تحریر: مہناز رحمٰن....آل انڈیا مسلم لیگ نے جب 1932 میں عورتوں کو سیاست میں مساوی درجہ دینےکی قرارداد منظور کی تو اس کی صفوں میں بہت سی طاقت ور خواتین موجود تھیں، اس موقع پر قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا:
’’کوئی بھی قوم اُس وقت تک شان و شوکت کی بلندی کو نہیں چھو سکتی، جب تک اس کی عورتیں آپ کے ساتھ شانہ بشانہ نہ ہوں ،ہم برے رسم و رواج کا شکار ہیں۔ اپنی عورتوں کو قیدیوں کی طرح گھروں کی چار دیواری میں بند رکھنا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ ہماری عورتوں کو جن تکلیف دہ حالات میں زندگی گزارنی پڑتی ہے، اس کی کسی طرح اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ ‘‘

اکیسویں صدی کی پاکستانی عورت کو اس بات پر فخر ہے کہ اس کے سفر کا آغاز محترمہ فاطمہ جناح ،بیگم رعنا لیاقت علی خان،بیگم شاہنواز ،سلمیٰ تصدق حسین، بیگم شائستہ اکرم اللہ اور دیگر ایسی ہی بہت سی قابل خواتین کی رہنمائی میں ہوا۔ 1947کے اواخر میں کراچی میں خواتین کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا ،’’آدھا پاکستان آپ کا ہے، کیونکہ اس کے حصول میں آپ کا حصہ مردوں سے کم نہیں ہے۔ ‘‘
بہرحال یہ کوئی آسان سفر نہیں تھا،آگ اورخون کے درمیان سے مردوں اور عورتوں دونوں کو گزرنا پڑا، لیکن عورتوں کو اس کے علاوہ بھی ظلم و ستم کا نشانہ بننا پڑا۔کتنی اغوا ہوئیں، کتنی کی عصمت دری ہوئی اور کتنی عورتوںنے عزت بچانے کےلیے کنوئوں میں چھلانگ لگا دی۔
تقسیم کے وقت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی، محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان نے مسلم لیگ کی دیگر خواتین کے ساتھ مل کر کیمپوں میں مقیم گھرانوں کی آباد کاری کے لیے کام کیا ۔عورتوں کو اپنا دفاع کرنے کے لیے بیگم رعنا لیاقت علی خان نے ویمن نیشنل گارڈز بنائی اور پاکستانی خواتین فوجی تربیت حاصل کرنے لگیں، لیکن رجعت پسند حلقوں کے دبائو کی وجہ سے اس ادارے کو جلد ہی ختم کر دیا گیا۔
پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی میں خواتین کی نمائندگی بیگم جہاں آرا شاہنواز اور بیگم شائستہ اکرام اللہ کر رہی تھیں۔ ان دونوں خواتین کی کوششوں کے نتیجے میں’’ شریعت کا اسلامی پرسنل لاء ‘‘ منظور ہوا۔ مقننہ میں موجود مرد حضرات اس قانون کے بارے میں تحفظات رکھتے تھے ،کیونکہ اس میں، وراثت میں عورتوں کے حقوق کو تسلیم کیا گیا تھا ۔یہ قانون سارے شہریوں کو خواہ وہ مرد ہوں یا عورت مساوی معاوضے، مساوی مقام ومواقع کی ضمانت دیتا تھا۔ اسمبلی کے اندر اور باہر عورتوں کی جدوجہد کے نتیجے میں بالاخر 1948میں یہ قانون منظور ہو گیا ۔اور 1951میں نافذ العمل ہوا یہ اور بات ہے کہ زمینداروں اور وڈیروں نے عورتوں کو زمین اور جائیداد میں وراثت کے حق سے ہمیشہ محروم رکھا۔

سن 1955میں جب اُس وقت کے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نے دوسری شادی کی تو خواتین نے اس کے خلاف احتجاجی مہم شروع کی ،بیگم جہاں آرا شاہنواز کی قیادت میں یونائیٹڈ فرنٹ فار ویمنز رائٹس ( UFWR)بنایا گیا، اس کے اور اپوا کے دبائو کے نتیجے میں حکومت نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رشید صاحب کی سربراہی میں شادی، طلاق، کفالت اور بچوں کی کسٹڈی کے مروج قوانین کا جائزہ لینے اور ان میں تبدیلی کی تجاویز دینے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا گیا۔ رشید کمیشن نے 1956میں اپنی رپورٹ مکمل کی، جس میں مولانا احتشام الحق تھانوی کا تفصیلی اختلافی نوٹ بھی شامل تھا۔ مذہبی عناصر کے مسلسل دبائو کی وجہ سے اس رپورٹ کو کبھی عام نہیں کیا گیا، لیکن پانچ سال بعد یہی رپورٹ مسلم فیملی لاز آرڈی نینس 1961کی بنیاد بنی۔
اُس دور کی ایک اور اہم کامیابی 1956کے آئین میں عورتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے عورتوں کے حق رائے دہی کا اصو ل تھا، یوں عورتوں کو دہرے ووٹ کا حق حاصل ہوا۔ ایک ووٹ جنرل سیٹ کےلیے اور ایک عورتوں کی مخصوص نشست کے لیے، لیکن 1962کے آئین میں اس حق کوختم کر دیا گیا۔ بدقسمتی سے عورتوں کےبالواسطہ انتخاب کا طریقہ 1973کی آئین میں بھی برقرار رکھا گیا، لیکن اچھی بات یہ تھی کہ آئین ساز کمیٹی میں دو عورتیں بیگم اشرف عباسی اور بیگم نسیم جہاں بھی شامل تھیں، جن کی کوششوں کے نتیجے میں1973کے آئین میں زیادہ صنفی مساوات نظر آتی ہے اور قانون کے سامنے سارے شہریوں کو برابر قراردیا گیا ہے۔ لوکل باڈیز میں بھی عورتوں کے لیے مخصوص نشستوں کی ضمانت دی گئی۔ قومی زندگی کے ہر شعبے میں عورتوں کی شمو لیت کی یقین دہانی کرائی گئی۔
عورتوں کے حوالے سے ایوب خان کے دور کو دو باتوں کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ ایک تو عائلی قوانین دوسرے فاطمہ جناح کا ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب لڑنا۔
محترمہ فاطمہ جناح کو مادر ملت کہاجاتا تھا اور 1965کے صدارتی انتخابات کے وقت ان کی عمر 71 سال تھی۔ تحریک پاکستان میں سرگرم کردار ادا کرنے کے بعد سے وہ سیاست سے الگ تھلگ رہی تھیں، مگر جمہوری اقدار کی سر بلندی کی خاطر انہوں نے حزب اختلاف کے سیاسست دانوں کی درخواست مان لی اور ایک آمر کے مقابلے کے لیے نکل پڑیں۔ ان کے انتخابی جلسوں میں حبیب جالب کی نظمیں لوگوں کا دل گرما دیتی تھیں۔ یہ اور بات کہ ایو ب خان نے ریاستی مشینری کی طاقت اور دیگر ہتھکنڈوں سے ان کو ہرا دیا، لیکن عوام کے دل سفید بالوںوالی اکہتر سالہ پروقار خاتون کے ساتھ دھڑکتے تھے۔ کراچی اور مشرقی پاکستان میں طلبا مادر ملت کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ اسی طرح وکلا کی اکثریت نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ کراچی بار ایسوسی ایشن نے تو ایوب خان کے خلاف قرار داد بھی منظور کی۔ ایک افسوسناک بات جس کا بہت سے لوگوں کو علم نہیں کہ پاکستان کے پہلے وزیر اغظم لیاقت علی خان کی بیوہ اور اپوا کی بانی بیگم رعنا لیاقت علی خان اور بیگم فدا حسین نے محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں ایوب خان کا ساتھ دیا تھا،بعدازاںایوب خان کو عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار چھوڑنا پڑا۔
بھٹو کا دور پاکستانی عورتوں کے لیے ترقی کا دور تھا ،پیپلز پارٹی نے عورتوں کے سیاست میں آنے کی حوصلہ افزائی کی۔ پارٹی کی بانی رکن بیگم نسیم جہاں نے تعلیم یافتہ خواتین کو متحرک کیا کہ وہ گھر گھر جا کر پارٹی کا پیغام پہنچائیں۔ پارٹی نے عورتوں کا ایک ونگ بھی بنایا،جس سے عورتوں کی مزید حوصلہ افزائی ہوئی۔ 1972میں ساری سرکاری ملازمتوں کے دروازے عورتوں کے لیے کھول دیئے گئے۔ پہلی مرتبہ 70خواتین کو یونیورسٹیز کا وائس چانسلر، صوبوں کی گورنر اور قومی اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر بننے کاموقع ملا۔ پہلی مرتبہ وزارت خارجہ میں عورتوں کو ملازمتوں کے مواقع ملے۔

اقوام متحدہ نے1975کو عورتوں کا عالمی سال قراردیا۔ میکسیکو میں عورتوں کی پہلی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں پاکستانی وفد کی قیادت نصرت بھٹو نے کی، اس کانفرنس میں پیش کی گئی تجاویز کے نتیجے میں1976میں حکومتِ پاکستان نے ویمن ڈویژن کے قیام کی منظوری دی۔ 1977کے فوجی انقلاب کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق کے دور کا آغاز ہوا اور عورتوں کی ترقی کا سفر محدود ہوتا چلا گیا۔ ضیاء الحق نے اسلام کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور اس کے بنائے ہوئے امتیازی قوانین سے مسلم عورتیں اور مذہبی اقلیتیں سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، 1961کے عائلی قوانین اور 1964کا فیملی کورٹس ایکٹ عورتوں کے قانون حقوق میں اضافے کا سبب بنے تھے۔ عائلی قوانین کے تحت والدین کی وفات کی صورت میں اُن کے بچوں کو دادی، دادا یا نانا ،نانی کی جائیداد میں حصہ دار ہونے کا حق دیا گیا۔شادی کی رجسٹریشن( ایک سے زیادہ شادی ،طلاق اور خلع وغیرہ کے معاملات کی رجسٹریشن ) بیوی کی کفالت اور مہر ، اس کے ساتھ بچپن کی شادی 1929کے ایکٹ اور مسلم شادیوں کی تحلیل کے ایکٹ میں بھی ترامیم کی گئیں۔ فیملی کورٹس ایکٹ کے تحت نئے کورٹس تو بنائےگئے، لیکن ان کے اختیارات سول ججز کو تفویض کر دیئے گئے، یوں عدالتی عمل مزید طویل ہو گیااور عورتوں کو ریلیف نہیں مل سکا، لیکن ضیاء الحق کے امتیازی قوانین کے نتیجے میں بے شمار عورتوں کو جیل کی ہوا کھانی پڑی۔ قانون، تعلیم ا ور روزگار کے شعبے میں عورتوں کی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ بقول شخصے ضیاء الحق نے اپنے اسلامائزیشن کے منصوبوں کی اولین اور واضح علامت کے طور پر ’’عورت کارڈ‘‘استعمال کیا۔ تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں اور ہزاروں مدرسے قائم کئے گئے۔
ضیاءالحق نے1979 میں حدود آرڈی نینس جاری کیا ،1981میں فہمیدہ اللہ بخش کیس سامنے آیا، جس میں زنا کے الزام میں ایک شادی شدہ جوڑے کو سنگسار کرنے اور کوڑے لگانے کی سزا سنائی گئی۔ اس مقدمے نے پڑھی لکھی اور باشعور خواتین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اب معاملہ برداشت سے باہر ہوتا جا رہا ہے، چنانچہ انہوں نے خواتین محاذ عملWAFتشکیل دیا اور امتیازی قوانین کے خلاف جدوجہد شرو ع کر دی۔ 12فروری1983کو لاہور میں مال روڈ پر عورتوں کا ایک گروپ جمع ہوا۔ وہ قانون شہادت کے خلاف احتجاج کر رہی تھیں، جس میں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر قرار دی گئی تھی۔ یہ خواتین لاہور ہائی کورٹ جا کے ایک پٹیشن جمع کرانا چاہتی تھیں۔ عوامی شاعر حبیب جالب بھی ان کےساتھ تھے، جنہوں نے اس موقع پر خواتین کےلیے ایک نظم بھی پڑھ کر سنائی۔ پولیس نے ان خواتین پر لاٹھی چارج کر دیا ، حبیب جالب کا سر پھٹ گیا۔ تقریباً پچاس خواتین کو گرفتار کر لیا گیا۔ اب اس واقعہ کی یاد میں ہر سال12فروری کو پاکستانی عورتوں کا قومی دن منایا جاتا ہے۔
1980 کا عشرہ صحیح معنوں میں پاکستانی خواتین کا عشرہ تھا۔ جب پاکستان کے سیاسی منظر پر عورتوں کی ایک طاقتور تحریک ابھری۔اقوام متحدہ نے 1975تا1985 کے عشرے کو عورتوں کا عشرہ قرار دیا تھا۔ سچ پوچھئے تو یہ صحیح معنوں میں پاکستانی عورتوں کا عشرہ تھا، جسسے عورتوں نے اپنے خلاف بنائے جانے والے امتیازی قوانین کے بارے میں مسلسل جدوجہد کی، یوں بھی بانی پاکستان اور چند دیگر رہنمائوں کی سوچ کے برعکس پاکستانی معاشرہ شروع سے ایک پدرسری معاشرہ رہاہےاور اکثر لوگ عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ ان کی شادی ان سے پوچھے بغیر طے کر دی جاتی ہے۔ عام طور پر ان کی شادی برادری کے اندر ہی کسی سے کی جاتی ہے اور اکثر فیصلے برادری کی پنچایت میں ہوتے ہیں۔
پاکستان کی آبادی کے اعداد وشمار بھی عورتوں کے خلاف امتیاز روا رکھے جانے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ 1981کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں ایک ہزار مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی تعداد906ہے۔ حالانکہ عام تاثر یہ ہے کہ عورتیں تعداد میں مردوں سے زیادہ ہیں۔ امرتیا سین کی تحقیق کے مطابق ہندوستانی پنجاب میں عورتوں کی تعداد اس لیے کم ہو گئی ہے کہ والدین کو جب الٹرا سائونڈ کے ذریعے ہونے والے بچے کی جنس کا علم ہوتا ہے تو لڑکی ہونے کی صورت میں اسقاط حمل کرا دیا جاتا ہے، اسی لیے ڈاکٹروں پر بچے کی جنس نہ بتانے کی پابندی لگائی جاتی ہے۔ پاکستان میں ایسی کوئی تحقیق تو نہیں ہوئی، لیکن ماہرین سماجیات، خاص طور پر صنف اور ترقی کے موضوع پر تربیتی ورکشاپس کرانے والوں کا خیال ہے کہ ہمارے معاشرے میں بیٹے کو ترجیح دینے کا چلن کچھ زیادہ ہی عام ہے۔ شادی کے بعد جب بھی عورت امید سے ہوتی ہے۔
