• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فلم پر تنازع، اداکار منوج باجپائی کے پتلے نذر آتش، منہ کالا کرنے کی دھمکیاں

کولاج فوٹو: سوشل میڈیا
کولاج فوٹو: سوشل میڈیا

اداکار منوج باجپائی کی فلم پر تنازع کھڑا ہوگیا، اداکار کے پتلے نذر آتش کردیے گئے جبکہ انہیں منہ کالا کیے جانے کی دھمکیاں بھی ملنے لگی ہیں۔ 

بھارتی فلم ساز نیرج پانڈے کی آنے والی فلم گھوس خور پنڈت (رشوت خور پنڈت) کے خلاف تنازع سڑکوں پر بھی پہنچ گیا، جہاں انتہا پسندوں نے مختلف شہروں میں مظاہرے کیے۔ 

کئی مقامات پر فلم کے پروڈیوسر نیرج پانڈے اور مرکزی اداکار منوج باجپائی کے پتلے نذرِ آتش کیے گئے۔

پریاگ راج میں مظاہرین نے نیرج پانڈے، ڈائریکٹر ریتیش شاہ اور اداکاروں کے پتلے جلائے اور فلم پر پابندی کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے نیٹ فلکس پر بھی پابندی لگانے کا مطالبہ کیا اور الزام لگایا کہ یہ فلم ہندوؤں اور برہمنوں کو نشانہ بنانے کے ارادے سے بنائی گئی ہے۔

اسی طرح اندور میں انتہا پسندوں نے احتجاج کرتے ہوئے نیٹ فلکس اور منوج باجپائی کے پتلے جلائے۔

انتہا پسند تنطیم پرشورام سینا کے ارکان نے دھمکی دی کہ اگر فلم پر پابندی نہ لگی تو منوج باجپائی اور نیراج پانڈے کے چہرے سیاہ کیے جائیں گے۔

تنازع کیا ہے؟

گھوس خور پنڈت ایک تھرلر فلم ہے جس میں منوج باجپائی ایک کرپٹ پولیس افسر کا کردار ادا کر رہے ہیں، جس کی عرفیت ’’پنڈت‘‘ ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ فلم نے ’’پنڈت‘‘ لفظ کو ’’گھوس خور‘‘ (رشوت خور) کے ساتھ جوڑ کر برہمن برادری کو بدنام کیا ہے۔

نیرج پانڈے نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلم کسی برادری کے خلاف نہیں۔ فلم کے تمام پروموشنل مواد، بشمول پہلا ٹیزر ہٹا دیا گیا ہے۔

ادھر لکھنؤ میں فلم کے ساز کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جس میں مذہبی اور ذات پات کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید