• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پروفیسر حسن نواز گردیزی بھی اس جہان رنگ بو سے گزر گئے۔ ایک جہاں گشت صوفی اور درویش کامریڈ و یگانہ روزگار اسکالر جنکا تعلق ملتان کے شاہ گردیز کے گدی نشین خانوادے سے تھا۔ ملتان کی مٹی بھی کیا عجیب مٹی ہے جس نے کیسے کیسے نہ عجب لوگ پیدا کئے ہیں۔ درویش منش صوفی، شاعر، فنکار، قلندر، کاریگر اور کارٹونسٹ۔ ثریا ملتانیکر سے لیکر مصدق سانول اور مظہر عارف تک۔ کرامت علی شرافت علی سے لیکر کارٹونسٹ فیقا تک۔ اور ہمارے عزیز دوست چوہدری نذیر جو اپنی ذات میں ہرانجمن سے باغی اور ہر جماعت کے منحرف ہوتے ہیں بھی ملتان کی مٹی کا کرشمہ ہیں۔ ملتان کے استاد شاگرد کا تعزیہ اور ریڈیو پاکستان ملتان سے ہر دس محرم نشر ہونیوالی شام غریباں۔ یہاں صرف انور رٹول آم ہی نہیں لوگ بھی بڑے میٹھے ہوتے ہیں یا ہوتے تھے؟ شاکر شجاع آبادی کی شاعری جیسے لوگ وہ کیا ہوئے! مصدق سانول کے میٹھے نمانڑے لہجے جیسے لوگ۔ سید قصور گردیزی اور تاج محمد لانگاہ کو تاریخ بھلا کیسے بھول سکتی ہے!
ملتان قدیم سندھ کا دارالحکومت تو رہا لیکن اصل حکومت تو یہاں خلق کے دلوں پر راج کرنوالے درویشوں کی رہی ہے اسی لئے تو اس شہر کو ’’مدینۃ الاولیاء‘‘ کہا جاتا رہا تھا۔ یعنی کہ اولیاء کرام کا شہر۔ اس قرون وسطی کے قدیم شہر کو میٖں صوفیوں اور درویشوں کا جنکشن کہتا ہوں۔ قدیم خراسان، آج کے افغانستان، گیلان، گردیز، فارس، بغداد، سرینگر لیکن جنکشن ملتان۔ پھر اوچ، سندھ سیوستان۔ مروند سے ہند ہوتا ہوا ہی قلندر شہباز ملتان پہنچا تھا۔ ملتان میں ہی روایت ہے کہ شاہ شمس کو سورج نے سوا نیزے پہ تکہ بوٹی کیا کہ پکا کر راس کیا تھا! صوفیوں پر فرانسیسی محقق و اسکالر ڈاکٹر مشل بوئیون کیمطابق شاہ شمس شہباز قلندر کے کزن تھے۔ ملتان کی مٹی میں مصدق سانول بقول حسن درس پہلے گل اور پھر مٹی بنا جو کہ ہم سب کی کہانی ہے۔ سن مٹی دیا باویا کہ ثبات فقط مٹی اور اسکی خوشبو کو ہے۔ ایسے ہی اک ملتانی مٹی کی خوشبو کا نام حسن نواز گردیزی تھا۔ ڈاکٹر پروفیسر حسن نواز گردیزی۔ شاہ گردیز کے گدی نشین حسن رضا گردیزی کے بڑے بھائی تھے جنکا گزشتہ ہفتے کینیڈا میں انتقال ہوا جہاں وہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے تحقیق، تدریس و تالیف کے کام میں مصروف اور اپنی آخری سانسوں تک ترقی پسند یا اس سے بھی زیادہ انسان دوست جدوجہد اور آدرشوں سے وابستہ رہے۔ وہ اوّل تا آخر ایک انقلابی تھے لیکن مزاج اور خمیر میں صوفی تھے۔ تو میں تمہیں بتاتا چلوں کہ کوئی لوگ کیا مرتے ہیں کہ انکے ساتھ انکا شہر ہی مرجاتا ہے۔ ملتان شہر بھی بار بار مرا ہے۔ اسی شہر میں ہی انجمن قاتلان شب بنی تھی۔ انجمن والے ایک ایک کرکے کوچ ہوئے پر رات قاتل بن کر باقی ہے۔ اسی ظلم کی اس رات میں پروفیسر جنید حفیظ داخل زنداں اور انکا وکیل قتل ہوا۔ اب جبکہ یہ باب سب پہ عیاں ہو بھی چکا کہ ذاتی عناد اور حسد بھی کیسی آگ لگاتے ہیں کیسے بیگناہوں کے گلے میں کمندیں پرہجوم ڈالتا ہے اورپاک سر زمین کی یونیورسٹیاں بھی اس سے مبرا نہیٖں۔ آپ نے دیکھا دنیا نے دیکھا۔ لیکن یہاں بات ملتان کی مٹی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر حسن نواز گردیزی کی ہو رہی ہے۔ وہ جو ملتان سے کب کا جا چکا تھا لیکن ملتان ان میں سے نہ نکل سکا تھا۔ چاہے وہ پھر کینیڈا کے صوبہ اینتاریو میں ہی کیوں نہ رہتے تھے۔ انکا سفر ایمرسن کالج اور ملتان سے شروع ہوتا ہے۔ پہلے ملتان اور پھر پنجاب یونیورسٹی میں علم سیاسیات کے استاد۔ یہ وہ دن تھے جب ابھی سیاسی باتیں کرنا پبلک مقامات پر ممنوع اور مخرب الاخلاق امر نہیں بنے تھے۔ اگر ملتان کی تاریخ کے ایک قدیم اور دوسرا جدید دونوں سینگ پکڑ کر اس وقفے کو صدیوں زمانوں میں ناپا جائے تو یہ ملتان میں محمود غزنوی کے ہاتھوں قتل عام کے بعد اورضیاء الحق کی آمریت کے دنوں میں ملتان ٹیکسٹائل کالونی مل کے مزدوروں کے قتل عام سے بہت بہت پہلے کی بات ہوگی۔ لیکن پروفیسر حسن گردیزی کے اوائلی دنوں کے شاندار تحقیقی کام میں انکی سرائیکی مرثیہ نگاری پر تحقیق اور عظیم صوفی سلطان باہوؒ پر پنجابی زبان میں کتاب ہے۔ گزشتہ دنوں انکی اشتراکی انقلابی کردار داد امیر حیدر کی خود نوشت کی دو حصوں پر مشتمل کتاب کو انگریزی کا روپ دینا بھی شامل ہے۔ جسکا بھی سنجیدہ پڑھنے والوں کے پاس بڑا چرچا ہوا۔ ڈاکٹر حسن گردیزی کی سماجیاتی علوم میں مار کسی نقطہ نگاہ پر مبنی تحریریں پاکستان چاہے کینیڈا سمیت شمالی امریکہ علمی حلقوں میں انتہائی معتبر مانی جاتی ہیں۔ پروفیسر حسن نواز گردیزی برسوں تک کینیڈا کی یونیورسٹیوں میں سوشیالوجی یا علم سماجیات کے استاد رہے۔ انکے دوستوں میں انکی صحبت پرو فیسر اقبال احمد، ڈاکٹر فیروز، پروفیسر اعجاز، شاید ایڈورڈ سیعد میرے دوست منفرد دانشور زاہد مخدوم سے رہی۔
حسن نواز گردیزی نے تیس سال قبل زبردست خاتون روزلئی سے شادی کی جن سے انکے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ انکی بیٹی فوزیہ بھی محقق ہیں جس نے حال ہی میں پاکستان پر تحقیق کی ہے۔
پروفیسر حسن گردیزی کچھ عرصے سے بیمار تھے۔ حال پوچھنے پر انہوں نے میرے دوست اور اپنے پرانے شاگرد اور ساتھی چوہدری نذیر سے کچھ ہفتےقبل سرائیکی زبان میں کہا تھا ’’ڈیوا کندہ تھے رکھ چھوڑیا اے ہن خدا دی مرضی یا ہوا دی مرضی‘‘۔ (دیپ دیوار پر رکھ دیا ہے اب خدا کی مرضی یا ہوا کی مرضی)۔ شاہ رکن عالم کے گنبد پر بیٹھے کبوتر وہیں ہیں لیکن حسن نواز گردیزی نہیں رہے۔



.
تازہ ترین