جغرافیائی حدود بالآخر وہی ٹھہر یں جن کی نشاندہی علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں کی تھی۔
چوہدری رحمت علی نے پاکستان کے وفاق کانظریہ1933میں پیش کیامگر بعد میں 1937 تک پاکستان اسکیم کووسعت دیتے ہوئے مزید9 جداگانہ اورخودمختار مسلم مملکتوں کے قیام کامطالبہ کیا۔انہوں نے بنگال اورآسام کومتحد کرکے ’’بانگستان‘‘ کے نام سے الگ مملکت قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔حیدرآباد دکن کےلئے ’’عثمانستان‘‘ کانام تجویز کیا۔اسی طرح سی پی،بندھیل کھنڈ، مالوہ، بہار،اڑیسہ،راجستھان، بمبئی، مدراس اورمشرقی ومغربی لنکا کی مسلم اقلیتوں کے لئے بھی جداگانہ مملکتوں کامطالبہ کیا اوران کے نام صدیقستان، فاروقستان، حیدرستان، حینستان، ماپستان، صافستان اورتاصر ستان تجویز کئے ان کی خواہش تھی کہ ان آزادمملکتوں یاریاستوں کووفاق پاکستان کے ماتحت تشکیل دیاجائے۔ان کا خیال تھا کہ اس طرح ایک مسلم وفاق میں ضم ہوکر ان علاقوں کے مسلمان ہندوقوم کی چیرہ دستیوں سے محفوظ ہو جائیںگے۔یہ الگ بات ہے کہ یہ منتشر ریاستیں قائم ہوبھی جاتیں توان کاایک وفاق میں ضم ہوجانا شاید غیرمنطقی یاناقابل عمل ہوتا جیسا کہ مشرقی پاکستان کے معاملے میںہوا،تاہم ان کے ذہن میں جوتصور ابھرا وہ ان کے اخلاص نیت کامظہر تھا،لیکن انہوں نے خودکوکیمبرج تک محدودرکھاجس کی وجہ سے ان کی تحریک قبول عام حاصل نہ کرسکی۔وہ مارچ 1940میں کراچی میں سرعبداللہ ہارون کے گھر میں مقیم ہونے کے باوجود دوستوں کے مشورے کونظرانداز کرتے ہوئے مسلم لیگ کے لاہور والے اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔دراصل وہ مسلم لیگی قیادت کی سوچ سے متفق نہ تھے چنانچہ 1947میں تقسیم ہند کامنصوبہ سامنے آیا توانہوں نے اس کٹے پھٹے پاکستان کوقبول کرنے سے انکار کردیا اوراس کے خلاف بیانات بھی جاری کئے جس سے ان کی ذات متنازعہ ہوکر گہنا گئی۔خاص طورپر پنجاب کی تقسیم اورہندوستان میں مسلمانوں کے قتل عام پربہت دل برداشتہ ہوئے۔وہ قائداعظم سےمل کران سے دل کی باتیں کرنا چاہتے تھے مگرقائد کاانتقال ہوگیا۔اس وقت وہ کراچی میں تھےوہیں سے واپس انگلستان لوٹ گئے اپنےملنے والوں سےوہ ان ساڑھے تین کروڑ مسلمانوں کی حالت زار کاذکر کرتے جوبھارت میں ہندوؤں کے رحم وکرم پررہ گئے تھے۔اس عزم کابھی اظہار کرتے کہ وہ ان تمام علاقوں کوآزاد کراکے رہیںگےجوان کی اسکیم میں شامل تھے۔مگر اس سے پہلے کہ کوئی نیا قدم اٹھاتے، 3فروری1951کوان کاکیمبرج ہی میں انتقال ہوگیا۔ورثا کی عدم موجودگی کے باعث 17روز بعد انہیںکیمبرج ہی میں امانتاََ عیسائیوں کے قبرستان میں سپردخاک کردیاگیا۔کفن دفن پراٹھنے والی سوپونڈ کی رقم بھی عمانویل کالج نے ادا کی جہاں انہوں نے تعلیم حاصل کی تھی،پاکستان کی مختلف حکومتیں ان کاجسد خاکی پاکستان لاکرپورےاعزاز کے ساتھ تدفین کے اعلانات کرتی رہیں مگر عمل کی کسی کوتوفیق نہ ہوئی۔ 2004میں اس وقت کے وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نےبھی ایسا ہی اعلان کیا لیکن پھراس پرمٹی ڈال دی۔پاکستان کی یہ امانت 64سال سے انگلستان میں اپنے وارثوں کاانتظار کررہی ہے اورشاید قیامت تک کرتی رہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں