• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی (تجزیہ:مظہر عباس) انسپکٹر جنرل پولیس سندھ اے ڈی خواجہ کو صوبائی حکومت کی جانب سے ہٹائے جانے کا معاملہ آج سندھ ہائی کورٹ میں دوبارہ زیرسماعت آئے گا۔ حالات کی اندرونی کہانی پولیس  معاملات میں سیاسی مداخلت کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔ بعض اوقات تو یہ حالات خود وزیراعلیٰ کے قابو میں نہیں ہوتے، جس کسی نے بھی پولیس کو سیاست زدگی سے پاک کرنے کی کوشش کی اور اصلاحات کا بیڑا اٹھایا، وہ کامیاب نہیں ہوا۔ اے ڈی خواجہ کا معاملہ اس سے مختلف نہیں ۔ اے ڈی خواجہ نے اب خود ہی وفاقی حکومت سے خود کو فارغ کر دینے کی درخواست کی ہے کیونکہ ان کے برقرار رہنے سے بے یقینی ہی میں اضافہ ہو گا۔ ان کی رخصتی نا صر ف پولیس کے لئے ایک دھچکا ہو گی بلکہ ان لوگوں کے لئے بھی، جو بے داغ کردار کے مالک ہیں اور ان کا صرف یہی ایک قصورہے کہ انہوں نے غیرقانونی احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا۔ یہ کس طرح سے ان کہی کہانی آگے بڑھتی ہے: سابق صدر آصف علی زرداری کی وطن واپسی کے بعد انہوں نے وزیراعلیٰ ہائوس کے ایک اجلاس میں شرکت کی جس میں صرف چار افراد آصف زرداری، آئی جی پولیس اے ڈی خواجہ، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور ایک قانونی مشیر نے شامل تھے۔ اے ڈی خواجہ نے شروع ہی میں آصف زرداری کو بتا دیا کہ وہ آئی جی کی حیثیت سے کام جاری رکھنا نہیں چاہتے اور مشورہ دیا کہ وہ اس سلسلے میں وزیراعظم یا وزیر داخلہ سے بات کریں۔ ناقابل تردید ذرائع کے مطابق ان کا تقرر کرنے والی مجاز اتھارٹی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ہے۔ آئی جی پولیس گزشتہ اکتوبر، نومبر سے چند ماہ کے دوران پیش آنے والے واقعات سے مایوس تھے۔ مذکورہ اجلاس کسی نتیجے اور فیصلے پر پہنچے بغیر ختم ہو گیا۔ پوری گفتگو میں زرداری بات قبول کرنے پر آمادہ نظر آئے۔ بحران اس وقت شروع ہوا جب آئی جی نے سیاسی مداخلت روکنے کے لئے ’’بھرتی بورڈ‘‘ تشکیل دیا اور بھرتیوں کے لئے پالیسی تبدیل کر دی۔ پہلی بار بھرتی بورڈ میں سی پی ایل سی کے سربراہ کو بھی شامل کیا گیا۔ جسمانی فٹنس اور تربیت کی ذمہ داری فوج کو سونپ دی گئی اور دس ہزار کانسٹیبلز کو منتخب کیا گیا۔ جو عوامل بحران کا باعث بنے (1) بھرتی پالیسی (2) انور مجید کے بیٹے کے گھر سے مبینہ اسلحے کی برآمدگی لیکن ایف آئی آر میں بازیابی گھر کے باہر سے ظاہر کی گئی۔ (3) فریال تالپور کے ساتھ ناخوشگوار ملاقاتیں، ٹیلی فون پر گفتگو اور انور مجید کے ساتھ گرما گرمی۔ (4) کرپٹ اور متنازع کو ہٹا کر اچھی شہرت کے حامل افسران کو لانے میں ان کی ناکامی۔ (5) کچھ لوگوں کو ٹھیکے دینے اور فنڈ جاری کرنے سے انکار اور (6) پولیس کی پہنچ سے باہر یونٹ ایس ایس یو کو سٹی پولیس سربراہ کے تحت دینا شامل ہیں۔ ذرائع کہتے ہیں کہ اچھی شہرت کے حامل پولیس افسران حسین اصغر اور کلیم امام جیسے افسران کی خدمات حاصل کرنے میں ناکامی سے انہیں اپنی حدود کا اندازہ ہو گیا لہٰذا انہوں نے مختلف اور پیشہ ورانہ انداز میں ضرب لگانے کی ٹھانی۔ پہلے تو وزیراعلیٰ سندھ نے بھرتی بورڈ کی بابت دریافت کیا لیکن پریذینٹیشن پر مطمئن ہو گئے ۔یہ پیپلزپارٹی کی خاتون آہن فریال تالپور تھیں جنہوں نے آئی جی سے مذکورہ بھرتی بورڈ توڑ دینے یا اس میں ارکان سندھ اسمبلی کا کوٹا شامل کرنے کے لئے کہا جس پر آئی جی نے معذرت کر لی اور اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق اے ڈی خواجہ نے وضاحت دینے کی کوشش کی کہ جب بھرتی کئے گئے رنگروٹ امتحان میں کامیاب ہو جائیں گے تو متعلقہ علاقوں کے ارکان اسمبلی سے ان میں اسناد تقسیم کی جائیں گی لیکن فریال تالپور کا موقف تھا جب ارکان اسمبلی پولیس میں سپاہی بھرتی نہیں کرا سکتے تو وہ آئندہ انتخابات میں کیسے جا سکیں گے؟ انور مجید کے ساتھ تنازع بالاخر ٹیلی فون پر شدید گرما گرمی کا باعث بنا۔ جب انور مجید نے ’’گنے کے تنازع‘‘ میں آئی جی سے اپنے احکامات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ آئی جی اور انور مجید میں تنازع نے اس وقت زور پکڑا جب پولیس نے ایک اطلاع پر انور مجید کے بیٹے کے گھر سے مبینہ طور پر ہتھیار برآمد کئے۔ پیپلزپارٹی کارکنوں کے کچھ کارڈز بھی بازیاب ہوئے۔ آئی جی نے اس کی ویڈیو وزیراعلیٰ کو واٹس ایپ کر دی۔ چند گھنٹوں کے اندر ہی ان سے کہا گیا کہ ایف آئی آر درج نہ کی جائے۔ جب انہوں نے اس سے انکار کیا تو علاقے کے طاقتور ایس ایس پی کو مبینہ طور پر براہ راست کہا گیا کہ وہ ایف آئی آر میں پارٹی کارڈز نہ دکھائیں۔ ہتھیار بھی گھر کے اندر سے نہیں بلکہ باہر سے بازیاب بتائے گئے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ انور مجید نے پھر سے آئی جی کو ٹیلی فون کیا اور دوبارہ معاملہ گرما گرمی پر ہی ختم ہوا۔ اے ڈی خواجہ کی14 روزہ رخصت کی وجہ بھی سیاست ہی رہی۔ اس دوران رینجرز نے کچھ دفاتر پر چھاپے مارے جن میں انور مجید کا دفتر بھی شامل تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنے قیام کے دوران آئی جی سمجھ گئے کہ چاہے زیرک و جہاندیدہ قائم علی شاہ ہوں یا توانا و جوان مراد علی شاہ، ان کے ہاتھ بندھے اور اصل طاقت فریال تالپور اور انور مجید جیسے لوگوں کے پاس ہے۔ جب مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تو ان سے بڑی امیدیں وابستہ رہیں۔ وہ ناصرف متحرک تھے بلکہ مشکل فیصلے کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اے ڈی خواجہ ان کے والد مرحوم سابق وزیراعلیٰ عبداللہ شاہ کے پی ایس او کے طور پر خدمات انجام دے چکے۔ دونوں کو ایک دوسرے کے ذہن و مزاج کا اندازہ ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کے تنازع میں وزیراعلیٰ کا کردار پوسٹ ماسٹر جنرل سے زیادہ کا نہیں۔ انہوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی اے ڈی خواجہ کو رخصت پر بھیجا۔ کور اور رینجرز ہیڈکوارٹرز بھی صورتحال سے بخوبی آگاہ اور چاہتے ہیں اے ڈی خواجہ بدستور انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کے فرائض انجام دیتے رہیں۔ یہی خواہش وزیراعظم نواز شریف کی بھی ہے لیکن صوبائی کابینہ کے فیصلے کے بعد آئی جی نے مرکز کو آگاہ کر دیا کہ ایسے ماحول میں ان کے لئے کام جاری رکھنا مشکل ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری شفافیت کا تصور لے کر آئے لیکن جب انہوں نے سخت اور غیرمعمولی فیصلے کرنے شروع کئے تو انہیں بھی پس پشت ڈال دیا گیا۔ انہوں نے جو دعوے اور وعدے کئے ان پر کبھی عمل نہ ہوا۔ اپنے ہٹائے جانے کے سندھ کابینہ کے فیصلے کے بعد اے ڈی خواجہ نے خود سندھ حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ موجودہ حالات میں ان کی سبکدوشی صوبے کے بہترین مفاد میں ہو گی کیونکہ موجودہ صورتحال کے ناصرف بلکہ کراچی آپریشن پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کی تقرری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کی اور تبادلہ بھی اسی کے ذریعے ہونا چاہئے۔ نئے آئی جی کی تقرری کے لئے صوبائی حکومت شاید تین نام بھیجے لیکن ذرائع کاکہنا ہے کہ خود بلاول ایشو سے جس انداز میں نمٹا جا رہا ہے، اس سے خوش نہیں اور جو تین نام گردش میں ہیں انہیں مسترد کر دیا اور خصوصاً ایک کی تو سختی سے مخالفت کی ہے جو اے ڈی خواجہ کو ہٹائے جانے کی پشت پر لوگوں کا منظورنظر ہے۔ یہ اپیکس کمیٹی کے لئے بڑی مایوس کن کیفیت ہے، لگتا ہے اس بحران کے ٹلنے تک اپیکس کمیٹی کا اجلاس بھی نہیں ہوگا۔
تازہ ترین