• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ افغانستان میں جنگ ہار چکا ہے,,,,ملک محمد اسحاق راہی

9/11 کے سانحہ میں امریکہ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے جبکہ امریکہ کو جو کچھ کرنا چاہئے تھا وہ امریکہ نے اس سانحے کے سلسلے میں دانستہ نہیں کیا جس کی وجہ سے امریکہ کو صحیح سمت میں پیشرفت کرنے میں آج تک توفیق حاصل نہ ہو سکی لیکن 9/11 کے سانحے نے یہ ثابت کر دیا کہ امریکی اور امریکہ ایک خونخوار ہاتھی بن گیا ہے جس کی کسی نے سونڈ کاٹ دی ہو اور یوں یہ پاگل ہو کر آناً فاناً آؤ دیکھا نہ تاؤ کی مصداق مسلمانوں پر چڑھ دوڑا یعنی امریکہ نے 9/11 کے سانحے کے بعد بلا کسی تحقیق کے مسلمانان عالم کے خلاف صلیبی جنگوں کا سلسلہ شروع کر دیا حالانکہ امریکہ خود کو سپر پاور کہتا ہے مگر بدقستمی سے سپر پاور والی کوئی بات امریکہ میں دکھائی نہیں دی۔ امریکہ کو اقوام متحدہ سے اس سانحے کی تحقیقات کرانی چاہئے تھی جس میں مسلمانوں سمیت تمام چیدہ چیدہ ممالک کے نمائندے شامل ہوتے مگر طاقت کے نشے میں اور واحد سپر پاور ہونے کے غرور اور تکبر میں امریکہ مسلمانوں پر چڑھ دوڑا اور یوں اس نے 7/ اکتوبر 2001ء کو افغانستان پر حملہ کر دیا اور وہاں امریکہ بہادر نے ڈیزی کٹر بموں سمیت تمام قسم کا جدید اسلحہ کی برسات کر دی مگر امریکہ کے قبضے میں اب تک افغانستان نہ آیا ایسے میں دو برس گزر گئے اور اسے کوئی کامیابی نہ مل سکی اور جبکہ یہ دنیا کا اکلوتا سپر پاور ہے اس خفت کو مٹانے کیلئے اس نے ایک اور غلطی کا ارتکاب کیا کہ 20 مارچ 2003ء کو امریکہ نے عراق پر بھی حملہ کر دیا اس ساری کارروائی میں امریکہ کے ساتھ اس کے اتحادی (27 ممالک) بھی اس جنگ میں امریکہ کی مدد کر رہے ہیں مگر امریکہ کی بدقستمی دیکھئے کہ یہ امریکہ نہ تو افغانستان فتح کر سکا اور نہ ہی عراق کو فتح کر سکا۔ دراصل 26 دسمبر 1991ء میں روس کا افغانستان کے ریگزاروں میں شیرازہ بکھرنے کے بعد امریکہ کا دماغ خراب ہوا اور یوں یہ خود کو عقل کل سمجھ بیٹھا ہے اور یوں یہ بلاشرکت غیرے دنیا کو فتح کرنے کا خواب پورا کرنے چلا ہے جس کی پہلی سیڑھی چین کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے مگر لگتا ہے کہ یہ اب ناممکن ہے کیونکہ خود امریکہ کے اتحادی اور نیٹو اور برطانیہ کے کئی ممالک کے فوجی سربراہوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ امریکہ افغانستان میں جنگ ہار چکا ہے اور اب امریکہ کا یہ جنگ جیتنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جس کا ثبوت یہ ہے کہ ان دونوں ممالک پر امریکہ نے حملہ کرنے سے پہلے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ جنگیں گھنٹوں یا دنوں کی بات ہے۔ میں ان سارے ممالک کو تورا بورا بنا دوں گا مگر اب یہ جنگ میں غیرمعمولی طور سے طویل ترین جنگ کا روپ دھار چکی ہیں اور فی الحال دونوں ممالک میں زبردست آہنی بین الاقوامی مزاحمت امریکہ کے خلاف اسی شدومد سے جاری ہے جیسے پہلے روز بھی طویل جنگیں تو آج کوئی بھی برداشت نہیں کر سکتا ہے اسی وجہ سے ان طویل جنگوں کی بنیاد پر امریکہ کی معیشت تباہ وبرباد ہو چکی ہے جس کی وجہ سے امریکہ جیسے ملک میں بیروزگاری کی شرح 13 فیصد سے بھی زیادہ بلند ترین شرح کو چھو رہی ہے آج امریکہ کے مضبوط ترین مالیاتی ادارے دیوالیہ ہو رہے ہیں اور