پاکستان کے ون ڈے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں بھارت کے خلاف متوقع ٹاکرے سے قبل بیان جاری کردیا۔
دونوں روایتی حریفوں کے درمیان یہ مقابلہ 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول ہے۔
حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران شاہین آفریدی سے اے سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ 2025 کے دوران پیش آنے والے متنازع واقعات کے بارے میں سوال کیا گیا۔
ان واقعات میں بھارتی کھلاڑیوں کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے انکار اور ٹورنامنٹ کی ٹرافی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے وصول نہ کرنے کا معاملہ شامل تھا۔
شاہین آفریدی نے کہا کہ سرحد پار کے لوگوں نے اسپورٹس مین اسپرٹ کی خلاف ورزی کی ہے، ہمارا کام کرکٹ کھیلنا ہے اور ہماری توجہ اسی پر ہے، ہم میدان میں ہی جواب دینے کی کوشش کریں گے۔
اس معاملے پر سابق ویسٹ انڈین کپتان جیسن ہولڈر نے بھی ردعمل دیا۔ ایک بھارتی اسپورٹس پلیٹ فارم کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر مایوسی کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ بہتر مثال قائم کریں۔
جیسن ہولڈر نے کہا کہ مجھے بھارت اور پاکستان کی یہ دشمنی بالکل پسند نہیں، یہ دونوں عالمی کرکٹ کی بڑی طاقتیں ہیں، جس طرح حالات آگے بڑھے ہیں، وہ واقعی افسوسناک ہے، میں نے دیکھا کہ بھارت نے ایشیا کپ جیتا مگر اسٹیج پر جا کر ٹرافی وصول نہیں کی، یہ حد سے زیادہ ہے، ایسی چیزیں ہمارے کھیل کا حصہ نہیں ہونی چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کرکٹرز کی حیثیت عالمی رول ماڈلز کی ہوتی ہے، ہم بطور کرکٹرز دنیا کے سفیر ہیں، اگر ہم عالمی امن اور بہتر دنیا کی بات کرتے ہیں تو اپنے ہی آئیڈلز سے ایسا رویہ دیکھنا مناسب نہیں، اگر ہم نئی نسل کو متاثر کر رہے ہیں تو ہمیں ایک دوسرے کے قریب آنے کا راستہ نکالنا ہوگا، میں مانتا ہوں کہ اس کے پیچھے ایک طویل تاریخ ہے، لیکن اگر ہم کرکٹرز مل کر کوشش کریں تو تبدیلی ممکن ہے کیونکہ ہمارے پاس اثر و رسوخ ہے۔