برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر پر استعفے کےلیے دباؤ ہر لمحے بڑھنے لگا، اُن پر عہدہ چھوڑنے کےلیے ٹائم لائن دینے کا دباؤ ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم اسٹارمر نے تسلیم کیا لیبر پارٹی نے بڑی غلطیاں کی ہیں لیکن ایران کے خلاف جنگ میں امریکا اوراسرائیل کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ درست تھا۔
رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیراعظم سے استعفے کا ٹائم ٹیبل مانگنے والے اراکین کی تعداد 78 تک پہنچ گئی ہے جبکہ نئے لیڈر کے انتخاب کےلیے 81 ارکان کی حمایت درکار ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق پیٹر مینڈلسن پر بدنام زمانہ جنسی درندے ایپسٹین سے تعلق کا الزام تھا، ان کی امریکا میں بطور سفیر تعیناتی اسٹارمر کے استعفے کے مطالبہ کا سبب بنی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ میں لیبر ارکان کی تعداد 403 ہے، اسٹارمر 2024ء میں کنزریٹو پارٹی کا 14 سالہ اقتدار ختم کرنے کے بعد برسراقتدار آئے تھے۔