آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 17؍ذیقعد 1440ھ21؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
گزشتہ دنوں ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں شرکت کیلئے بلجیم کے شہر برسلز جانے کا اتفاق ہوا۔ ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز (FICAC) دنیا کے 90ممالک کے اعزازی قونصلر اور قونصل جنرلز کی نمائندہ فیڈریشن ہے جس کا 13 رکنی بورڈ آف ڈائریکٹرز ادارے کے انتظامی امور چلاتا ہے۔ FICAC کا قیام اکتوبر 1982ء میں یورپ کے شہر کوپن ہیگن میں عمل میں آیا جبکہ ادارے کا ہیڈ کوارٹر برسلز میں ہے۔ یہ ادارہ اقوام متحدہ کے ویانا کنونشن قونصلر ریلیشنز1963ء کے تحت دنیا بھر میں خدمات انجام دے رہا ہے جس کا الحاق اقوام متحدہ کے علاوہ یورپی یونین سے بھی ہے۔ دنیا بھر کے بیشتر ایسے ممالک جہاں اُن کے سفارتخانے نہیں، وہ اپنے ملک کی نمائندگی کیلئے اعزازی قونصل جنرل متعین کرتے ہیں جن کا کام دونوں ممالک میں تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ یہ اعزازی قونصل جنرل کوئی معروف بزنس مین یا اہم شخصیت ہوتا ہے جسے دونوں ممالک کی حکومتیں باہمی رضامندی سے نامزد کرتی ہیں۔ ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی اعزازی قونصل جنرلز کارپس پاکستان کی نمائندگی کرتی ہیں۔ قونصلر کارپس سندھ کراچی (CCSK) جس کا میں صدر ہوں، میں 78 ممالک کے اعزازی قونصل/جنرلز ممبر ہیں۔ اسی طرح قونصلر کارپس پنجاب لاہور (CCPL) میں 49 ممالک اور قونصلر

کارپس کیپٹل اسلام آباد (CCCI) میں 16 ممالک کے اعزازی قونصلر اور قونصل جنرلز ممبرز ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں 5 جبکہ خیبرپختونخواہ میں 10 اعزازی قونصل جنرلز تعینات ہیں اور اس طرح پاکستان میں مختلف ممالک کے مجموعی 158 اعزازی قونصلر اور قونصل جنرلز تعینات ہیں۔
کچھ سالوں قبل تک ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز میں یورپی ممالک کا زیادہ اثر و رسوخ تھا لیکن 2006ء میں FICAC کے صدارتی انتخابات میں جمیکا کے آرنلڈ فوٹ کی کامیابی کے بعد ایشیاء، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک کو رکنیت دی گئی جس کے بعد ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز اب صحیح معنوں میں دنیا کے اعزازی قونصل جنرلز کی نمائندہ ایسوسی ایشن بن چکی ہے۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز کا انتخاب 3 سال کیلئے ہوتا ہے۔ قونصلر کارپس سندھ نے 2008ء میں پہلی بار ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کی رکنیت حاصل کی اور پہلی بار پاکستان کا جھنڈا اس عالمی تنظیم میں لہرایا گیا جس کے بعد مسلسل 7 سالوں سے ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کے بورڈ آف مینجمنٹ پر نامزد ہورہا ہوں جو ملک کیلئے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ اسی دوران ہماری کوششوں سے پاکستان کی پنجاب اور اسلام آباد کی قونصلر کارپس نے بھی اس ادارے میں رکنیت حاصل کی۔ 2009ء میں پاکستان نے ورلڈ فیڈریشن کے اجلاس کی دبئی میں میزبانی کی جس میں متحدہ عرب امارات کی معزز شخصیات اور دنیا کے اعزازی قونصل جنرلز نے شرکت کی۔ اس موقع پر میں نے ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کو Vibrant Pakistan متعارف کرایا۔ ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کے موجودہ صدر اکوت ایکن کا تعلق ترکی سے ہے جہاں وہ جمیکا کے قونصل جنرل کی حیثیت سے تعینات ہیں جبکہ میری اہلیہ نورین بیگ پاکستان میں جمیکا کے اعزازی قونصل جنرل ہیں۔ بیگ فیملی کیلئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں یمن، میرے بھائی اشتیاق بیگ مراکش اور میرا بیٹا عمیر بیگ پولینڈ کے اعزازی قونصل جنرل ہیں۔ حال ہی میں مجھے بورڈ آف ڈائریکٹر اجلاس میں جنوبی ایشیائی ممالک کا ریجنل چیئرمین نامزد کیا گیا ہے جس میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، ایران، افغانستان، بھوٹان، نیپال، مالدیپ اور سری لنکاشامل ہیں۔
ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کی آئندہ بورڈ میٹنگ اور ایسٹ ایشیاء قونصلر کانفرنس 28 سے 30 نومبر تک ملائیشیا کے شہر پیننگ میں منعقد ہوگی جس کی میزبانی ملائیشیا میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل دتو حاجی عبدالرفیق کریم کریں گے۔ حالیہ اجلاس میں، میں نے 2017ء میں ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز بورڈ آف ڈائریکٹر کے اجلاس کی میزبانی کیلئے پاکستان کا نام تجویز کیا ہے۔ اجلاس کے پہلے دن شام کو قونصلر کارپس بلجیم کے ڈین نے برسلز کے مضافات میں واقع قدیم تاریخی محل ’’شیتو ڈی اوپ ہیم‘‘ میں عشایئے کا اہتمام کیا جس میں بلجیم اور یورپی کمیشن میں متعین سینئر سفارتکاروں اور شہر کے معززین نے اپنی بیگمات کے ہمراہ شرکت کی جبکہ دوسرے دن قونصلر کارپس بلجیم نے شہر کے معروف ڈی وارندے کلب میں پرتکلف عشایئے کا اہتمام کیا۔ یہ کلب 1988ء میں Flemish حکومت نے بلجیم کے امراء کیلئے قائم کیا تھا جس کے ممبرز صرف ملک کی اعلیٰ شخصیات ہیں۔ کلب کی عمارت امریکہ، فرانس اور دیگر اہم ممالک کے سفارتخانوں سے ملحق ہے جس کے باعث مہمانوں کو فوج کی سخت سیکورٹی سے گزرنا پڑتا ہے۔ یاد رہے کہ 22 مارچ 2016ء کو برسلز ایئرپورٹ پر دو خود کش حملوں میں 32 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی تھی جس کے بعد سے برسلز کے شاپنگ سینٹرز اور دیگر عوامی مقامات پر مسلح افواج متعین کردی گئی ہیں جبکہ برسلز ایئرپورٹ پر سیکورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے۔
برسلز کی آبادی 11.87 ملین ہے جس میں بلجیم کی فرانسیسی اور فلی میش کمیونٹی شامل ہے۔ برسلز یورپی کمیشن اور نیٹو کا مرکز ہے جہاں فرانسیسی زبان بولی جاتی ہے۔ یہ اہم شہر صرف 161 اسکوائر کلومیٹر پر مشتمل ہے جہاں تقریباً 24 ہزار پاکستانی مقیم ہیں۔ ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کے اجلاس کے علاوہ ہماری خصوصی ملاقات انٹرنیشنل چیمبرز آف کامرس (ICC) اور بلجیم چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (BCCI)کے سیکریٹری جنرل میتھیو مائس سے ہوئی۔ پاکستان میں آئی سی سی چیپٹر کے صدر طارق رنگون والا ہیں۔ یہ ادارہ دنیا بھر میں اپنے قوانین کے تحت عالمی تجارت کی نگرانی کرتا ہے اور تنازعات کی صورت میں ادارے کا ثالثی کمیشن فیصلے کرتا ہے جس کا اطلاق دنیا بھر کے بینکوں اور متعلقہ اداروں پر ہوتا ہے۔ برسلز میں قیام کے دوران میری ملاقات اقوام متحدہ ریجنل انفارمیشن سینٹر (UNRIC) کے یورپ میں ڈائریکٹر ڈیبرا سی ورڈ اور ڈپٹی ڈائریکٹر کیرولین پیٹیڈ سے ہوئی۔ اس عالمی ادارے کی پاکستان سمیت دنیا بھر کے 90 سے زائد ممالک میں شاخیں ہیں۔ ہماری میٹنگ میں دنیا سے غربت کو ختم کرنے کیلئے اقوام متحدہ کے اہداف (SDGs) زیر بحث آئے۔
وزیراعظم کے مشیر کی حیثیت سے میں جب بھی یورپی یونین سے جی ایس پی پلس ڈیوٹی فری مراعات کے سلسلے میں برسلز گیا، یورپی یونین میں متعین جیو اور جنگ سمیت مختلف پاکستانی ٹی وی چینلز و اخبارات کے نمائندوں اور پیپلزپارٹی کے رہنمائوں سے ملاقات ہوتی تھی۔ اس بار بھی جب برسلز گیا تو پیپلزپارٹی کے رہنمائوں اور میڈیا نمائندوں سے ملاقات ہوئی جنہوں نے میرے اعزاز میں عشایئے کا اہتمام کیا جس میں برسلز میں متعین پریس و الیکٹرونک میڈیا کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ عشایئے کے دوران پاک بھارت سرحدی کشیدگی، پاکستان میں امن و امان کی صورتحال، سی پیک منصوبوں میں پیشرفت، تحریک انصاف کے رائیونڈ مارچ سے پیدا ہونے والے سیاسی عدم استحکام اور ملکی معیشت پر اس کے اثرات زیر بحث آئے۔ میں برسلز میں پیپلزپارٹی بلجیم کے رہنمائوں ملک اجمل، خالد محمود، شیخ شکیل، جاوید چوہدری، رانا مصرف، شیخ الیاس، پاکستان پریس کلب بلجیم کے صدر خواجہ ظفر، سینئر صحافی خالد حمید فاروقی، انیب راشد، عمران بیگ، ندیم بٹ، عمران ثاقب، اختر سیالوی، مسعود ملک سمیت دیگر صحافیوں بالخصوص اپنے دوست عباس خان کی میزبانی کا مشکور ہوں۔


.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں