سب سے پہلے آپ کی توجہ عراق ، افغانستان کے معاملات کی طرف دلانا چاہتا ہوں، پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح انسانی حقوق کی سپہ سالار ی کا دعویٰ کرنے والے باربار بے شرمی سے جھوٹ بولتے رہے ۔ ان میں سب سے بڑھ کر بش اور بلیئر تھے اور کس طرح انہوں نے عراق پر ایٹم بم بنانے اور موجودگی کے بارے میں بار بار جھوٹ بول کر ایک اسلامی ملک کو ، اس کے عوام کو اور تہذیب و تمدن کو تباہ کردیا تھا۔ یہی بلیئر اب فلسطین کا مسئلہ حل کرنے چلا ہے یعنی فلسطینیوں کو وہی پرانی میٹھی گولی دے رہا ہے ۔ اس ایک کمزور ملک پر نہ صرف امریکہ اور انگلستان نے تباہی برسائی بلکہ اس غیر انسانی اور جارحانہ عمل میں یورپ کے تیس سے زیادہ ممالک نے ساتھ دیا ۔اب تک ایک لاکھ سے زیادہ معصوم بچے، عورتیں ، مرد اور بوڑھے جاں بحق ہو چکے ہیں مگر یہ بربریت جاری ہے۔ اسی طرح افغانستان میں بربریت کا سلسلہ جاری ہے قیاس ہے کہ تقریباً بیس لاکھ انسان ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ جارحیت بغیر کسی قابل قبول جرم کے۔ صدام حسین کو تو 43بے گناہ لوگوں کے قتل کے جرم میں پھانسی دے دی گئی مگر لاکھوں بے گناہ انسانوں کے قاتل آزاد پھر رہے ہیں اور عیاشی کر رہے ہیں ۔اسلامی ملک سوڈان کے صدر کے خلاف تو بین الاقوامی عدالت جرائم نے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں مگر نہ ہی بش و بلیئر اور نہ ہی ان کے قاتل کارندوں کے لئے ایک لفظ مذمت کہا گیا ۔ اوبامہ سے ہماری کسی قسم کی اچھی توقع کرنا ایسا ہی ہے جیساکہ ہم ایل کے ایڈوانی سے محبت کی امید کریں ۔
اسی طرح عراق کے وزیر” کیمیکل “ علی کو سزائے موت سنائی گئی کہ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے کیمیکل ہتھیار تیار کئے تھے(جو جھوٹا الزام تھا) لیکن کوئی بھی امریکن نہ ہی جیل بھیجا گیا اور نہ ہی کسی کو سزائے موت سنائی گئی کہ ویتنا م میں نہایت مہلک قاتل گیس ایجنٹ آرینج(Agent Orange) استعمال کی یا اس کی تیاری کی ۔ یہ دہرے قوانین کیوں؟ کیوں ایک کے اعمال قابل قبول ہیں اور دوسرے کے قابل قتل؟ کسی مغربی ملک نے امریکہ کو نسل کشی کا ذمہ دار یا مجرم نہیں ٹھہرایا اور اوبامہ کے ساتھ مختلف سلوک نہیں ہونا چاہئے ابھی حال ہی میں پاکستانی امداد پر چند سخت اور توہین آمیز شرائط لگا کر ہمیں ذلیل و خوار کیا جا رہا ہے لیکن پھر کہاوت ہے کہ فقیر اپنی پسند کی چیز تو حاصل نہیں کرتے جو کچھ ان کے کشکول میں ڈال دو وہ قبول کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ خیرات دینے کا عندیہ دیا گیا ہے جبکہ ہمارے اپنے محب وطن پاکستانی تقریباً سات ارب ڈالر سالانہ بھیجتے ہیں اور اگران سے مخلصانہ درخواست کی جائے اور ان کو شفاف اور ملک دوست پالیسی کا یقین دلایا جائے تو یہ رقم بآسانی دس ارب ڈالر تک جا سکتی ہے اور ہمیں کسی کے آگے فقیر کی حیثیت سے ہاتھ پھیلانے کی قطعی ضرورت نہیں پڑے گی۔