سسرال والوں کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ بیٹا پیدا ہو۔ بیٹی کی پیدائش پر خوشی نہیں منائی جاتی ،کھانے پینے، تعلیم کے حصول، اور علاج معالجے میں بیٹے کو ترجیح دی جاتی ہے، اس رویے کے باوجود پاکستانی عورتیں آج پہلے سے بہتر مقام و مرتبہ حاصل کر چکی ہیں۔ضیا ء الحق کے عہد کے خاتمے کے بعد جمہوری حکومتوں کے ادوار میں بنائے جانے والے منصوبوں میں عورتوں کے مسائل پر خاص توجہ دی گئی۔1988میں بےنظیر بھٹو کو پاکستان کی پہلی وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے عورتوں کے حقوق میں آواز اٹھائی اور ویمن پولیس اسٹیشنز بنوائے۔ عورتوں کو اعلیٰ عدالتوں میں ججز بنایا۔محترمہ ماجدہ رضوی صاحبہ کو سندھ ہائی کورٹ کی پہلی خاتون جج بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اکرم خاتون فرسٹ ویمن بینک کی پہلی صدر بنیں، مگر دونوں دفعہ ان کی حکومت مدت مکمل کرنے سے پہلے ہی ختم کر دی گئی۔
1989میں ویمن ڈویلپمنٹ منسٹری نے پانچ یونی ورسٹیوں اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ ،پشاور ، اور لاہور میںویمن اسٹڈی سینٹرز قائم کئے، لیکن ان میں سے چار مالی اور انتظامی معاونت نہ ہونے کی وجہ سے فعال نہ ہو سکے اور صرف کراچی یونیورسٹی کا سینٹر ہی کام کر پایا ۔

فرسٹ ویمن بینک کا قیام بھی1989میں عمل میں آیا، اس کا مقصد عورتوں کی مالی ضروریات کے حوالے سے کام کرنا تھا، اس لیے اس قومیائے کیےگئے کمرشل بینک کو ترقیاتی مالیاتی ادارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سماجی فلاحی تنظیم کا درجہ بھی دیا گیا، اس بینک کو عورتیں ہی چلا رہی ہیں اور ملک بھر میں اس کی اڑتیس شاخیں کام کر رہی ہیں۔ ابتدا میں اسے عورتوں کو چھوٹے قرضے دینے کےلیے وزارت ترقی خواتین کی طرف سے مالی امداد بھی فراہم کی گئی تھی۔
پاکستان نے 1996میں اقوام متحدہ کے ’’عورتوں‘‘کے خلاف ہر طرح کے امتیاز کے خاتمے کے کنونشن کی بھی توثیق کی تھی۔ اس پر عمل درآمد کی ذمہ داری وزارت ترقی خواتین کے سپرد کی گئی تھی، بعد میںخواتین کی تنظیموں نے بھی اس کے بارے میں آگاہی پھیلانے اور اس پر عمل درآمد کرانے کی بے حد کوشش کی۔
نواز شریف نے 1997میں برسر اقتدار آنے کے بعد قصاص اور دیت آرڈی نینس بنایا جس کی آڑ میں غیرت کے نام پر قتل کے مجرموں کو چھوٹ مل گئی کیونکہ خاندان کا جو فرد قتل کرتا ہے اس کا کوئی بزرگ ولی بن کر اسے معاف کر دیتا یا فریقین میں کوئی سمجھوتہ ہو جاتا ہے۔
1996-97میں عورتوں کے مقام و مرتبہ کے بارے میں تحقیق کے لیے ناصر اسلم زاہد کی سربراہی میں ایک کمیشن بنایا گیا، جس میں دیگر لوگوں کے علاوہ عاصمہ جہانگیر اور شہلا رضا بھی شامل تھیں۔ اس کمیشن کی سفارشات پر اگر عمل ہو جاتا تو شاید عورتوں کے سارے مسئلے حل ہو جاتے۔
قومی کمیشن برائے توقیر نسواں کا قیام جولائی 2000 میں عمل میں آیا۔اس کمیشن کے عہدے داروں کی تعیناتی تین سال کے لیے ہوتی ہے۔ سول سوسائٹی کی کسی تجربہ کار خاتون کو اس کا چیئرپرسن مقرر کیاجاتاہے۔
