• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آٹھ سو سالہ تاریخ کا اعادہ,,,,ایازا میر

ہمارے ماضی کے تقریباً تمام عظیم مسلمان حکمران یا تو ترک تھے یا افغان، محمود غزنوی سے لیکر مغل حکمرانوں تک سبھی کاکیشین تھے اور انہوں نے شمال کے ٹھنڈے علاقوں سے نکل کر ہندوستان پر حملے کئے، اسے فتح کیا اور اس پر حکومت کی۔1192عیسوی سے لیکر اگلے آٹھ سو سال تک ہندوستان کسی نہ کسی صورت کاکیشیائی حکمرانوں کے زیرنگین رہا۔ یہ 1192ء کا ہی واقعہ ہے جب پرتھوی راج چوہان کو محمد غوری نے موجودہ دور کے ہریانہ میں شکست فاش سے دوچار کیا لیکن اس آٹھ سو سال پر محیط تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے سے معلوم ہو گا کہ موجودہ دور کے سرزمین پاکستان نے کسی اہم یا قابل قدر رہنما یا حکمران کو جنم نہیں دیا، ہاں مہاراجہ پنجاب رنجیت سنگھ کو کسی حد تک استثناء میں شمار کیا جا سکتا ہے لیکن ہم پاکستانی فرط جذبات میں بہہ کر یہ دعویٰ کر بیٹھتے ہیں کہ ہم سابق مسلم فاتحین کے جان نشین ہیں لیکن ہمارے خیال میں یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ ہم میں سے بیشتر کا تعلق برصغیر سے ہے نہ کہ وسطیٰ ایشیاء سے۔ جس طرح سلطنتوں اور قوموں کا عروج و زوال اظہرمن الشمس ہے، اسی طرح مختلف نسلیں بھی وقت کے ساتھ ساتھ ڈوبتی اور ابھرتی ہیں۔ مغلوں نے جب بابر کے زیر کمان ہندوستان پر حملہ کیا تو وہ ایک مضبوط و توانا قوم تھے لیکن دو سو سال تک مسلسل حکمرانی کرنے کے بعد ان کی حکومت کے تار و پود کمزور ہونا شروع ہو گئے اور وہ حکومت جو تیمور سے چلی تھی، عروج سے زوال کی طرف گامزن ہو گئی۔
ہم بھلے اپنے میزائلوں کو غوری اور ابدالی کے نام دیتے رہیں لیکن ہم اپنے ماضی کے حقائق سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے بلکہ اپنے میزائلوں کو ابدالی کا نام دینا ہمیں تو کچھ زیادہ مناسب نہیں لگتا کیونکہ احمد شاہ ابدالی تو وہ شخص تھا جس نے پنجاب پر کئی حملے کئے اور جس کی وجہ سے پنجاب کو کافی سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ اب یہ خیال شاید ہمارے قارئین کو کچھ عجیب لگے لیکن بہرحال حقیقت یہی ہے کہ ہم اگر اس وقت کے حکمران پنجاب رنجیت سنگھ کے ساتھ اپنے جذبات وابستہ کریں تو شاید زیادہ مناسب ہوگا بہ نسبت یہ کہ ہم ماضی کے فاتحین کی عظمت کے ساتھ خود کو وابستہ کریں۔سو ہمیں جس چیلنج کا سامنا ہے، وہ کافی سے زیادہ دشوار رہا ہے یعنی اس سرزمین نے آٹھ سو سال تک کسی مقامی حکمران کو جنم نہیں دیا لیکن اگر سرزمین پاکستان کو اپنے تئیں کچھ کرنا ہے اور خود کو اقوام عالم میں سرخروکرنا ہے اور گزشتہ ساٹھ سال کی ناکامیوں کا چولہ اتار پھینکنا ہے اور اپنے لئے ایک نیا مستقبل تراشنا ہے تو پھر باشندگان پاکستان کو یعنی اس سرزمین کے بیٹوں اور بیٹیوں کو کچھ نیا تخلیق کرنا ہوگا، انہیں وہ صلاحیتیں اور قابلیتیں ڈھونڈنی ہوں گی جو پہلے کبھی ظاہر نہیں ہو پائیں، ہاں ان قائدانہ صلاحیتوں کے حوالے سے تاریخ ہمیں صرف لاہور کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کا نام پتہ بتاتی ہے اور اس کے بعد فل اسٹاپ لگ جاتا ہے۔
ہمیں سرزمین پاک کی حیات نو کے لئے تازہ خون درکار ہے لیکن ہمیں اس کے حصول کے لئے سربہ فلک پہاڑوں کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے کیونکہ اس پار سے کوئی کمک نہیں آئے گی،کوئی غزنوی یا غوری ہمیں بچانے نہیں آئے گا اور نہ ہی کوئی نئی ریاست وجود میں آئے گی۔ ہمیں خود ہی سب کچھ کرنا ہوگا۔ یہ ہم ہی ہیں جو پاکستان کو بچا سکتے ہیں اور اسے گنوا بھی سکتے ہیں۔ ہمارے نجات دہندہ بھی پاکستان سے اٹھیں گے اور ہمیں ڈبونے والے بھی پاکستان سے ہی اٹھیں گے، سو ہمارا جینا مرنا یہیں ہے۔ ہماری سرزمین کو درپیش چیلنج کی سنگینی کے پیش نظر ہمیں کسی حد تک صبر و برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے لیکن ہم اپنے حکمرانوں سے معجزوں کی توقع کئے بیٹھے رہتے ہیں، خواہ وہ حکمران ایوب خان ہو، یحییٰ خان ہو، اسحاق خان ہو، زرداری ہو، گیلانی ہو یا نواز شریف ہو، ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری توقعات کا سیدھا سادا مطلب تاریخ کا رخ موڑ دینا ہے کیونکہ ہم اپنے حکمرانوں سے جس قائدانہ معجزے کی توقع کرتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم مقامی صلاحیت و قابلیت کا برملا اظہار چاہتے ہیں۔
