• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماںکا دودھ بچوںکو بہت سی بیماریوں سے بچاتا ہے، 2 سال تک پلانا چاہئے، میرخلیل الرحمٰن سوسائٹی کا سیمینار

لاہور (ایم کے آر ایم ایس رپورٹ) ماہرین نے کہا ہے کہ  ماں کا دودھ بچوں کی بہتر نشوونما کے بہت ضروری ہے۔ بوتل کے دودھ کے مقابلے میں ماں کا دودھ بہت بہتر اور طاقتور ہے۔ ماں کا دودھ بچوں کو بہت سی بیماریوں سے بچاتا ہے۔ اس لئے کم از کم پیدائش کے دو سال تک ماں کا دودھ نہایت اہم ہے۔ بچے کی پیدائش کے پہلے ایک گھنٹے کے اندر اندر اس کو ماں کا دودھ پلانا بہت ضروری ہے، اس سے بچہ انفیکشن سے محفوظ رہتا ہے اور اس سے ذہنی و جسمانی نشوونما بھی بہتر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ماں کا دودھ بچے کی غذائی اور پانی کی ضروریات کو پورا کرتا ہے جبکہ  فارمولہ دودھ کے لئے صاف پانی اور صاف ماحول کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے ماں کے لئے بہت فوائد ہیں۔ دیہی علاقوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو وہاں پر آج بھی مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں۔ نوزائیدہ بچوں کی موت کی چند وجوہات ہیں جن میں بچے کا سانس نہ لینا اور انفیکشن ہیں۔ ان خیالات کا اظہار    میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی جنگ گروپ آف نیوز پیپرز اور پالیسی اینڈ اسٹرٹیجک پلاننگ یونٹ پنجاب PSPU کے زیر اہتمام ہونے والے خصوصی سیمینار بعنوان "BREAST FEEDING RULES DISSEMINATION MEETING" میں کیا۔ سیمینار کے مہمانان خصوصی بیگم ذکیہ شاہنواز صوبائی وزیر بہبود آبادی و ماحولیات پنجاب اور خواجہ عمران نذیر منسٹر فار پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ پنجاب تھے۔ گیسٹ آف آنر علی جان خان سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ، ڈاکٹر اجمل خان چیف آپریٹنگ آفیسر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن، ڈاکٹر عصمت طاہرہ سیکرٹری پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ شامل تھیں۔ گیسٹ سپیکرز میں ڈاکٹر نجمہ افضل ایم پی اے، ڈاکٹر نوشین ایم پی اے، پروفیسر ڈاکٹر ممتاز حسن ستارہ امتیاز و سابق وائس چانسلر کے ای ایم یو یونیورسٹی، ڈاکٹر منظور یونیسیف ہیلتھ اسپیشلسٹ، ڈاکٹر روبینہ سہیل، پروفیسر او  بی ایس اینڈ گائنی ممز سرسروسز ہسپتال، عائشہ جہانزیب جیو خبرناک، پروفیسر ڈاکٹر سردار فخر امام وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی، پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق ڈین چلڈرن ہسپتال، ڈاکٹر عائشہ نجیب ماہر امراض بچگان اپنا یو ایس اے، شبانہ حیدر، ڈاکٹر شکیلہ زمان پروفیسر پریوینٹو پیڈز ایل ایم ڈی سی، پروفیسر ڈاکٹر تائید بٹ (کنسلٹنٹ پیڈیاٹرک اینڈ کرائنالوجسٹ، ڈاکٹر فرحت ناز ہیڈ آف گائنی یونٹ ٹو لاہور جنرل ہسپتال، ڈاکٹر ثمینہ نصیر ایم ایس لیڈی ایچی سن ہسپتال، ڈاکٹر محمد صبیح میڈیکل آفیسر فتح پور، اسما مسعود آئی آر ایم این سی ایچ اینڈ این، ڈاکٹر ثمرہ عمران ایسوسی ایٹ پروفیسر آف نیوٹریشن ہوم اکنامکس کالج، روبینہ مشتاق ایل ایچ وی، بی ایچ یو فتح پور اوکاڑہ نے شرکت کی۔ حرف آغاز ڈاکٹر ندیم ذکا ایڈیشنل پروگرام ڈائریکٹر بی پی یو نے پیش کیا۔ تلاوت و نعت کی سعادت محبوب احمد ہمدانی نے حاصل کی۔ میزبانی کے فرائض واصف ناگی  چیئرمین میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی نے سرانجام دیئے۔ بیگم ذکیہ شاہنواز نے  کہا کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس وقت ماں کا دودھ اس کے  لئے پہلا حفاظتی ٹیکہ ثابت ہوتا ہے۔ دیہات  میں  آج بھی مائیں بچوں کو بازاری دودھ پلانے سے گریز کرتی ہیں۔ ماں کا دودھ بچے کو بہت سی بیماریوں سے بچاتا ہے اور ساتھ ساتھ اس سے ماں کی صحت پر بھی مثبت اثرات  مرتب ہوتے ہیں۔ ماں کا دودھ بچے کے لئے بہترین غذا ہے۔ آج کے دور میں مائیں فارمولا دودھ پر بہت زیادہ دھیان دے رہی ہیں جو کہ بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کی صحت کے ساتھ بالکل بھی سمجھوتہ نہیں کرنا ہے۔ یہ مسئلہ بہت بڑا ہے اس لئے ہم سب کو مل کر کام کر نا ہے۔خواجہ عمران نذیر نے  کہا کہ ہیلتھ سیکٹر روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں افراد کی جان بچاتا ہے۔ اگر یہی نرسز، ڈاکٹرز، پیرا میڈکس نہ ہوں تو کئی افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ ہم سب یہ بات جانتے ہیں کہ اچھے اور برے لوگ ہر جگہ موجود ہیں ہمیں اچھے لوگوں سے سیکھنا ہے اور ان کے قدم کے ساتھ قدم بڑھانا ہے۔ یہ صرف حکومت کی ہی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ قانون بنائے اور پھر گھر گھر جا کر اسے نافذ کروائے۔ کچھ ذمہ داری آپ سب پر بھی عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید  کہا کہ بریسٹ فیڈنگ کے حوالے سےاب کافی اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اس میں جن دوستوں نے محنت کی ان سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں  نےکہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے جب تک ہم لوگ خود احساس نہیں کریں گے تب تک تبدیلی کے امکانات بالکل بھی موجود نہیں ہوسکتے۔ علی جان خان  نے کہا کہ ملک میں Stunting اور ہیپاٹائٹس کے کیس بہت زیادہ بڑھ رہے ہیں اس کے علاوہ Skin pirth atlendance میں بھی کافی بہتری آ رہی ہے اور 2016میں بھی ہم نے کافی بہتر اقدامات کئے ہیں۔ جب کوئی پالیسی بنتی ہے تو اس میں سب سےاہم کام اس پر عمل ہوتا ہے۔ تقریباً 48 ہزار ہیلتھ ورکرز کو ایک ساتھ سنبھالنا کافی مشکل کام ہے۔ ہمیں اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ سب لوگوں کا تعاون ہے۔ سوسائٹی میں تبدیلیاں تو آرہی ہیں اس کے علاوہ ڈے کیئر سنٹرز کا قیام بھی ضروری ہے۔ڈاکٹراجمل خان نے کہا کہ سب سے اہم  اللہ کا حکم ہے  کہ بچوں کو ماں کا دودھ ضرور دیا جائے، کم از کم دو سال تک بچوں کو ماں کا دودھ دینا بہت ضروری ہے یہ بچے کا شرعی حق ہے۔ ڈاکٹر عصمت طاہر نے  کہا کہ  اس سیمینار سے مختلف چیزیں سیکھنے کو ملی ہیں اور اب ان کو پاپولیشن ویلفیئر کے لئے بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ میں نے  جو چیزیں یہاں سے سیکھی ہیں میری کوشش ہوگی کہ ان کو میں آگاہی مہم میں شامل کروں۔ڈاکٹر ندیم ذکاء نے  کہا کہ سیمینار منعقد کروانے کا مقصد ہے کہ بریسٹ فیڈنگ کو پروموٹ کیا جائے۔ پنجاب ایک زرخیز صوبہ ہے مگر اس کے باوجود Stuntiog کی علامتیں پریشان کن ہیں۔ ان علامتوں میں اضافہ ہو رہا ہے پنجاب میں پچھلے سروے کے مطابق بریسٹ فیڈنگ کا ریٹ 10.6 فیصد تھا جو کہ بہت کم ہے۔ڈاکٹر طاہر منظور نے کہا کہ آج کا دن کافی خوش آئند ہے۔ اگر بچے کو صرف ماں کا دودھ دیا جائے تو اس سے بچے کی نشو نما بہتر ہوتی ہے۔ ماں کا دودھ پانی کی کمی کو بھی پورا کردیتا ہے۔ بچے کو انفیکشن الرجی سے بچاتا ہے اور جو بچے ماں کا دودھ پیتے ہیں وہ دست کی بیماری سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ فارمولا ملک استعمال کرنے والے بچوں کا آئی کیو لیول بھی کم ہوتا ہے۔ اگر مائیں بچوں کو کم از کم دو سال تک اپنا دودھ نہ پلائیں تو ان میں بریسٹ کینسر ہونے کے رجحانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ والدین بھی ہیلتھ پریکٹیشنرز کی اجازت کے بغیر چھ ماہ تک بچے کو ڈبے کا دودھ نہ استعمال کروائیں۔ سردار فخر امام نے  کہا کہ ڈبے کا دودھ ایک جن کی طرح ہمارے اوپر منڈلا رہاتھا مگر اب تو اس نے ہمارے ہاتھ پکڑ لئے ہیں۔ ماں کا دودھ اور ڈبے کے دودھ کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ بچوں میں Stuntingکی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ اگر ابھی کچھ نہ کیا گیا تو آنے والے چند سالوں میں ہمیں بہت نقصان اٹھانا پڑے گا۔پروفیسر ڈاکٹر راشد ضیا نے کہا کہ  ہم اگر مرض کی روک تھام کے لئے کام کریں تو ہم بہت ترقی کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بریسٹ فیڈنگ کے حوالے سے معلومات کو او لیول، ایف اے اور ایف ایس سی کے کورس میں بھی شامل کیا جائے۔ پروفیسر ڈاکٹر ممتاز حسن نے  کہا کہ ہر چیز کا مقصد ہوتا ہے اگر ہم اپنا مقصد بھول جائیں تو ہمیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماں کا دودھ بچے کی ذہنی و جسمانی نشو و نماکے لئے بہت اہم ہے اس لئے بچے کو دو سال تک ماں کا دودھ ضرور دیں۔ راشدہ جو  اوکاڑہ سے  آئی تھیں، انہوں نے بتایا کہ اس کا پہلا بچہ فوت ہوگیا تھا مگر جب میرا دوسرا بچہ پیدا ہوا تو وہ کافی کمزور تھا۔ حکومت پنجاب کے Safe delivery programme کے تحت میرے بچے کی جان بچ گئی اور اس کے لئے انہوں نے حکومت پنجاب کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ روبینہ مشتاق نے کہاکہ ماں کا دودھ قدرت کا تحفہ ہے اور اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے اس کے فوائد لاثانی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ راشدہ بی بی کے بچے کی پیدائش کے بعد بچے کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا پھر ہم نے کینگرو مدر کیئر کو اپناتے ہوئے اس بچے کی جان بچائی۔ پیدائش کے وقت بچی کا وزن 1.1کلوگرام تھا مگر اب 8.2کلوگرام ہے۔ بچی کی والدہ بچی کو بازاری دودھ بالکل بھی نہیں دیتی ہیں پیدائش کے فوراً بعد بچی کو اس کی والدہ کے پیٹ پر لٹا دیا گیا تھا جس سے اسے گرمائش ملی۔ ڈاکٹر عائشہ  نجیب نے کہاکہ نوزائیدہ بچوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سانس ٹھیک سے نہ آنا اور انفیکشن ہے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ صرف سونگھ سکتا ہے پہلے دن دودھ بہت تھوڑا ہوتا ہے اس لئے پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہوتی ہے بچے کی پیدائش کے ایک گھنٹے کے اندر اندر اس کو ماں کا دودھ دینا نہایت اہم ہوتا ہے۔ عائشہ جہانزیب نے کہاکہ ماں کے وجود سے ہی دنیا میں رونق ہے جب انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ ماں کی ہی پہچان ہوتا ہے سب سے پہلے اور پھر ساری زندگی اس سے دور نہیں جاتا۔ ڈاکٹر ناصر نے  کہاکہ کافی کاوشوں کے بعد اب 2017 میں بریسٹ فیڈنگ کے اصول سے خواتین Notifyہورہی ہیں اس کے علاوہ Exlusive بریسٹ فیڈنگ میں کمی آ رہی ہے جوکہ بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے۔ یہ صرف ایک ادارے کا کام نہیں ہے اس میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن، پنجاب فوڈ اتھارٹی اور پیمرا کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ بریسٹ فیڈنگ کو پرموٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ عصمت محمود نے  کہاکہ پیدائش کے پہلے چھ ماہ تک ماں کا دودھ بچے کے لئے نہایت ہی مفید ہے۔ماں کا دودھ بچے کے لئے سونے کے پانی جیسا ہے، اِس کے علاوہ ہم نے ANC سے لے کر PNC تک کونسلنگ کی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر روبینہ سہیل نے  کہا کہ آبادی کے لحاظ سے ہمارا ملک دنیا میں ساتویں نمبر پر ہے، اس کے علاوہ عورتوں کی شرح اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں انفیکشن، وقت سے پہلے بچے کی پیدائش اور آکسیجن کی کمی شامل ہے جب تک ہم خود ان مسائل کو نہیں سمجھیں گے تب تک کچھ تبدیلی نہیں آ سکتی ہے۔ بریسٹ فیڈنگ کے بے انتہا فوائد ہیں اور اِن فوائد سے صرف بچہ ہی نہیں مائیں بھی مستفید ہوتی ہیں۔ پروفیسر مسعود صادق نے کہا کہ سب سے اہم بات قواعد و ضوابط کا لاگو ہونا ہے اس لئے فوکس اس طرف بھی کرنا چاہیے۔
تازہ ترین