آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍رمضان المبارک 1442ھ21؍ اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

موسم تبدیل، احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، الرجی سے بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ ہے، ڈاکٹر عمرفاروق

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان میں الرجی کی بیماریوں میں سب سے زیادہ عام الرجک رائنائٹس یا ناک کی الرجی ہے جس کی شرح 24اعشاریہ 62فیصد ہے جبکہ سندھ میں اس کی شرح 27اعشاریہ 92فیصد ہے جو دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی یہ شدت اختیار کر جاتی ہے اس لئے عوام کو چاہیے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ان خیالات کا اظہار ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پروفیسر اور ای این ٹی کنسلٹنٹ ڈاکٹرعمرفاروق اور سائوتھ سٹی اسپتال کے ای این ٹی کنسلٹنٹ ڈاکٹر کلیم اللہ تہیم نے موسم کی تبدیلی کے اثرات کے حوالے سےبدھ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ناک کی الرجی عموماً اس وقت ہوتی ہے جب کوئی شخص ایسی فضا یا ایسی چیز میں سانس لے جس سے اسے الرجی ہو اور اس کے نتیجے میں اس کے ناک میں سوجن اور ورم ہو جائے۔ اس کی علامات میں ناک کا بہنا ، چھینکیں آنا، ناک بند ہونااور ناک میں کھجلی ہوناشامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناک کی الرجی صحت کا ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ اس کا پھیلائو اور اثرا ت مریض کی سماجی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں اسکول اور دفتر کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔یہ اثرات جسمانی طور پر صرف ناک اور آنکھوں تک ہی محدود نہیں رہتے بلکہ مضر اثرات معیار زندگی پر بھی مرتب ہوتے ہیں اور نفسیاتی اثرات کے ساتھ سیکھنے کا عمل اور سمجھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عمر فاروق نے کہا کہ ناک کی الرجی سے بالخصوص بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ اس کا شکار 88فیصد مریض بچے نیند کے مسائل سے دوچار رہتے ہیں اس الرجی کے باعث اکثر وبیشتر بچے دمے کے مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ الرجی پیدا کرنے والی اشیاء ہیں جو گھر کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر ہوسکتی ہیں ا ن اشیا ء میں دھول ، مٹی، درخت، گھاس پھوس ،جھاڑیاں، جانوروں کے بال ،خشکی ودیگر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسے عام طور پر موسمی الرجی اور خشک بخار بھی کہا جاتا ہے۔اس کے علاج کے طورپر مریض کی معیار زندگی بہتر بنائی جائے ، صفائی ستھرائی کا خیال رکھا جائے اور اسے خوش وخرم اور صحت مند رکھا جائے۔ ڈاکٹر کلیم اللہ تہیم نے کہا کہ اس کے علاج کے لئے بچوں اور بڑوں کے لئے بہت ساری ایجادات موجود ہیںجو بازار میں دستیاب ہیں جنہیں اس مرض کی شدت کم کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتاہے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ الرجک رائنائٹس یا ناک کی الرجی دنیا بھر میں صحت کا ایک اہم مسئلہ بنتی جارہی ہے جو حقیقی طور پر معیار زندگی میں خلل ڈالتی ہے اس لئے عوام کو چاہیے کہ اپنا خیال رکھیں ، موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ان چیزوں سے دور رہیں جو الرجی پیدا کرتی ہیں۔
تعلیم صحت خواتین سے مزید