آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ28؍جمادی الاوّل 1441ھ 24؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز دنیا کے اعزازی قونصل جنرلز کی عالمی نمائندہ ایسوسی ایشن ہے جو اقوام متحدہ کے ویانا کنونشن قونصلر ریلیشنز1963ء کے تحت دنیا بھر میں خدمات انجام دے رہی ہے جس کا اقوام متحدہ اور یورپی یونین کیساتھ الحاق ہے۔ ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز (FICAC) کا ہیڈ کوارٹر برسلز میں ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک جہاں اُن کے سفارتخانے نہیں ہیں، اپنے ملک کی نمائندگی کیلئے اعزازی قونصل جنرل تعینات کرتے ہیں جن کا کام باہمی ممالک میں تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ یہ اعزازی قونصل جنرلز میزبان ممالک کے معروف بزنس مین اور اہم شخصیات ہوتی ہیں جنہیں دونوں ممالک کی حکومتیں باہمی رضامندی سے اپنے ملک کی نمائندگی کیلئے نامزد کرتی ہیں۔ ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز میں پاکستان کی نمائندگی کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی اعزازی قونصل جنرلز کی قونصلر کارپس کرتی ہیں۔ قونصلر کارپس سندھ کراچی (CCSK) کا میں صدر ہوں جس میں 78 ممالک کے اعزازی قونصل /جنرلز ممبر ہیں، اسی طرح قونصلر کارپس پنجاب لاہور (CCPL) میں 49 ممالک اور قونصلر کارپس کیپٹل اسلام آباد (CCCI) میں 16 ممالک کے اعزازی قونصل/ جنرلز ممبرز ہیں۔ اسکے علاوہ بلوچستان میں 5اور خیبرپختونخوا میں بھی 10اعزازی قونصل جنرلز تعینات ہیں۔ اس طرح پاکستان میں مختلف ممالک کے 158 اعزازی قونصل/

جنرلز تعینات ہیں۔
ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز میں 2006ء تک یورپی ممالک کا زیادہ اثر و رسوخ تھا لیکن 2006ء کے صدارتی انتخابات میں جمیکا کے آرنلڈ فوٹ کی کامیابی کے بعد ایشیاء، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک کو ممبر شپ دی گئیں جسکے بعد ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز اب صحیح معنوں میں دنیا کے اعزازی قونصل جنرلز کی نمائندہ ایسوسی ایشن بن چکی ہے۔ قونصلر کارپس سندھ نے 2008ء میں پہلی بار ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کی رکنیت حاصل کی اور پہلی بار پاکستان کا جھنڈا اس عالمی تنظیم میں لہرایا گیا۔ اسکے بعد میں مسلسل ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کے بورڈ آف مینجمنٹ پر نامزد ہورہا ہوں جو ملک کیلئے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ اسی دوران ہماری کوششوں سے پاکستان کی پنجاب اور اسلام آباد کی قونصلر کارپس نے بھی اس ادارے میں رکنیت حاصل کی۔ 2009ء میں پاکستان نے ورلڈ فیڈریشن کے اجلاس کی دبئی میں میزبانی کی جس میں ہم نے متحدہ عرب امارات کی معزز شخصیات اور دنیا کے اعزازی قونصل جنرلز کو Vibrant Pakistan متعارف کرایا۔ اس موقع پر دنیا سے آئے ہوئے مختلف ممالک کے قونصل جنرلز کو دبئی گلوبل ولیج میں پاکستانی پویلین میں ہماری ثقافت اور میوزک سے روشناس کرایا گیا۔ سندھ کی اجرک ٹوپی پہنے اسٹیج پر جب غیر ملکی قونصل جنرلز جیوے جیوے پاکستان گارہے تھے تو مجھ سمیت وہاں موجود ہر پاکستانی فخر محسوس کررہا تھا۔ ان 7 سالوں میں میرے ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کے اعلیٰ عہدیداران اور بورڈ ممبران سے نہایت قریبی تعلقات قائم ہوئے۔
اس سال FICAC کی گیارہویں ورلڈ کانگریس آف قونصلز کا اجلاس جس کا عنوان ’’بریجنگ دی ورلڈ‘‘ تھا، ترکی کے شہر استنبول میں 18سے 22نومبر تک منعقد ہوا جس میں دنیا بھر کے مندوبین، اعلیٰ شخصیات اور حکومتی نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ میں نے بھی اپنی اہلیہ کے ساتھ اس اجلاس میں شرکت کی۔ 19نومبر کی صبح استنبول پہنچنے پر ہمارا ایئرپورٹ کے وی آئی پی لائونج میں استقبال کیا گیا۔ ہمارا قیام استنبول کے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں تھا۔ پہلے دن بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبران اپنی اہلیہ کے ساتھ مسیحی فرقے آرتھوڈوک کے ترکی سے تعلق رکھنے والے پوپ ہولینس ایکومینکل پیٹریاچ بارتھو لوموف سے ان کے چرچ میں ملاقات کرائی گئی۔ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے ورلڈ فیڈریشن کے صدر آرنلڈ فوٹ اور سیکرٹری جنرل اکوت ایکن کے علاوہ رومانیہ کے شہزادے رادو، عراق کی شہزادی نسرین الحشمتی، استنبول کے گورنر واسپ ساہن، بنگلہ دیشی وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر گوہر رضوی اور یورپی یونین میں کیریبین کی سفیر ڈاکٹر لین اشمیل نے خطاب کیا۔ اس موقع پر میں نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم ترکی کو اپنا دوسرا گھر محسوس کرتے ہیں، ترکی نے میانہ روی اپناتے ہوئے مسلم امہ اور دنیا کے دیگر ممالک میں ایک مقام بنایا ہے جس کی معاشی ترقی دنیا کیلئے ایک رول ماڈل ہے۔ ترکی نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور دونوں ممالک کے لوگوں کے دل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر عراق کی شہزادی نسرین الحشمتی نے اپنی تقریر میں کہا کہ دنیا میں ملالہ کی طرح بے شمار لڑکیاں ہیں ۔ تقریر کے بعد چائے کے وقفے کے دوران میرے ساتھ پاکستان سے آئے ہوئے قبرص کے اعزازی قونصل جنرل میاں حبیب اللہ، پیراگوئے کے اعزازی قونصل جنرل کنور ایم طارق اور یوراگوئے کے اعزازی قونصل جنرل سینیٹر انور بیگ نے عراق کی شہزادی نسرین الحشمتی کو بتایا کہ ملالہ دنیا کی دیگر لڑکیوں سے اسلئے مختلف ہے کہ ملالہ نے پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کیلئے جدوجہد کی جس کی آواز بند کرنے کیلئے دہشت گردوں نے اسے دہشت گردی کا نشانہ بنایا لیکن موت سے جنگ کرکے آج وہ دوبارہ اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہماری وضاحت پر شہزادی نسرین نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میرا مقصد ملالہ کی ہمت و جرات کو ہرگز کم کرنا نہیں تھا۔
کانگریس کے دوسرے دن آئندہ تین سالوں 2016-18ء کیلئے ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کے انتخابات منعقد کئے گئے جس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے اعزازی قونصل جنرلز اور قونصلر کارپس کے نمائندوں نے اپنے اپنے ممالک کے نمائندوں کیلئے لابنگ کی۔ کانگریس میں یورپ سے آئے ہوئے قونصل جنرلز کی تعداد زیادہ تھی لیکن بنگلہ دیش، بھارت، نیپال، پاکستان کے وفود بھی شامل تھے۔ اجلاس میں کراچی میں یمن کے اعزازی قونصل جنرل اور قونصلر کارپس سندھ پاکستان کے ڈین کی حیثیت سے مجھے مسلسل تیسری بار بھاری اکثریت سے ورلڈ فیڈریشن آف قونصلر کے بورڈ آف مینجمنٹ پر 3سال کیلئے ڈائریکٹر منتخب کیا گیا جو پاکستان کیلئے بڑے اعزاز کی بات ہے جبکہ بورڈ کے دیگر ممبران میں مناکو کے ایس شوین، یونان کے مرگار پولوس، برازیل کے ٹی اے نیوس، بلجیم کے ایف پیریس، سلوانیا کے ایم سموئیل، ناروے کے ایل کے سوریٹڈ، بھارت کے کے ایل کانجو اور بنگلہ دیش کے اے چوہدری شامل ہیں۔ اس موقع پر ترکی سے تعلق رکھنے والے اکوت ایکن کو ورلڈ فیڈریشن آف قونصلر کارپس کا نیا صدر اور قبرص کے کوستاس لیفکریتس کو نائب صدر منتخب کیا گیا۔ ہمارے میزبان اور ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کے نومنتخب صدر اکوت ایکن اور ان کی اہلیہ گونا ایکن میرے اور میری اہلیہ کے قریبی دوست ہیں۔ اکوت ایکن ترکی میں جمیکا کے اعزازی قونصلر جنرل ہیں جبکہ میری اہلیہ پاکستان میں جمیکا کے اعزازی قونصل جنرل کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ ان کے علاوہ بیگ فیملی کیلئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں یمن، میرے بھائی اشتیاق بیگ مراکش اور میرا بیٹا عمیر بیگ پولینڈ کے اعزازی قونصل جنرل ہیں۔
رات کو ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کے نئے صدر اور ان کی اہلیہ نے شرکاء اور ان کی بیگمات کے اعزاز میں لگژری کروز پر عشایئے کا اہتمام کیا جہاں سے ترکی کا مشہور باسپورس پل جو ایشیاء کو یورپ سے ملاتا ہے، کے حسین نظارے کو بھلانا ممکن نہیں۔ کانگریس کے دوران خواتین کیلئے علیحدہ تفریحی انتظامات کئے گئے تھے جس میں خواتین کو ترکی کا مشہور میوزیم توپ کاپی پیلس، حاجیہ صوفیہ، نیلی مسجد، ہپوڈروم، باسلیکا کرسٹین، سینٹ سوویئر چرچ، کیری میوزیم کا دورہ کرایا گیا۔ بعد ازاں استنبول کے گورنر کی اہلیہ نے تمام شرکاء خواتین کے اعزاز میں عصرانے کا اہتمام کیا۔ ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کا آئندہ اجلاس 2018ء میں بلجیم کے شہر برسلز میں منعقد ہوگا۔ ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کے نئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے استنبول کے پہلے اجلاس میں میں نے آئندہ ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کی بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ پاکستان میں رکھنے کی تجویز دی ہے تاکہ ورلڈ فیڈریشن قونصلز کے نمائندہ قونصل جنرلز کو پاکستان کے بارے میں آگاہی ہوسکے۔

ادارتی صفحہ سے مزید