• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
روز اوّل جب میں نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے فلٹریشن نما رومانس کو مضحکہ خیز اور غیرمنطقی قرار دیا تو بہت سے نابالغ نوگزوں کو بہت تکلیف ہوئی تھی کہ ”نکاح نامہ“ کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی اور حسن نثار نے ”طلاق“ کی پیش گوئی کر دی ہے حالانکہ میں جانتا تھا کہ نکاح نامہ جعلی ہے، نکاح خواں بھی اصلی نہیں اور دلہا دلہن کی نیتوں میں بھی کھوٹ ہے۔ دونوں کی نظر وقتی قسم کی ”لذتِ وصال“ اور ایک دوسرے کے ”مال“ پر ہے اور دونوں ہی ایک دوسرے کو USE بلکہ MISUSE بلکہ ABUSE کرنے کی طاق میں ہیں اور ظاہر ہے جب دونوں طرف ہی ”ماہرین فن“ ہوں تو کون کس کو کتنی دیر تک بیوقوف بنا سکتا ہے؟ ایک پولو کھیلتے کھیلتے پاکستان کی صدارت تک پہنچا اور دوسرا جنرل (ر) غلام جیلانی کا سیاسی پانی بھرتے بھرتے ”قائد اعظم ثانی“ کے منصب تک پہنچا یعنی دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پورے دنوں کے اور ایک مقبول پنجابی محاورہ کے مطابق ” سپ نوں سپ لڑے وس کنوں چڑھے“ جس کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہو گا کہ سانپ کو سانپ ڈسے تو زہر کسے چڑھے؟
قصہ مختصر یہ مضحکہ خیز اور غیرمنطقی رومانس چند ماہ کے اندر اندر تیزی سے اپنے منطقی انجام کی طرف رواں دواں ہے بلکہ یوں سمجھ لیں کہ مردہ موجود ہے صرف کفن دفن کی رسم باقی ہے جس کے بعد ایسا ماتم شروع ہو گا کہ پیشہ ور ماتمی منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔ دونوں طرف ”وارمنگ اپ“ یا ”نیٹ پریکٹس“ اپنے عروج پر ہے۔ میاں نواز شریف موجودہ جمہوریت کو آمریت قرار دے چکے تو کسر قصر صدارت نے بھی نہیں چھوڑی کہ صدر کا فرمان ہے
”جیل میں رونے اور ملک چھوڑنے والے ہماری حکومت کو آمریت کا تسلسل قرار دے رہے ہیں“۔
نہلے پر دہلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی بہت زور سے پٹخا ہے لیکن ان کے بیان کا یہ حصہ بہت ہی بودا اور بے جان ہے کہ ”اگر یہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی ہوتی تو ......؟“ سبحان اللہ! سمجھ نہیں آ رہی کہ اپنے آدھے ہم نام کو کس طرح مخاطب کروں کہ آپ ایک ہی وقت میں چوہدری بھی ہیں اور خان بھی سو ”میری جان“ کہہ کر مخاطب کرنے کی جسارت کرتے ہوئے پوچھتا ہوں کہ حضور! آپ نے محترمہ اور محترمہ والی پیپلز پارٹی کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا؟ وہ تمام اقوال اور اعمال ریکارڈ پر ہیں اور عوام کی یادداشت صرف کمزور ہے پورے پاگل نہیں ہوئے اس لئے بہتر ہو گا کہ محترمہ مرحومہ کو اس گند سے علیحدہ ہی رکھیں ورنہ کسی اگلے کالم میں مجھے وہ سب کچھ یاد دلانا ہو گا جو محترمہ، ان کی والدہ اور پارٹی کے ساتھ روا رکھا گیا کہ یہی کچھ جنرل ضیاء الحقی آمریت اور اس کی کنٹی نیوٹی کا تقاضا تھا۔ میرا سیاسی وجدان بلکہ ایمان ہے کہ محترمہ بے نظیر زندہ بھی ہوتیں تو یہی کچھ ہوتا جو ہو رہا ہے۔
گلے ملنے کے زمانے گئے گلے کاٹنے کے زمانے شروع ہو گئے کہ یہی تو صدیوں سے ہمارا رونا اور المیہ ہے۔ ہم تو مدتوں سے ایک دوسرے کے گلے کاٹ کاٹ کر الزام دوسروں پر دھرتے ہوئے یہ قوالی کر رہے ہیں کہ
”ہمارے خلاف سازش ہو رہی ہے“
سچ یہ ہے کہ کسی کو ہمارے خلاف کسی سازش پر اپنے قیمتی وقت کا ایک لمحہ بھی ضائع کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ایک دوسرے کو نیست و نابود، تباہ و برباد اور غارت کرنے کے لئے ہم خود ہی بہت کافی ہیں کہ ہمارے ہر قدم کے نیچے ایک کوفہ ہماری ہر پیاس کے پیچھے ایک فرات، ہماری ہر گردن کے ساتھ ایک تلوار ہے۔
مختصراً یہ کہ دونوں کے الزامات و جوابی الزامات سن سن کر مجھے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ”دونوں سچے ہیں“ اور اگر یہ دونوں سچے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ے کہ جھوٹا کون ہے؟ تو عوام کان کھول کر سن لیں کہ صرف اور صرف عوام جھوٹے ہیں کیونکہ شاید ہی کبھی ان کا کوئی نام نہاد ”انتخاب“ سچا ثابت ہوا ہے۔ عوام کی نام نہاد عدالت اکثر اپنے خلاف ہی فیصلہ سناتی ہے۔ جسے یقین نہ آئے وہ دونوں بڑی پارٹیوں کی ”پرفارمنس“ دیکھ لے۔
ایک جیل میں رونے اور ملک چھوڑنے کا طعنہ دے رہا ہے تو دوسرا ”چھبیاں“ دیتے ہوئے یاد دلا رہا ہے کہ ”زرداری ڈیل کر کے 4 سال نیو یارک میں چھپے رہے“۔ آخری اور اصلی سچ صرف اتنا ہے کہ صرف عوام ہی اپنی جگہ قائم اور ڈٹے رہے جسے عوام کی زبان میں ”آنے والی تھاں“ کہتے ہیں۔ نثار علی خان کا یہ جوابی وار بہت دلچسپ ہے کہ ”بے نظیر والی پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر ملک کی تقدیر بدل دیں گے“ جس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ ن لیگ والے پیپلز پارٹی کو ”بے نظیر والی“ اور ”زرداری والی“ میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ اس خواہش کو اگر صدر وزیر اعظم تعلقات کی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جائے تو منظر مزید عبرت انگیز دکھائی دے گا۔ خود تو اکٹھے ہوتے نہیں دوسروں کی تقسیم کے لئے کوشاں کہ صدیوں سے کوتاہ قامتی کا یہی وطیرہ ہے۔
عوام کو چاہئے ان کے الزام دشنام کو ٹھنڈے دل سے سنیں اور دیانتداری کے ساتھ اس کا تجزیہ کریں تو وہ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ جہاں تک الزامات کا تعلق ہے دونوں سچے ہیں!
تازہ ترین