خود امریکہ کے اندر امریکہ کے لیڈروں کے خلاف نفرت کا پہاڑ کھڑا ہو چکا ہے لیکن میں یہاں یہ اضافہ کرنا چاہوں گا کہ امریکہ کی غلط حکمت عملی اور اس بلاعذر جنگ کی وجہ سے نہ صرف امریکہ کی معیشت اور ساکھ داؤ پر لگ چکی ہے بلکہ ساری دنیا کے حالات بگڑ گئے ہیں جس کی بنا پر کساد بازاری نے ساری دنیا کے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کی وجہ سے ساری دنیا کے ممالک آج پریشان دکھائی دیتے ہیں جبکہ امریکہ کا ان جنگوں میں ریکارڈ نقصان ہوا ہے ان جنگوں پر جنہیں امریکہ عالمی دہشت گردی کی جنگ کہتا ہے جنگی اخراجات 6 کھرب 85/ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گئے ہیں اور امریکہ کے ہی گورنمنٹ اکاؤنٹیبلٹی آفس (GAO) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2008ء کے اختتام پر امریکہ صرف عراق جنگ پر 5 کھرب 33/ارب اور 50 کروڑ ڈالر خرچ کر چکا ہے جبکہ یہ افغانستان اور دیگر کئی ممالک کی جنگ پر ایک کھرب 24/ارب 10 کروڑ ڈالر تک اخراجات ہو چکے ہیں جبکہ امریکی سرزمین کو ان دہشت گردوں سے محفوظ کرنے کیلئے 28/ارب 70 کروڑ ڈالر مزید خرچ کئے جا چکے ہیں اس کے علاوہ دیگر عسکری نوعیت کے مزید کئی منصوبوں پر ایک کھرب 22/ارب اور 30 کروڑ ڈالر علیحدہ سے خرچ ہو چکے ہیں ان کے علاوہ 2008ء میں مزید کئی کھرب ڈالر خرچ ہونے کی توقع ہے ان جنگی اخراجات نے نہ صرف امریکہ کی معیشت کو ہلا کے رکھ دیا ہے بلکہ ساری دنیا کی ہی معیشت کو ہلا کے رکھ دیا ہے کیونکہ تقریباً ساری دنیا پر ڈالر چھایا ہوا ہے اس طرح راقم کا یہ خیال ہے کہ ہم ساری دنیا کو موجودہ معاشی بحران سے بچانا چاہتے ہیں تو فوراً ڈالر کو تین طلاق دے دیں جبکہ عرصہ پہلے دنیا کی 20 بڑی معاشی طاقتوں (G-20) کے سربراہوں کا اجلاس ہوا تھا جس میں عالمی معاشی بحران پر قابو پانے کیلئے 10 کھرب ڈالر کا ایک پیکج تیار ہوا تھا جس میں سے عالمی مالیاتی ادارے (IMF) کو بھی 750 ارب ڈالر ملنے تھے میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں یہ علاج بھی ناکافی ہے اس سے بھی دنیا کا معاشی بحران حل نہیں ہو سکے گا دوسری طرف تمام عالمی طاقتوں کو پسینہ آچکا ہے اور یہ پریشان ہیں کہ افغانستان کی جنگ کون جیتے گا؟ اور کیسے جیتے گا؟ اسی لئے تمام عالمی طاقتیں امریکہ کے ساتھ چمٹ چکی ہیں کیونکہ اگر یہ جنگ امریکہ ہار گیا تو ان عالمی طاقتوں کا کیا بنے گا؟ کہیں امریکہ کے ہارنے سے یہ عالمی طاقتیں ہی نہ بکھر جائیں اس لئے اس وقت ساری عالمی طاقتوں کی دلچسپی اور مفادات افغانستان جنگ پر مرکوز ہو چکے ہیں اور یوں خود امریکہ ہر حالت میں جلد سے جلد افغانستان کی جنگ جیتنا چاہتا ہے اسی وجہ سے امریکہ نے پاکستان پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ (پاکستان) یہ جنگ جیت کر دے اور یوں پاکستان نے ڈالر کے لالچ میں یہ جنگ جیتنے کی ناکام کوشش شروع کر دی ہے جو کہ مالا کنڈ، سوات اور دیگر ملحقہ علاقوں کی صورتحال ہمارے سامنے ہے اور یہ کروٹ اور سوچ کی تبدیلی ہی بین الاقوامی ثبوت ہے دوسری طرف جرمنی کے ایک سابق چانسلر ہلمٹ کوہل نے یہ کہہ کر نہ صرف امریکہ کے بلکہ اس کے اتحادیوں کے غبارے سے بھی ہوا نکال دی ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں جنگ ہار چکے ہیں کیونکہ 10 برس ہونے کو ہیں ان طویل جنگوں کو مگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو طالبان کے یا القاعدہ کے خلاف کوئی بڑی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ ہلمٹ کوہل نے ایک اور بات بھی کہی کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی اگر 2 لاکھ سے بھی فوج زیادہ ہو تو یہ جنگ امریکہ اور اس کے اتحادی جیت نہیں سکتے جبکہ ایک اندازے کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی 165000 لاکھ فوج افغانستان میں جنگ لڑ رہی ہے۔ ہلمٹ کوہل نے کہا کہ کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے باوجود بھی کوئی حتمی اور بہتر کارکردگی نہیں دکھا سکے ہیں دوسری طرف امریکہ کے لئے صدر بارک اوباما مزید 45000 امریکی فوج کو گزشتہ تین ماہ سے افغانستان میں بھیجنے کے معاملے میں لیت ولعل سے کام لے رہے ہیں اور یہ ایک فیصلہ ہو گا جو کہ امریکی معیشت کو نگل جائے گا جس سے امریکہ کی معاشی کمر ٹوٹ جائے گی کیونکہ 45000 فوجی مزید بھیجنے سے اربوں ڈالر کا خرچہ مزید بڑھ جائے گا جو کہ نہ صرف امریکہ کیلئے بلکہ بارک اوباما کیلئے خطرناک ثابت ہو گا اسی وجہ سے نہ صرف امریکی بلکہ کئی دیگر ممالک کے بھی فوجی سربراہوں نے یہ کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں جنگ ہار چکے ہیں اور یوں اس جنگ کو جیتنے کیلئے نئی جنگی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل ہو رہا ہے جس میں پاکستان کو قربانی کا بکرا بنائے جانے کا امکان ہے اور بھارت مفت میں عیش کرتا رہے گا اس طرح ہم ان سطور کے ذریعے اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ کہے بنا نہیں رہ سکتے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی نہ صرف افغانستان میں بلکہ عراق میں بھی یہ جنگ ہار چکے ہیں اس لئے دنیا کے امن کی خاطر ہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ قیمتی مشورہ دیں گے کہ وہ یہ جنگ فوراً بند کر دیں اور تمام ممالک امریکہ کے خلاف متحد ہو جائیں اور امریکہ کے خلاف پابندیاں لگا دیں اور ڈالر میں کاروبار بھی بند کر دیا جائے تاکہ دنیا کا امن بحال کیا جا سکے اگر ایسا نہیں کیا گیا تو یاد رکھنا ساری عالمی طاقتوں کی ساکھ بھی داؤ پر لگ سکتی ہے اور امریکہ کے مقدر میں تو شکست لکھی جا چکی ہے کیونکہ یہ فطرتی عمل ہے کہ ظلم تو شاید قیامت تک زندہ رہے مگر ظالم ہمیشہ نہیں رہتا چونکہ میں تاریخ کا ادنیٰ سا طالبعلم ہوں تاریخ ایک صاف شفاف آئینہ ہوتی ہے جس میں کوئی حکمران یا قوم اگر دیکھنا چاہے تو اسے خوب اور صاف دکھائی دیتا ہے کہ تم کیا کر رہے ہو؟ اور تمہارا کیا انجام ہو گا لہٰذا یہ یاد رکھیں اور یہ بات ساری دنیا جانتی ہے اور ایک مسلمہ اصول ہے ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ اس لئے ہم ان سطور کے ذریعے تمام عالمی طاقتوں کو یہ قیمتی مشورہ دیں گے کہ وہ اپنی اپنی جان بچائیں اور امریکہ سے الگ ہو جائیں اور اس کے خلاف قرارداد پیش کریں اور عالمی سطح پر امریکہ کے خلاف معاشی پابندیاں لگائیں تاکہ اس کو ہوش آسکے اور دنیا کا امن بحال ہو سکے اور اسی طرح دنیا کا معاشی بحران بھی حل ہو جائے گا ورنہ تقدیر کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے اپنے کئے ہوئے ظلم کی سزا بھگتنے کیلئے یعنی اپنے اپنے انجام کیلئے وقت کا انتظار کریں کیونکہ وقت کسی کو معاف نہیں کرتا۔
تازہ ترین