• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جعلی بینک ٹرانزکشن‘ بینک کا سابق ملازم ملوث نکلا

اسلام آباد (ایوب ناصر‘ تنویر ہاشمی) سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق‘ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی‘ اپوزیشن لیڈرز سید خورشید شاہ‘ بیرسٹر اعتزاز احسن‘ مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر پارلیمانی لیڈروں کے بینک اکائو نٹس میں کروڑوں روپے کی جعلی ٹرانزکشن کرنے میں ملوث شخص کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایس ایم ای بینک کراچی کے سابق ملازم عتیق الرحمٰن نے مبینہ طور پر بینک سے ٹی ڈی آر (ٹرم ڈیپازٹ رسیدیں ) چوری کرکے قومی رہنمائوں کے نام یہ کروڑوں روپے کی یہ رسیدیں بھیجی ہیں۔ بینک کے مذکورہ سابق افسر کے خلاف ایف آئی اے نے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ جنگ کے رابطہ کرنے پر ایس ایم ای بینک کے چیف ایگزیکٹو احسان الحق خان نے تصدیق کی کہ بینک انتظامیہ کو کراچی میں تعینات سابق افسر عتیق الرحمٰن پر شک ہے کہ وہ اس معاملے میں ملوث ہوسکتا ہے کیونکہ وہ اس سے پہلے بھی اس طرح کے معاملات میں ملوث رہا ہے اور ایف آئی اے میں انکوائری چلتی رہی۔ بعدازاں ضمانت پر رہائی کے بعد ملازمت پر بحال ہوگیا تھا لیکن حال ہی میں بدعنوانی کے معاملات میں ملوث ہونے پر دوبارہ ملازمت سے نکال دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے میں مذکورہ افسر کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی گئی ہے ایف آئی اے کی تحقیقات سے ہی معلوم ہوسکے گا کہ ایسی جعلی ٹرانزکشن کے مقاصد کیا تھے۔ واضح رہے کہ اس اہم نوعیت کے کیس کی چار ادارے تفتیش کر رہے ہیں جن میں سٹیٹ بینک آف پاکستان‘ ایف آئی اے‘ آئی بی اور سپیشل برانچ شامل ہیں جبکہ ایف آئی اے کا فنانشل کرائم ونگ الگ سے بھی اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ بینک کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ عتیق الرحمٰن ایس ایم ای بینک میں منیجر آپریشن کے عہدوں پر تعینات رہا جسے بدانتظا می کے معاملات پر حال ہی میں ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا جبکہ اس سے قبل بھی  ٹی ڈی آر رسیدیں چوری کرنے پر بینک میں انکوائری ہوتی رہی اور ایف آئی اے نے گرفتار بھی کیا تھا اور چوری کے الزامات پر تین تین ماہ کے لئے معطل بھی رہا لیکن بینک کی انتظامیہ کے ساتھ اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے ہر دفعہ بحال ہوتا رہا اور اسے پوری مراعات بھی حاصل رہی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ رسیدیں ہیڈ آفس میں پرنٹ ہوتی ہیں اور پھر بینک کی دیگر برانچوں میں بھیجی جاتی ہیں متعلقہ بینک منیجر بینک کی دستاویزات کے معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ ان یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایس ایم ای بینک سے ٹی ڈی آر چوری کرنے کا ایک واقعہ تین سال پہلے بھی ہوا تھا۔ واضح رہے کہ پارلیمانی رہنمائوں کے اکائونٹ میں جعلی ٹرانزکشن کی رسیدیں بھیجی گئیں تھیں ان رسیدوں پر بینک کے چیف منیجر کا نام اور فون نمبر بھی درج تھا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی ان رسیدوں کو جعلی قرار دیا ہے۔ ایف آئی اے اس سارے معاملے اس تناظر میں بھی تحقیقات کر رہا ہے کہ پارلیمانی لیڈرز کے اکائونٹ میں اس طرح کی جعلی ٹرانزکشن کے کیا مقاصد تھے اور اس کے پیچھے کون ملوث ہے۔
اہم خبریں سے مزید