ایک امریکی تھنک ٹینک کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں مسلمانوں کی مصدقہ آبادی 1.57 ارب ہے جو دنیا کی کل6.792 ارب آبادی کا تقریباً چوتھا حصہ ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان ایشیا میں آباد ہیں، اس کے بعد یورپ میں24%، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں 20% اور باقی افریقی ممالک میں15% مسلمان آباد ہیں۔ یہ رپورٹ Pew Forum on Religion and Public Life نے تین سال میں مرتب کی ہے جس کے لیے دنیا کے 232 ممالک اور علاقوں سے اعداد و شمار اکٹھے کرنے کے علاوہ محققین (Researchers) نے تقریباً ڈیڑھ ہزار ذرائع بشمول مردم شماری کی رپورٹوں اور مختلف علاقوں کے ڈیموگریفک (Demographic) سروے کا تجزیہ کیا ہے۔ اس رپورٹ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ اب تک کی اس حوالے سے مرتب کی جانے والی تمام رپورٹوں کے مقابلے میں بہت زیادہ جامع ہے۔
رپورٹ مرتب کرنے والے ایک سینئر محقق برائن گرم (Brrian Grim) نے CNN کو بتایا کہ مسلمانوں کی کل آبادی سے متعلقہ اعداد و شمار ان کی توقع سے بڑھ کر ہیں۔ پرنسٹن یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے اسسٹنٹ پروفیسر امنے جمال کا کہنا ہے کہ اس سے قبل عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ مسلمانوں کی اکثریت عرب ممالک میں آباد ہے مگر پیو فورم کی اس تحقیق نے سابقہ نظریے کی تردید کردی ہے۔ امریکی تھنک ٹینک کی اس رپورٹ سے واضح ہوگیا ہے کہ دنیا میں تقریباً ہر چوتھا شخص مسلمان ہے۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی تعداد اسلامی ملک لبنان کے مقابلے میں غیر مسلم ملک جرمنی میں زیادہ ہے۔ اسی طرح کمیونسٹ ملک چین میں مسلمانوں کی تعداد اسلامی ملک شام سے، روس میں مسلم آبادی اردن اور لیبیا کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے۔ اسی طرح ایتھوپیا میں مسلمانوں کی تعداد افغانستان کی مسلم آبادی کے برابر ہے۔
اس وقت دنیا میں 57 اسلامی ممالک ہیں۔ پیو فورم کی اس رپورٹ کی رو سے مسلمانوں کی تقریباً دو تہائی آبادی دنیا کے گیارہ ممالک میں آباد ہے جن میں چھ ملک انڈونیشیا، پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، ایران اور ترکی ایشیائی ممالک، چار ملک مصر، مراکش، تیونس، الجیریا شمالی افریقہ میں اور نائیجریا افریقی ملک ہے۔ اسلامی دنیا کے سب سے بڑے ملک انڈونیشیا میں مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ 203 ملین ہے جو دنیا کی کل آبادی کا تقریباً 13% ہے۔ یورپ میں مسلم آبادی38 ملین ہے جو یورپی آبادی کا تقریباً 5% ہے۔ جرمنی میں تقریباً چار ملین سے زائد آباد مسلمان شمالی اور جنوبی امریکہ کی مجموعی مسلم آبادی سے زیادہ ہیں۔ فرانس میں 2 ملین سے زائد آباد مسلمانوں میں مراکشی، تیونسی اور الجیریا کے مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ امریکہ میں اندازاً 9.6 ملین مسلمان ہیں جو اس کی کل آبادی کا 0.8% ہیں۔ کینیڈا میں مسلمانوں کی تعداد سات لاکھ ہے جو اس کی کل آبادی کا تقریباً 2 فیصد ہے۔ اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عیسائیوں کی 2.2 ارب آبادی کے بعد مسلمان جو تقریباً پونے دو ارب ہیں، تعداد کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس رپورٹ کے سینئر ریسرچر برائن گرم نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ دنیا کی مسلم آبادی میں شیعہ مسلم آبادی کی تعداد 10 سے 13 فیصد ہے اور دنیا کے صرف چار ممالک ایران، پاکستان، بھارت اور عراق میں تقریباً80 فیصد شیعہ مسلمان آباد ہیں۔ پیو فورم کی اس رپورٹ کے مطابق مسلم آبادی سے متعلقہ یہ اعداد و شمار مصدقہ ہیں لیکن کئی غیر مسلم ممالک جہاں مسلمان قلیل تعداد میں ہیں، ان کو اس رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا، اگر انہیں بھی شامل کیا جائے تو دنیا میں مسلمانوں کی تعداد پونے دو ارب سے بھی بڑھ سکتی ہے۔ مسلمانوں کی کل آبادی کا تقریباً دو تہائی پانچ غیر مسلم ممالک جن میں بھارت میں161 ملین، ایتھوپیا میں 28 ملین، چین میں 22 ملین، روس میں 16 ملین اور تنزانیہ میں 13 ملین مسلم اقلیتیں آباد ہیں۔ ایک جرمن تھنک ٹینک کے مطابق چند ہی دہائیوں بعد جرمنی میں مسلم اقلیت اکثریت میں بدل جائے گی۔گزشتہ چند سالوں میں دنیا میں مسلمانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے یورپی اور امریکی تھنک ٹینکس متفکر ہیں۔ آج یورپ اور امریکہ اسلام کے خلاف نہایت منفی پروپیگنڈے برپا کیے ہوئے ہیں مگر اس کے باوجود مسلمانوں کی تعداد کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے۔ خصوصاً 9/11 کے واقعہ کے بعد مغرب میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق کے مطابق اسلام ایک سچا دین اور مکمل ضابطہٴ حیات ہے۔ اسے قبول کرکے انہیں قلبی سکون حاصل ہوا ہے۔ آج مغربی معاشرے کی بے راہ روی، بزرگوں سے لاتعلقی اور خاندانی نظام بکھر جانا مغرب کے لیے پریشان کن معاملہ ہے۔ مشہور یورپی مفکر برناڈشا کا قول ہے کہ مذاہب عالم میں اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو ہمیشہ قائم رہے گا، یہی اسلام کی حقانیت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔عراق اور افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی غیر مسلم فوجیوں کو ایک عرصے سے مسلمانوں کے قریب رہنے کا موقع ملا ہے۔ مسلمانوں کا جذبہ، ان کا اعتماد اور مشکل حالات میں بھی ان کا اللہ پر توکل اور صبر دیکھ کر بہت سے امریکی اور نیٹو فوجیوں نے اسلام قبول کیا ہے اور مسلمانوں میں شادیاں بھی کی ہیں مگر ان کی حکومتوں نے اپنے فوجیوں کے قبول اسلام کے بارے میں اخبارات میں خبریں شائع نہیں ہونے دیں۔ گوانتاناموبے جیل میں تشدد اور مظالم کے پہاڑ توڑے جانے کے باوجود مسلمان قیدیوں کی اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین کامل سے متاثر ہوکر غیر مسلم فوجی اسلام قبول کر رہے ہیں۔ حال ہی میں گوانتاناموبے جیل میں تعینات امریکی فوجی ہالڈ بروکس جن کا موجودہ اسلامی نام مصطفی عبداللہ ہے، کا ایک مراکشی مسلمان قیدی احمد الرشیدی سے سلاخوں سے باہر کھڑے ہوکر اسلام قبول کرنا اس کی ایک تازہ مثال ہے۔ وہ دن دور نہیں جب دنیا میں ہر تیسرا یا دوسرا شخص مسلمان ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مثبت کردار سے اسلام کے امیج پر لگے ہوئے دہشت گردی کے لیبل کو ہٹائیں۔ مسلم دشمن عناصر کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اسلام کو بدنام کیا جائے اور یہودی لابی کا الیکٹرونک میڈیا اس سلسلے میں پیش پیش ہے۔ اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے جو مسلمانوں کو آپس میں بھائی چارگی کا درس دیتا ہے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کو اس حوالے سے اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ مسلمان ممالک تعلیم، صحت اور سائنسی میدان میں تحقیق کرکے مغربی ممالک کی طرح ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکیں۔