ڈرون حملے جاری ہیں مصدقہ اطلاعات کے مطابق ساٹھ حملوں میں تقریباً سات سو بے گناہ مرد، عورتیں اور بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔اپنے ردعمل کو دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔امریکہ نے ایران پر مسلسل الزام لگایا کہ وہ عراق میں ہتھیار اور تخریب کار بھیج رہا ہے مگر آج تک اس کی جرأت نہیں ہوئی کہ ایک ڈرون حملہ بھی کر سکے ۔ نہ ہی اس کی آبادی ہمارے برابر ہے اور نہ ہی فوجی قوت ہمارے برابر ہے۔اسی طرح آپ کے سامنے ابھی شمالی کوریا کا میزائل ٹیسٹ ہے، امریکہ ، جنوبی کوریا اور جاپان نے بہت دھمکیاں دیں ، واویلا کیا اور میزائل کو مار گرانے کی دھمکی دی مگر شمالی کوریا اس گیدڑ بھبکی سے خوفزدہ نہیں ہوا اور کامیابی سے تجربہ کیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ گڑ بڑ کے حالا ت میں چند منٹ میں جنوبی کوریا کا دارالحکومت اور کئی شہر دنیا کے نقشے سے غائب ہو جائیں گے اور تقریباً یہی حال ٹوکیو کا ہو گا ۔ آپ کو یا د ہو گا کہ شمالی کوریا نے بہت عر صہ پیشتر امریکی جاسوسی جہاز Pueblo پکڑ لیا تھا اور اس کے اسٹا ف کو جیل میں ڈال دیا تھا ۔ میں نے شمالی کوریا کے دورے کے دوران اس جہاز کا معائنہ کیا تھا ۔ اس کے علاوہ آپ کے سامنے ایرانی طلبہ کا امریکی سفارت خانہ پر قبضہ اور وہاں کے اسٹاف کو قید کرنے کا واقعہ بھی ہے ۔ اگرچہ یہ عمل سرکاری وسفارتی آداب کے خلاف تھا مگر کیونکہ امریکہ نے شہنشاہ کے دور میں ایران کو بہت نقصان پہنچایا تھا اس لیے ایرانی طلبہ نے یہ کارروائی کی تھی۔
صومالیہ کے بحری قذاقوں نے مغربی جہازوں کا اغوا کرنے میں مہارت حاصل کر لی ہے، نہ ہی وہاں ڈرون کام آرہے ہیں اور نہ ہی ٹوماہاک میزائل، یہ ہتھیار صرف نہتے معصوم قبائلی لوگوں پر بے دریغ استعمال ہوتے ہیں اور ان پر دہشت گرد القاعدہ اور طالبان کی پرچی لگا دی جاتی ہے اور ہم فخریہ اس مسلم کش مہم میں شامل ہوتے ہیں۔ابھی حال ہی میں امریکہ کے شہ پر ایتھوپیا کی عیسائی حکومت نے بلاجواز ایک خود مختار آزاد ملک صومالیہ پر کھلم کھلا جارحانہ حملہ کر دیا تھا اور دارالحکومت موغادیشو اور کئی شہروں پر قبضہ کر کے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کر دیا تھا ۔ اقوام متحدہ کے سیکریڑی جنرل بان کی مون اور مغربی ممالک نے اس جارحیت پر قطعی کوئی اعتراض یا احتجاج نہیں کیا اور نہ ہی مذمت کی۔ اس کے برعکس جب انڈونیشیا کے صوبہ آچے میں عیسائیوں نے بغاوت کی تو امریکہ اور تمام مغربی ممالک نے اقوام متحدہ پر دباؤ ڈال کر آزادی دلا دی تھی۔
پچھلے دنوں ایک لڑکی کو سوات میں کوڑے مارنے والا ایک افسوسناک و قابل مذمت منظر دکھایا گیا اس کی جس قدر بھی مذمت کی جائے ،کم ہے کیونکہ اسلام کی مقرر کردہ سزا کے قطعی منافی تھالیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریڑی جنرل بان کی مون صاحب نے فوراً ایک مذمتی تیر ہم پر داغ دیا۔ابھی چند ماہ پیشتر جب اسرائیلی حکومت و فوج نے نہایت بربریت سے تقریباً چودہ سو فلسطینی مرد، بچے اور عورتوں کا قتل عام کیا تھا تو یہ صاحب دوسری جانب دیکھ رہے تھے اور امریکہ نے اقوام متحدہ میں کوئی قرارداد اسرائیل کے خلاف منظور نہیں ہونے دی۔خواہ فلسطین ہو یا کشمیر جہاں لاکھوں لوگ بربریت کے شکار ہو چکے ہیں اس میں بر طانیہ کا ہاتھ ہے ، انگریزوں کی اسلام اور مسلم دشمنی کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے اور انگریزوں نے جہاں یہ مہم چھوڑی تھی امریکہ نے اس کو اپنا لیا ہے۔فلسطین کی تاریخ دیکھیں تو صدر نکسن سے لے کر اوبامہ تک ہر صد ر آتے ہی اعلان کرتا ہے کہ فلسطینیوں کو اپنی مملکت کا حق ہے اور ان کو یہ ملنا چاہئے اور تو اور کارٹر نے تو ایک کتاب بھی لکھ ڈالی۔ پہلے چار سال کارٹر ، پھر آٹھ سال ریگن، پھرچار سال باپ بش اور پھر آٹھ سال کلنٹن اور پھر آٹھ سال بیٹا بش، اسی طرح پچھلے بتیس سالوں سے ہم یہ کہانی سنتے آرہے ہیں اور فلسطینی عوام کو دھوکہ اور بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دیکھئے مسئلہ اگر مغربی ممالک دیانتداری سے حل کرنا چاہیں تو ایک ہفتے میں حل ہو سکتا ہے۔یہ لوگ اسرائیلی اور عرب رہنماؤں کو ساتھ لے کر بیٹھ جائیں ۔ اسرائیل مقبوضہ علاقے خالی کرے اور تمام عرب ممالک اس کو ایک خود مختار ملک کی حیثیت سے قبول کر کے سفارتی تعلقات قائم کر لیں لیکن ایسا کیوں ہو؟ ایسانہ ہونے کہ وجہ یہ ہے کہ امریکہ ، انگلستان اور دوسری سفید فام قومیں اس کوشش میں ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل اپنے ملک کو وسیع کرتا جائے گا، فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ کرتا جائے گا اور وہ مالدار بزدل عرب انگلی نہ اٹھائیں گے۔تین ماہ تیل پر پابندی لگانے سے تمام اسرائیلی دوست گھٹنوں پر آ جائیں گے۔اگر عربوں کا امریکہ ، انگلستان ، آسٹریلیا ، جاپان اور کینیڈا کے معدنی وسائل پر کوئی حق نہیں بنتا تو پھر ان ممالک کا بھی عرب ممالک کے وسائل پر کوئی حق نہیں ہے۔
پچھلے دنوں دو واقعات مغربی ممالک کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹک رہے ہیں ایک شمالی کوریا کا میزائل ٹیسٹ اور دوسرے ایران کا ایٹمی پروگرام۔ آپ ان ممالک کی دوغلی پالیسی کو ملاحظہ کریں، جب اسرائیل ، ہندوستان، جاپان، جنوبی کوریا اور دوسرے چمچے ممالک ایسے میزائل ٹیسٹ کرتے ہیں تو مبارکباد دی جاتی ہے مگر شمالی کوریا یہ ”گناہ“ کرے تو جہنم کا عتاب نازل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ایران کے ایٹمی پروگرام پر الزام تراشی اور شور مچایا ہوا ہے۔یہ خدائی فوجدار کبھی اسرائیل سے یہ مطالبہ کیوں نہیں کرتے کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام کا عربوں اور پاکستانیوں سے معائنہ کرائے اور اس کے پُر امن ہونے کا ثبوت دے۔بد معاشی اور دوغلانہ پالیسی یہ ہے کہ اسرائیل کو ایک پاگل طاقتور کتے کی طرح چھوڑ دو اور عربوں کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دو۔اس میں بہت قصور عرب ممالک کا بھی ہے ۔حضرت عمر ، حضرت امیر معاویہ اور سلطان محمد فاتح کے دور میں ان کی گھگی بنی رہتی تھی کیونکہ اس وقت کے مسلمان صحیح مسلمان تھے ، ایماندار تھے اور طاقتور تھے، آج کل خود پرستی اور عیاشی عروج پر ہے اور ذلت و بے غیرتی کو زندگی کا شیوہ بنا لیا گیا ہے۔
آپ کے ہمارے سامنے ویتنام ، کوریا، عراق اور افغانستان میں مغربی ممالک کی مداخلت اور قتل عام کی مثالیں موجو د ہیں اور یہ بھی علم ہے کہ اگر دشمن یا مد مقابل سخت ثابت ہوا تو ان لوگوں کے بہادری کے دعووں کا کیا حشر ہوا۔ مدت بیتی، سفارتی تقریبات میں میری ملاقات لاتعداد سفیروں سے ہوتی رہتی تھی ان میں جنوبی کوریا کے سفیر بھی تھے۔ انہیں پاکستان اور شمالی کوریا کے تعلقات پر فکر تھی۔ میں نے ایک دن الگ بیٹھ کر ان سے گفتگو کی اور ان کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ آپ کیوں امریکی بل ڈاگ بن کر اپنے ہی ہم وطن شمالی کوریاکے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں اور دشمنی میں اضافہ کئے جاتے ہیں ، پرانی جنگ کو چالیس سال گزر گئے ہیں اور امریکن آپ کو مرغوں اور کتوں کی لڑائی کا تماشہ بنا رہے ہیں ، آپ ایک قوم ہیں آپ کا ایک کلچر ہے ، آپ دونوں یعنی پوری قوم ایک ہی دشمن کی جارحیت کا شکار رہا ہے اور لاتعداد مظالم اٹھائے ہیں۔شمالی کوریا کے عوام آپ کے دوست ہیں ، بہن بھائی ہیں ، ان کو ملٹری ٹیکنالوجی میں بہت مہارت ہے اور اگر آپ دونوں مل جائیں گے تو ایک بہت بڑی طاقت بن جائیں گے اور آپ کے نام نہاد دوستوں اور ہمدردوں کو یہ بات گوارہ نہیں ہے ۔ آپ کے سامنے مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی کا الحاق ہے، الحاق سے پیشتر امریکہ نے مشرقی جرمنی کو شیطان کے طور پر پیش کر رکھا تھا، پھر جنوبی اور شمالی یمن کا الحاق بھی سامنے ہے اور ویتنام کا الحاق بھی۔ویتنام میں امریکہ نے بدمعاشی کر کے الیکشن معطل کرا دیا اور ایک ڈکٹیٹر کو بٹھا کر جنگ شروع کرا دی، تمام زہریلی گیسوں کا وہاں استعمال کیا، لاکھوں لوگوں کا قتل عام کیا اور ذلت سے شکست کھا کر بھاگنا پڑا۔ آج ویتنام ایک قابل دید ملک ہے اس نے بہت ترقی کی ہے لوگ خوش حال ہیں جس طرح جرمنی دنیا کی اہم معاشی قوت بن گیا ہے۔ میں نے سفیر اور ان کے اسسٹنٹ سے عرض کیا کہ آپ محبت ، خلوص اور مالی مدد سے الحاق کی کوشش کریں امریکن بل ڈاگ کا رول ادا نہ کریں۔دیکھئے شاید کبھی ان لوگوں کو یہ بات سمجھ آجائے اور یہ اپنے مفاد کو امریکی مفاد پر ترجیح دے کر الحاق کی جانب قدم بڑھائیں۔
ابھی چند دن پیشتر اوبامہ نے سی آئی اے کے تمام درندوں کو جنہوں نے لاتعداد بے گناہ قیدیوں پر نہایت نفرت انگیز اور تکلیف دہ مظالم ڈھائے تھے کھلی عام معافی دے دی حالانکہ خود امریکی حکومت نے اعتراف کیا تھا کہ یہ قیدی کسی جرم کے مرتکب نہ تھے اور یہ کہ یہ مظالم بین الاقوامی قوانین اور یو این یعنی اقوام متحدہ کے منشور کے تحت بھی ناقابل معافی جرائم کے تحت آتے تھے لیکن جس کی لاٹھی اسی کی بھینس والی بات ہے۔
ابھی ایک اور واقعہ قابل غور ہے ۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیر سایہ ایک بین الاقوامی کانفرنس نسلی امتیاز پر کی گئی۔ اس میں ایران کے صدر احمدی نژاد نے بھی شرکت کرنا تھی۔ کانفرنس کے شروع ہونے سے پیشتر ہی امریکہ اور اس کے حواری ممالک آسٹریلیا ، اسرائیل، کینیڈا، جرمنی، اٹلی ، ہالینڈ، نیوزی لینڈ اور پولینڈ نے اس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا۔ ایرانی صدر نے اسرائیل کو ایک نسل پرست ملک قرار دیا جو ایک حقیقت ہے، اس بات پر بان کی مون اور دوسرے مغربی لیڈروں نے سخت احتجاج کیا لیکن ان کی دوغلی پالیسی کا منظر اس وقت دیکھئے جب بے گناہ مسلمانوں کے خون سے تر ہاتھوں والا اسرائیلی وزیراعظم اُولمرٹ یا پیریس کسی کانفرنس میں تقریر کرتے ہیں تو یہی لوگ اس طرح باادب بیٹھ کر سنتے ہیں گویا نغوذ بااللہ حضرت عیسیٰ انجیل کی تلاوت کر رہے ہوں ۔ بس مسلمانوں کی حالت زار کی یہ شعر عکاسی کرتا ہے ۔
دل ہلا دوں کس کا ، غم کی داستاں کس سے کہوں
بے کسوں کی کون سنتا ہے فغاں کس سے کہوں
ایک اور مثال ابھی انگلینڈ میں گیارہ پاکستانی طلباء کی گرفتاری ،ان پر دہشت گردی کا الزام، زمین پر لٹا کر بندوقیں سر پر لگانا، ہتھکڑیاں لگانا ہے ۔ وزیر اعظم گورڈن براؤن نے ٹی وی پرایک تھیٹر بنا دیا اور ایک ہفتہ بعد یہ تمام طلباء بے گناہ پائے گئے ۔آپ سوچئے کہ ان بیچاروں پر کیا گزری ہو گی لیکن اس بدمعاشی پر نہ ہی پولیس اور نہ ہی حکومت نے معافی مانگی بلکہ ان کو ملک بدر کرنے کی بات ہو رہی ہے ۔ یہ ہے مغربی قانونِ عدل اور انسانی حقوق کا تحفظ ، مگر ہماری اپنی بے غیرتی ایسے واقعات کی ذمہ دار ہے۔