• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنات کیا ہیں؟ ... انداز بیاں … سردار احمد قادری

لوگ پوچھتے ہیں کہ جنات ہیں یا نہیں ہیں، اس سلسلے میں کوئی شک ہی نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے جو چھپی رہتی ہے اور اس کا چھپا ہوا رہنا اس کے لفظ یعنی ’’جن‘‘ کے معنی میں پوشیدہ ہے۔ عربی زبان کے ماہرین بتاتے ہیں عربی قواعد کے مطابق جس لفظ میں ’’ج اور ن ‘‘ کے حروف شامل ہوں گے اس میں پوشیدہ یعنی چھپے ہوئے ہونے کے معنی موجود ہیں۔ مثلاً بچہ ’’رحم مادر‘‘ میں یعنی بچہ دانی میں چھپا ہوا ہوتا ہے اس کو عربی زبان میں ’’جنین‘‘ کہتے ہیں۔ فولادی زرہ پہن کر فوجی کا جسم چھپ جاتا ہے زرہ کو عربی میں ’’جُنتہ‘‘ کہتے ہیں۔ پاگل آدمی کی ذہنی صلاحیتیں چھپ جاتی ہیں اور پاگل پن ظاہر ہوجاتا ہے اس کو اس کے عقل سلیم کے چھپ جانے کو ’’جنون‘‘ اور ایسے شخص کو ’’مجنون‘‘ کہتے ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ ’’جن‘‘ بھی ایسی مخلوق ہے جسے خالق کائنات نے عام انسانی آنکھوں سے اوجھل اور پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنات کو اپنی عبادت یعنی اپنی معرفت کے لئے پیدا فرمایا ہے، قرآن مجید اس پر شاہد ہے۔ سورۃ الرحمٰن میں اور دیگر مقامات پر بھی جنات کا آگ سے بنایا جانا اور انسان کا مٹی اور گارے سے بنایا جانا ثابت ہے۔ شیطان لعین بھی ایک جن ہے اس کو جن ہونے کے باوجود ملائکہ کا قرب عطا کیا گیا لیکن سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام کی تعظیم نہ کرنے کی وجہ سے ’’ابلیس‘‘ بنایا اور جنت سے نکال دیا گیا اور ہمیشہ کے لئے لعنتی ہونے کا حکم سنایا گیا۔ جن کس طرح ہوتے ہیں؟ کیسے نظر آتے ہیں؟ کہاں کہاں ہوتے ہیں؟ کیا کرتے ہیں، کیا کھاتے ہیں؟ کتنی عمریں ہوتی ہیں؟ اور ان کے مشاغل کیا ہیں؟ اس سلسلے میں عوام الناس میں بحث چلتی رہتی ہے۔ تفصیلات سے قطع نظر اس حقیقت کو جان لیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے جنات کو یہ طاقت اور قوت دی ہوئی ہے کہ وہ اپنی شکل اور اپنی ہیئت بدل سکتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ کے واقعہ سے ظاہر ہے کہ ان تینوں کے پاس شیطان تین علیحدہ افراد کی شکل میں آیا۔ حضرت ابراہیم کے پاس بوڑھا بن کر حضرت اسماعیل کے پاس بچہ بن کر اور حضرت ہاجرہ کے پاس ایک عورت کی شکل میں۔ سیرت طیبہ کے واقعات میں یہ واقعہ تقریباً سیرت کی ہر کتاب میں موجود ہے کہ کفار مکہ کے ’’دارالندوہ‘‘ میں جب کفار مکہ حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے تو شیطان ایک نجدی بوڑھے کے روپ میں ظاہر ہوکر اپنا مشورہ دینے آیا تھا۔ اور یہ واقعہ بھی بہت مشہور ہے کہ حضرت شیخ عبدالقادر الجیلانی غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کو دوران نماز ورغلانے اور آپ کی توجہ ہٹانے کے لئے شیطان سانپ کی شکل میں آیا تھا اور آپ کے جسم سے لپٹ گیا تھا لیکن حضرت غوث الاعظم کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری اور حضوری کی کیفیت سے انہیں جدا نہ کرسکا۔ ترتیب مصحف میں قرآن مجید کی آخری سورۃ ’’الناس‘‘ کے آخر میں اللہ رب العالمین مسلمانوں کو تنبیہ فرما رہا ہے کہ شیاطین اور ان کے چیلے جو جنات اور انسانوں میں موجود ہیں وہ دلوں میں وسوسہ ڈالنے ورغلانے اور راہ حق سے بھٹکانے میں مصروف رہتے ہیں۔ دوران نماز ’’شیطان‘‘ ذہن میں مختلف خیالات لانے میں مصروف رہتا ہے۔ جنات میں مسلمان بھی بے شمار ہیں اور وہ دینی تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں۔ جنات کے وجود سے انکار اور انہیں انسانوں سے ایک علیحدہ مخلوق تسلیم نہ کرنا دراصل ’’نص قطعی‘‘ یعنی قرآن حکیم کےفرمان کی خلاف ورزی ہے اور کفر ہے۔ ان کی عمریں بھی بہت لمبی ہوتی ہیں۔ جب کہ قرآن مجید میں موجود ہے کہ وہ جنات جو آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن مجید کی تلاوت سنی تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ یہ تو اسی طرح کا کلام الٰہی جو ہم نے سابقہ رسولوں سے سنا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سفر طائف کے بعد مکہ واپس تشریف لانے سے قبل ’’وادیٔ نخلہ‘‘ میں مختصر قیام فرمایا تو جنات کی ایک جماعت نے حاضر ہوکر ایمان قبول کیا۔ ’’سورۃ الجن‘‘ میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ قرآن مجید کے معجزات میں سے یہ بھی ایک معجزہ ہے کہ ’’سورۃ الجن‘‘ کی تلاوت کی جائے تو مسلمان جن شیاطین جنوں سے آپ کی حفاظت کرتے ہیں یہ شیاطین جن ہی ہیں جو عام طور پر مسلمانوں کو تنگ کرتے رہتے ہیں اور ان کے جسم پر قبضہ کرکے انہیں ذہنی اور جسمانی اذیت دیتےہیں۔ یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ جب مرد یا عورت اپنے جسم کو اسلامی طریقے سے پاک صاف نہیں رکھتے اور گھروں میں تلاوت قرآن مجید کا نور نہیں ہوتا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درودوسلام پڑھ کر حفاظت اور برکت کا حصار قائم نہیں کیا جاتا تو ایسے جسم اور ایسے گھر شیطان کی آمجگاہ بن جاتے ہیں اور پھر شیاطین جیسے چاہتے ہیں من مانی کرتے ہیں اور طرح طرح سے تنگ کرتےہیں۔ یوں تو ہرایک شخص کے ساتھ ایک ’’جن‘‘ یعنی شیطان لگا ہوا ہے جو اس کی پیدائش کے ساتھ ہی منسلک ہو جاتا ہے اور اس ’’جن‘‘ کی نظر اس انسان کے معمولات، مصروفیات، مشغولیات پر ہوتی ہے اور وہ بڑے ’’جن‘‘ یعنی شیطان سے رہنمائی لے کر اس انسان کو ورغلانے اور راہ حق سے بھٹکانے کے منصوبے بناتا رہتا ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ! کیا وہ جن آپ کے ساتھ بھی ہے۔ آپ نے فرمایا لیکن وہ مسلمان ہوچکا ہے، یعنی شیطان کا نمائندہ بھی جب بارگاہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پہنچا تو غلامی رسول میں شامل ہوگیا اور شیطان کی قیادت کو چھوڑ کر آقا علیہ السلام کی غلامی کو اپنے لئے مقصد حیات بنا لیا لیکن بعض مسلمان ایسے ہیں جو بظاہر حضور علیہ السلام کی غلامی کا نعرہ بھی لگاتے ہیں لیکن شیاطین کے ساتھ دوستی بھی ہے اور اس کا اظہار زندگی کے معمولات، مصروفیات اور مشغولیات سے ہوتا ہے۔ شیاطین کا پسندیدہ کام مسلمان گھرانوں میں انتشار، ناچاقی اور اختلاف پھیلانا ہے کیونکہ گھر مسلمان کا قلعہ ہے اور شیاطین یہ قلعہ تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کروڑوں شیاطین جو مسلمانوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں وہ اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح مسلمانوں کو گمراہ کریں۔ ایک شخص کی گمراہی بس ایک شخص پر اثرانداز ہوتی ہے لیکن ایک خاندان کی تباہی پورے خاندان کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کردیتی ہے اس لئے وہ میاں بیوی کے درمیان لڑائی اور جدائی کرنے کی مہم میں لگے رہتے ہیں۔ لیکن جب یہ لڑائی ہو جاتی ہے تو میاں یا بیوی اکثر اوقات دونوں ایسے گمراہ عاملوں اور خود ساختہ جنات کے عاملوں کے پاس چلے جاتے ہیں جو شیطانی عملیات سے انہیں اسلام کی برکات سے بھی دور کر دیتے ہیں اور گھروں کو بھی تباہ وبرباد کردیتے ہیں۔ کیا جاہل کیا پڑھے لوگ اکثر و بیشتر ایسے جاہل اور بے عمل عاملین کے نرغے میں پھنسے ہوئے ہیں لیکن قرآنی آیات سے رہنمائی حاصل نہیں کرتے۔

.
یورپ سے سے مزید