قومی کمیشن عورتوں کی ترقی اور صنفی مساوات کے نقطہ نظر سے حکومتی پالیسی کے اقدامات، عورتوں کے مقام و مرتبہ پر اثرانداز ہونے والے قوانین اور قواعد و ضوابط کاجائزہ لیتا ہے۔شاہین سردار، جسٹس ماجدہ رضوی، عارفہ سید اور انیس ہارون کے بعد آج کل خاور ممتاز اس کی چیئر پرسن ہیں۔ یہ کمیشن ان اداروں کے کام کی نگرانی بھی کرتاہے، جو خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں ان کی مدد کے لیے بنائے گئے ہیں۔اس کے ساتھ کمیشن عورتوں پر ہونے والے تشدد کے انفرادی کیسز کی تحقیقات بھی کرتاہے۔
پنجاب کمیشن برائے توقیرنسواں کی چیئرپرسن فوزیہ وقار ہیں۔پنجاب وہ صوبہ ہے، جہاں سب سے زیادہ خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات رونما ہوتے ہیں ۔ پنجاب کمیشن ان شکایات پر کام کرتا ہے، جہاں عورتوں پر تشدد ہوتاہے اور ریاستی ادارے ان کی دادرسی نہیں کرتے۔اس کےلیے پنجاب کمیشن ان اداروں کو جوابدہ ٹھہراتا ہے، جو ایسے معاملات پر مناسب کارروائی نہیں کرتے۔ قومی کمیشن کی چیئرپرسن خاور ممتاز کو حقوق نسواں اور ترقیاتی مسائل پر کام کرنے کا تیس سالہ تجربہ ہے۔حقوق نسواں کے لیے ان کے سفر کا باقاعدہ آغاز 1981ء میں ویمن ایکشن فورم کے وجود میں آنے کے بعد شروع ہوا۔
پہلے کمیشن کا سیکرٹریٹ وزارت برائے ترقی نسواں میں ہوتا تھا، مگر بے جامداخلت کی وجہ سے کمیشن کے کام میں حرج ہوتاتھا۔2012ء کا ایکٹ پاس اور بزنس رولز منظور ہوجانے کے بعد اب تک کمیشن خودمختار ادارہ ہے۔ کمیشن کا آئین بھی چیف ایگزیکٹیو کی پسند یاناپسند کے تابع نہیں رہا، بلکہ سربراہ کے چنائو اور صوبائی ممبران کی نامزدگی کے لیے باقاعدہ ایک طریقہ کار وضع کردیاگیاہے۔اب سربراہ کا تقرر صرف وزیراعظم کی صوابدید نہیں رہا، بلکہ اس کے لیے وسیع تر مشاورت عمل میں لائی جاتی ہے، یہاں تک کہ حزب اختلاف کے سربراہ کی رائے بھی شامل کی جاتی ہے، اگر سربراہ کے تقرر میں اختلاف پیداہوجائے تو پارلیمنٹ میں خصوصی کمیٹی بنانے کی ہدایت ہے، جووضع کردہ طریقہ کار کے تحت دوسرے سربراہ کا چنائو کرتی ہے۔اس طرح ہر صوبہ دو ممبران نامزد کرتاہے،اچھا تجربہ اوربہترین مہارت رکھنے والے ممبران اس میدان میں اترتے ہیں،اس میں یہ لازمی نہیں کہ وہ سرکاری ملازم ہوں۔ خیبرپختون خواہ اسمبلی میں خواتین کمیشن قائم کرنے کا بل آٹھ سال پہلے منظور ہوا۔ سندھ اسمبلی میں بھی کمیشن کے قیام کا بل منظور ہوچکا ہے، لیکن کمیشن ابھی تک فعال نہیں ہے۔
بلوچستان اسمبلی میں خواتین کمیشن کے قیام کا بل اسمبلی میں پیش ہوگیاہے،جو جلد منظور ہوجائے گا۔ جب سے وفاقی سطح پر خواتین کی وزارت ختم ہوئی ہے، کمیشن کے پاس قومی اسمبلی میں خواتین کی آواز اٹھانے کے لیے قائمہ کمیٹی بھی نہیں رہی ہے اور اب کمیشن انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی کو رپورٹ کرتاہے۔
NCSW کی تشکیل نو کی تجویز جون 2013ء میں تمام ممبران کی ترقی کے بعد پیش کی گئی تھی۔ موجودہ کمیشن نے خاور ممتاز کی قیادت میں پہلا قدم انتخابات کی نگرانی کا اٹھایا۔کمیشن نے انٹرنیٹ پر شکایات کا سیل قائم کیا اورای میل ایڈریس اور ایس ایم ایس نمبر جاری کئے، تاکہ لوگ اپنی شکایات درج کراسکیں۔ کمیشن کی توجہ کا مرکز صوبوں میں گھریلو تشدد پر قانون سازی ہے۔ کمیشن نےاس سلسلے میں قومی سطح پر مشاورت کرکے گھریلو تشدد کے قانون پر اپنی آراء سے بھی آگاہ کردیاہے۔
