آنکھوں میں سہانے مستقبل کے دیے سجائے لاکھوں کے تعداد میں بچیاں اس وقت سالانہ امتحانات میں مصروف ہیں۔ میں اسکول کے دروازے پر بغور دیکھ رہی تھی کہ والدین انہیں امتحانی سینٹرز میں چھوڑنے اور لینے آ رہے ہیں۔ دماغ میں یہ خیال ابھر رہا تھا کہ ان بیٹیوں کو مستقبل کی باگ ڈور سنبھالنی ہے اور بہن، بیوی، نند، دیورانی، جیٹھانی، ماں اور ساس جیسے کرداروں میں ڈھل کر معاشرے کی مضبوط بنیادی اکائی بننا ہے۔ اس ضمن میں مشکل سوال تو یہ ہے کہ کیا انہیں اِن کرداروں میں ڈھالنے کیلئے والدین اور معاشرہ اپنا اپنا کردار بخوبی ادا کر ر ہے ہیں؟ بعض خوش قسمت بیٹیاں بچپن میں ہی بابا کی رانی قرار پاتی ہیں اور باپ کی بھرپور توجہ اور پیار حاصل کرتی ہیں جبکہ کروڑوں بدقسمت لڑکیوں کو ملامت اور کوسنوں کے سوا کچھ نہیں مل پاتا۔ والدین خدا سے اپنی بیٹیوں کے لئے اچھے نصیب کے طالب تو ہوتے ہیں لیکن بعض والدین بڑی ڈھٹائی سے اپنی اخلاقی ذمہ داری اور عملی جدوجہد سے کنارا کشی اختیار کر لیتے ہیں۔ معاملہ تعلیم کا ہو یا دیگر معاملات کا، بیٹوں کی سرکشیاں تو والدین کو گوارا ہوتی ہیں لیکن بیٹیوں کی پسند پر قدغن لگانے میں وہ ذرا بھر دیر نہیں لگاتے۔ باپ کے ایسے طرز عمل کی وجہ سے ماں بھی مجبوراً اس کا ساتھ دینے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ بے جا اور ناجائز پابندیوں سے بیٹیوں کے ذہن پرا گندہ ہو جاتے ہیں اور جب وہ بیوی اور ماں بن کر اپنی جیسی منتشر اولاد جنم دیتی ہیں جو معاشرے کی فلاح تو ایک طرف، اپنے گھر میں موجود ماں باپ اور بڑوں کی تعظیم اور دیگر ذمہ داریوں سے پیچھا چھڑانے کی بھی حتیٰ الامکان کوشش کرتی ہے۔ ایسی اولاد کی تربیتی کمزوریوں کی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ ایسی ہی ماں کا بیٹا والدین، عزیز و اقارب اور بہن بھائیوں پر بیوی کو فوقیت دیتا ہے ان کی نظر میں اس کے والدین کھٹکنے لگتے ہیں۔ ایسےبیٹے والدین کو عضو معطل سمجھ کر انہیں نظرانداز کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ جاننے کے باوجود کہ دینِ اسلام نے ماں باپ کے سامنے اُف تک کہنے سے منع کیا ہے،وہ باپ سے عمومی اور ماں سے خصوصی طور پر تیز زبان میں بات کرتے ہیں۔ وہ بھلا دیتے ہیں کہ والدین نے انہیں ہر مشکل وقت میں گرنے سے بچایا تھا، وہ یکسر فراموش کر دیتے ہیں کہ بچپن میں جب وہ بیماری کی وجہ سے کھانا نہیں کھا پاتا تھا تو اس کی ماں رو دیتی تھی۔ وہ ہرگز توجہ نہیں دیتا کہ اولڈ ایج ہوم میں پڑی اس کی ماں تو قید تنہائی میں ہے جہاں وقت پر دوا اور کھانا نہ ملنے پر وہ خون کے آنسو روتی ہوگی۔ ملک بھر میں اولڈ ایج ہومز کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان میں داخل کرائے جانے والدین کی روز افزوں تعداد یہ ثابت کرتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں اخلاقی اقدار کی پامالی تیزی سے جاری ہے۔ یوں تو سب اپنے والدین بالخصوص ماں سے خصوصی تعلق اور محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، کوئی ماں کو مٹھاس سے تشبیہ دیتا ہے تو کوئی زبانی کلامی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ دنیا میں سب سے قیمتی دولت اس کی ماں ہے۔ کوئی اپنی ماں کی یاد میں اسکول بناتا ہے تو کوئی مسجد۔ کوئی اس کی یاد میں اسپتالوں کا قیام عمل میں لاتا ہے تو کوئی ماں کی قبر سے لپٹ کر اس سے معافی کا طلبگار ہوتا ہے لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے یہاں ماں کی قدر اس کی موت کے بعد ہی کی جاتی ہے اور پھر ماں کی یاد میں این جی اوز بھی بن جاتی ہیں اور اس کے فراق میں ٹسوے بھی بہائے جاتے ہیں۔ تاہم سوال یہ نہیں ہے کہ اس تمام تر خرابی کا ذمہ دار کون ہے بلکہ سوال تو یہ ہے کہ ہم اس انتشار، اس بگاڑ کو کب درست کریں گے۔ اس کے لئے ہمیں سب سے پہلے تو بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان روا امتیازی سلوک بند کرنا ہوگا۔ دوسرا یہ کہ بچوں کو صرف تعلیم نہیں دینی بلکہ ان کی تربیت بھی کرنا ہو گی تاکہ وہ گھر سنبھالنے کے قابل ہو سکیں۔ یہ ساری ذمہ داری صرف ماں پر عائد نہیں ہوتی بلکہ باپ اور معاشرے کے دیگر افراد کا بھی اس میں اتنا ہی اہم کردار ہے تاہم ماں کا فرض اور کردار باقی سب سے زیادہ ہے۔ اس کی تربیت میں کمی، کوتاہی اولاد کی تباہی و بربادی کا باعث بن سکتی ہے۔ لہٰذا ذمہ دار تعلیم یافتہ مائیں ہی معاشرےکو اخلاقی اقدار کی پامالی سے بچا سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جب دیگر اکائیاں بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گی تو ایسا صحتمند معاشرہ جنم لے گا جس میں بیٹیاں ونی بھی نہیں ہوں گی اور ان کے چہرے تیزاب سے بگاڑے بھی نہیں جائیں گے۔
.