لیکن جہاں تک مقامی صلاحیت و قابلیت کے اظہار کا تعلق ہے تو اس حوالے سے یہ کہتے چلیں کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ایسا ہونا مشکل ہے یا ایسا کبھی نہیں ہو سکے گا لیکن ہماری گزارش فقط اتنی ہے کہ ہمیں اس چیلنج کی شدت اور وسعت کا اندازہ ضرور ہونا چاہئے۔ہمیں ایک بالکل نئی شے تخلیق کرنی ہے، ایک ایسی شے جو اس سے قبل ماضی قریب کی تاریخ میں اس سرزمین پر یعنی پنجاب، سرحد، بلوچستان اور سندھ میں نہیں تھی اور اگر تھی بھی تو شاید وہ قبل از تاریخ کا زمانہ ہو گا۔
شاید ان زمانوں میں کوئی قابل حکمران ہو گزرے ہوں لیکن ہمیں تاریخ کے صفحات واضح طور پر کچھ بتانے سے قاصر ہیں اور ہم ان کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں اور حقیقت یہ بھی ہے کہ اگر یہ حکمران موجود بھی تھے تو یہ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کے دور حکمرانی سے قبل کی بات رہی ہے اور اگر ہم مسلمان حکمرانوں کے ناتے اپنے ماضی پر فخر کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ جب انگریزوں نے سرزمین ہند پر قدم رکھا اور یہاں اپنی سلطنت کی بنیاد رکھی تو یہ برصغیر کے مسلمان ہی تھے جو زوال کا شکار ہوئے۔ انگریزوں کی آمد کے بعد مسلمان حکمران نہیں رہے بلکہ صورتحال یہاں تک خراب ہو گئی کہ مسلمان برطانوی حکومت سے یہ مطالبہ کرنے لگے کہ جداگانہ انتخابات کے ذریعے انہیں ہندو اکثریت کے غلبے سے تحفظ فراہم کیا جائے۔سو قسمت کی ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیے۔ وہ مسلمان جو کبھی برصغیر کے سیاہ و سفید کے مالک تھے، اب ایک اقلیت میں تبدیل ہو گئے تھے اور مسلمانوں بلکہ یوں کہیں مسلمان رہنماؤں کو یہ خوف لاحق ہو گیا تھا کہ متحدہ ہندوستان میں کہیں ہندو اکثریت انہیں مغلوب نہ کر لے یا پھر ان کے جائز حقوق بھی ان سے چھین نہ لئے جائیں، سو انہی مشکلات کا ادراک و اندازہ کر لینے کے بعد خوف کی حالت طاری ہو گئی اور مسلمانوں نے جداگانہ انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔
خوف کی کوکھ سے جنم لینے والے یہ خدشات، وقت ، حالات اور واقعات کی پیداوار تھے۔ پہلی جنگ عظیم میں خلافت عثمانیہ کی شکست کے بعد ترکی نے قوم پرستی میں پناہ ڈھونڈی، وسیع سلطنت کا خیال اب ممکن نہیں رہا تھا۔ مصطفیٰ کمال نے اس حقیقت کو کھلی آنکھوں سے دیکھا اور محسوس کیا، ان کا ویژن قطعی طور پر واضح تھا۔ جہاں تک برصغیر کا تعلق تھا تو یہاں مسلمانوں نے پاکستان کی صورت میں اس خیال کی تعبیر ڈھونڈنے کی کوشش کی اور جہاں تک قائد اعظم محمد علی جناح کا تعلق ہے تو انہوں نے ہی اس خواب کو عملی طور پر تعبیر عطا کی ۔لیکن ترکی اور پاکستان میں ایک اہم فرق موجود تھا۔ ترک قوم ترکی کو خلافت عثمانیہ کا حقیقی مرکز سمجھتے تھے اور یہ ایک بین حقیقت بھی تھی جبکہ برصغیر پر اپنے آٹھ سو سالہ دور حکومت میں مسلمانوں نے وسطی برصغیر یعنی دہلی اور اس کے اطراف پر حکومت قائم کئے رکھی لیکن تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے بعد ہمیں اس مرکز سے خود کو علیحدہ کرنا پڑا اور اپنے لئے ایک نئے مرکز کی تخلیق و تشکیل کرنی پڑی۔ سو پاکستان نہ صرف یہ کہ قائم ہوا بلکہ اس نے اپنے لئے مسلم طاقت کی حیثیت سے ایک نیا مرکز بھی تخلیق کیا۔
