• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ورلڈ کپ اور الہ دین کا چراغ,,,,چوراہا … حسن نثار

مدتوں سے عوام کا حال اس معصوم مرغی جیسا ہے جس کے نیچے سانپ، کوّے یا مردار خور گدھ کے انڈے رکھ دیئے جائیں اور ممتا کی ماری مرغی مخلصانہ تپسیا کے ساتھ ان انڈوں کو سیتی رہے اور کمال یہ ہے کہ جب سانپوں، کو ّوں اور گدھوں کے انڈوں سے بچے برآمد ہوں تو مرغی سینہ پھلا کر اٹھلاتی پھرے کہ اس کی گود ہری ہو گئی ہے ۔عوامی امیدوں کی گود بھی یونہی ہری ہو کر اجڑتی رہتی ہے ۔
امیدوں کے اس اجاڑے کی انتہا یہ کہ اب عوام سے ان کے نعرے اور سمبل بھی چھینے جا رہے ہیں۔ چند روز قبل ایک نجی ٹی وی چینل پر مغربی پاکستان کے ایک بہت بڑے جاگیردار، نواب اور سابق گورنر کی پوتی یہ کہہ رہی تھی:
”پاکستان پر مخصوص مراعات یافتہ طبقات یعنی جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور مختلف قسم کے بیورو کریٹوں کا قبضہ ہے “ …الامان الحفیظ… جاگیر دارنی خود جاگیرداروں کے قبضہ پر گفتگو کر رہی تھی جو بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی خون چوس قبضہ گروپ کا سرغنہ فیض احمد فیض کا کلام گاتا پھرے یا حبیب جالب کو اپنا آئیڈیل قرار دے ۔عوام سے ان کے خواب تو کیا نعرے اور سمبلز بھی چھینے جا رہے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کل کلاں صنعت کاروں یا بڑے تاجروں کی کوئی تنظیم …”روٹی کپڑا اور مکان “ کا نعرہ لے اڑے بلکہ سچ پوچھیں تو کسی اور شکل میں یہ کام ہو بھی چکا ہے کہ جب ہیوی ویٹ زمیندار، صنعت کار اور گدی نشین اس قسم کے نعرہ کے اجارہ دار، ٹھیکیدار اور چوکیدار بن جائیں تو سمجھو یہ نعرہ بھی ہائی جیک ہو گیا۔
ابن انشا #نے فرمایا تھا ۔
جس جھولی میں سو چھید ہوئے
اس جھولی کا پھیلانا کیا
انشا جی میرے بڑے پیارے بزرگ تھے، مجھے بے حد دلچسپ خط لکھا کرتے تھے لیکن آج محسوس کرتا ہوں کہ آپ ”ناشکرے “ تھے کیونکہ چھیدوں والی ہی سہی ان کے پاس کم از کم جھولی تو موجود تھی۔ بھلے وقتوں میں بھلے لوگ کمزوروں اور ناداروں پر ترس کھا کر کہتے تھے کہ فلاں آدمی بہت تہی دامن ہے … آج تو دامن کا ہونا ہی بڑی بات ہے کہ کم از کم اس خطے میں آٹے کا کال کبھی نہ پڑا تھا۔ مغلوں اور اس سے پہلے بھی یہاں کا عام آدمی ”ہینڈ ٹو ماؤتھ“ ہی ہوتا تھا جس کا سب سے بڑا اور سادہ سا ثبوت یہ قدیم محاورہ ہے کہ …”دو وقت کی روکھی سوکھی بھی مل جائے تو صبر شکر کرتے ہیں “ ۔بیڑہ غرقے انگریز کا جس نے تین وقت کا کھانا مقامیوں میں متعارف کرایا لیکن تب بھی نہ کوئی بھوک سے مرتا یا خودکشی کرتا تھا، نہ خودکش حملے ایجاد ہوئے تھے حالانکہ استعمار موجود تھا اور نہ کسی غوری، غزنوی، خلجی، بلبن، تغلق، لودھی، سوری یا مغل حکمران کوسستی روٹی سکیم بنانی اور سرکاری تندور تاپنے پڑتے تھے ۔ کبھی کسی قحط، وباء یا جنگ کی لپیٹ میں آکر بدسے بد تر بھی ہوا تو یہ ”معجزہ “ کبھی رونما نہ ہوا تھا کہ اس دھرتی کے باسی قرض لئے بغیر مقروض ہو جائیں۔ ہندو بنیا قرض دیتا تھا اور پھر سود در سود در سود در سود بھی وصولتا تھا جو بہت بڑا ظلم تھا لیکن ایک بات ہمیشہ شک و شبہ سے بالا تھی اور وہ یہ کہ مقروض نے قرض ضرور لے رکھا ہے لیکن صدقے جاؤں آزادی کے کہ اب ہر آدمی بغیر کوئی قرض لئے ڈالروں میں مقروض ہے ۔ پاکستان پر واجب الادا قرضوں کی مجموعی مالیت 119.9 ارب ڈالرز تک پہنچ گئی ہے او رساڑھے سولہ کروڑ آبادی والے پاکستان کا ہر غیور اور باشعور شہری 591ڈالر کا مقروض ہوگیا ہے جسے ”پاک روپی “ سے ضرب دیں تو تقریباً سینتالیس ہزار دو سو اسی (RS-47280) روپے بنتے ہیں لیکن …قوم خوش ہے ،ملک بھر میں جشن منایا جا رہا ہے، بھنگڑے ڈالے جا رہے ہیں، مٹھائیاں تقسیم ہو رہی ہیں، آتش بازی زوروں پر ہے ، فضائیں زندہ باد کے نعروں سے گونج رہی ہیں،ایک دن کی چھٹی کا مطالبہ ہو رہا ہے ،برطانیہ کے شہروں میں پاکستانیوں نے جشن منانے کے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔کراچی میں جیت کا جشن دو افراد کی جان لیکر متعدد کو زخمی بھی کر چکا ہے۔یہ ”عالمی جنگ “ جیتنے پر شکرانے کے نوافل بھی ادا ہو رہے ہیں،سڑکیں بند… ہوائی فائرنگ جاری واقعی …”ایک ہنگامہ پر موقوف ہے گھر کی رونق“ پاکستان نے سری لنکا کو ہرا کر جی ہاں سری لنکا کو ہرا کر ورلڈ کپ جیت لیا تو ایسے میں آٹے میں نمک برابر مجھ جیسے کچھ منحوس خوش ہونے کی بجائے رنگ میں بھنگ ڈالتے ہوئے یہ سوچ رہے ہیں کہ کیوں نہ سجدہ ریز ہو کر …پوری قوم سجدہ ریز ہو کر یہ دعا مانگے کہ یہ ”ورلڈ کپ“ جلد از جلد ”الہ دین کے چراغ “ میں تبدیل ہو جائے ۔ پھر ایوان صدر یا پی ایم ہاؤس میں اس چراغ کو رگڑنے کی تقریب منعقد ہو جس میں ہمارا صدر یا وزیر اعظم یہ چراغ رگڑے تو جن حاضر ہو کر پوچھے …
”کیا حکم ہے میرے آقا ؟“ تو صدر یا وزیر اعظم اسے دہشت گردی سے لیکر لوڈشیڈنگ تک کے خاتمہ کا حکم دیں۔ اس سے مہنگائی کم اور شرح خواندگی میں اضافہ کا کام لیں۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ہندوستان سے اپنے حصہ کا پانی دلانے کا کہیں … اربوں ڈالر کے قرضوں سے نجات کا بندوبست کرائیں۔ اسے حکم دیں کہ اس ملک سے خوراک میں ملاوٹ کے خاتمہ سے جعلی ادویات کی تیاری تک بند کرائے، لوگوں کو قطار اور ٹریفک کی تمیز سکھائے، ہمارے اندر اتحاد، اتفاق، یکجہتی اور بھائی چارہ پیدا کرے، ہمیں محنت کا عادی بنا دے وغیرہ وغیرہ وغیرہ ، کاش یہ ”ورلڈ کپ “ …”الہ دین کا چراغ “بن جائے لیکن پھر مجھ جیسے خودغرض کے ہاتھ نہ آ جائے جو جن سے کہے …عوام کو چھوڑو دنیا کے ہر دارالحکومت میں میرے لئے جائیدادیں اکٹھی کرو اور دنیا کے ہر غیر ملکی بنک کی ہر غیر ملکی برانچ میرے نام پر ڈالروں سے بھر دو۔
کاش یہ ورلڈ کپ …الہ دین کا چراغ بن جائے اور ہم جیسوں سے محفوظ بھی رہے !!!
تازہ ترین