یہ ایک نیا چیلنج تھا کیونکہ اس سے قبل مسلم طاقت کا کوئی مرکز اس سرزمین پر موجود نہ تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ مسلمان سلطنتیں جنوب میں بھی موجود تھیں اور شمال میں بھی موجود تھیں لیکن موجودہ پاکستان میں مسلمانوں کا کوئی طاقتی مرکز نہ تھا اور یہاں ہم ایک مرتبہ پھر اپنے نکتہٴ نظر کا اعادہ کرنا چاہیں گے کہ جن علاقوں پر اس وقت پاکستان مشتمل ہے، وہاں مقامی سطح پر کوئی قابل قدر حکمران یا رہنما موجود نہیں تھا، خواہ وہ ملتان یا لاہور سے ہو، پشاور یا بنوں سے ہو، حیدرآباد یا ٹھٹہ سے ہو ،کوئٹہ یا قلات سے ہو، اس سرزمین پر قیادت کے حوالے سے کوئی رول ماڈل یا قابل تقلید نمونہ موجود نہیں تھا۔ہمارے پاس سڑکیں اور پل موجود تھے، ہمارے پاس نہری نظام بھی موجود تھا، اچھا خاصا قانونی اور انتظامی ڈھانچہ بھی تھا اور کسی حد تک جمہوری ادارے بھی موجود تھے، انتخابات اور سیاسی جماعتوں کی داغ بیل بھی پڑ چکی تھی لیکن جہاں تک مقامی سطح پر قیادت کا سوال اٹھتا ہے تو ماسوائے رنجیت سنگھ ہمارے ہاں قیادت کے حوالے سے کوئی قابل قدر مثال موجود نہیں۔ جہاں تک ترک ذہنیت کا تعلق ہے تو ان کے ہاں ترک قومیت کا تصور کافی سے زیادہ واضح تھا اور مسلمان ہونا اس قومیت کا ایک حصہ یا جُز تھا نہ کہ مسلمان ہونا ہی کُل تھا لیکن جہاں تک پاکستان کا تعلق تھا تو یہ ایک قطعی طور پر نئی تخلیق تھی اور اس تخلیق کی مشکلات کے پیش نظر ہمارے ابتدائی قائدین نے اسلام کو قومیت کی بنیاد قرار دے دیا۔یقینا ہم نے دنیاوی مسائل سے گھبرا کر مذہب میں پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کی جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ مشرقی پاکستان میں عدم اطمینان کی وجہ سے ہمیں جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا اس کا ہمیں کوئی مادی حل ہی ڈھونڈنا چاہئے تھا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ سردست ہمیں بلوچستان میں بھی اسی قسم کے مسائل کا سامنا ہے لیکن ہم حقیقی حل کی بجائے عارضی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
طالبان کے خلاف جاری جنگ میں بھی ہماری جیت ہونا ابھی باقی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ طالبان کے خلاف جنگ میں ہم تشکیل کے نئے مراحل سے گزریں گے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس جنگ کو بہر صورت اور بہر کیف نظر انداز کرنے کے درپے ہیں لیکن سوئے اتفاق کہ حالات و واقعات نے یہ جنگ اب ہم پر تھوپ دی ہے، سو لڑے بغیر کوئی چارہ کار نہیں۔ طالبان ہمارے لئے درد سر بن چکے ہیں جبکہ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی بھی پاکستان پر دباؤ میں اضافے کا سبب ہے کیونکہ پاکستانی فوج کو واضح طور پر کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک فیصلہ کن راہ عمل کا تعین کر لے لیکن آخر طالبانیت کیا ہے؟ بنظر غائر جائزہ لیا جائے توطالبانیت غیر ملکی درآمد ہے اور یہ ہماری سرزمین کے حوالے سے اجنبی اور نامانوس تصور ہے۔ اسامہ بن لادن اور ملا عمر پاکستان کے تصور سے بالکل متصادم شخصیات ہیں لیکن اللہ بھلا کرے ہماری کج فہمیوں اور بیوقوفیوں کا جس کی وجہ سے اس قسم کے درآمد شدہ تصورات کو بھی ہماری سرزمین پر پھلنے پھولنے اور پنپنے کا موقع ملا لیکن ہمیں امید ہے کہ صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور تصور پاکستان کو جلد بیرونی وائرس سے نجات مل جائے گی، ہماری کوششیں جاری ہیں۔ تصور پاکستان اب بھی اپنی تشکیل و تخلیق کے مراحل سے گزر رہا ہے، پاکستان بکھر جانے اور ختم ہو جانے کے لئے تخلیق نہیں ہوا، ہمارے سامنے تاریخ کا یہ چیلنج موجود ہے کہ ہم اپنے حکمران طبقے بشمول اپنی فوجی قیادت اپنے اذہان سے کنفیوژن کو نکال باہر کریں اور اپنے عوام کی ضروریات کے پیش نظر ایک نیا ویژن تخلیق کریں۔
تازہ ترین