سندھ اسمبلی پہلے ہی یہ قانون پاس کرچکی ہے، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
سندھ کی خواتین کو 2013 میں عورتوں کے عالمی دن یعنی 8 مارچ کے موقع پر حکومت کی طرف سے گھریلو تشدد کی روک تھام کے قانون کی شکل میں ایک تحفہ دیاگیا۔اس سے پہلے مرد، عورت کی ہڈی پسلی ایک کردیتاتھا،جسےپولیس گھریلو معاملہ کہہ کر نظرانداز کردیتی تھی۔یہ قانون صرف عورت کو نہیں بلکہ ایک گھر میں رہنے والے بچوں اور ضعیف یا معذور افراد کو بھی تحفظ فراہم کرتاہے۔ اس قانون کے تحت ایک کمیشن تشکیل دیاجائے گا، جو قانون کی شرائط کار کا جائزہ لیتا رہے گا اور ضرورت پڑنے پر ترامیم کی تجویز بھی دے سکے گا۔کمیشن گھریلو تشدد سے متعلق شکایات کاجائزہ لینے کے علاوہ قانون پر عملدرآمد نہ ہونے کی شکایات کاجائزہ بھی لے گا،بلکہ گھریلو تشدد سے پاک ماحول پیدا کرنے کی منصوبہ بندی میں شرکت اور مشاورت بھی اس کی ذمے داری ہوگی۔
گھریلو تشدد سے مراد صنفی بنیاد پر ہونے والی زیادتی اور دیگر جسمانی اور نفسیاتی زیادتیاں ہیں۔ اس قانون میں جذباتی‘ نفسیاتی اور زبانی زیادتی کو بھی قابل سزا ٹھہرایا گیاہے۔مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنے گھر میں کسی بچے، ضعیف یامعذور شخص یا عورت کے بارے میں ایسا غیرمعمولی اور منفی رویہ اختیار کرتاہے، جس سے اس کی آزادی،وقار اور سلامتی مجروح ہوتی ہو یا ہروقت اس کی توہین کی جاتی ہو اور مذاق اڑایا جاتاہو ،مارپیٹ کی دھمکی یاا س کے کردار پر شک کیاجاتا ہو‘تو یہ سب گھریلو تشدد کے زمرے میں آتا ہے اور قابل تعزیر ہے۔گھریلو تشدد میں جنسی زیادتی بھی شامل ہے۔کسی فرد کو گھر میں بند رکھنا یا اس کا خرچہ پانی بند کرنابھی گھریلو تشدد میں ہے۔گھریلو تشدد کی صورت میں متاثرہ فرد یا اس کے مقررکردہ فرد کو عدالت میں پٹیشن دائر کرنے کا حق بھی ہے۔پٹیشن داخل کرنے کے سات دن کے اندر اندر عدالت کو سماعت کی تاریخ مقرر کرنا ہوگی۔ملزم کے خلاف نوٹس جاری ہو گا کہ وہ عدالت میں حاضر ہوکر اپنی صفائی پیش کرے۔ایسی ہر پٹیشن نوے دن کے اندر اندر نمٹانی ہوگی، اس کے علاوہ متاثرہ شخص کو اس کی مرضی کے بغیر کوئی گھر سے نکال نہیں سکے گا۔
پاکستانی عورتوں کے لیے پہلا ترقی پسند قانون 1961ء میں بنا ۔مختلف اوقات میں کئی چھوٹی اور چند اہم ترامیم کو عائلی قوانین میں شامل کیا گیا،تاہم1976ء میں جب جہیز اور عروسی تحائف (ممانعت) کاایکٹ عمل میں آیا اور2004ء میں جب غیرت کے نام پر قتل کا قانون بنایا گیا، ان کے درمیان اٹھائیس برسوں کا عرصہ حائل ہے ۔ قومی کمیشن برائے وقار نسواں نے ان قوانین میں اصلاحات کے لیے سفارشات مرتب کی ہیں۔
حدود آرڈیننس1979 کے تحت دوطرح کی سزائیں تجویز کی گئی تھیں۔حد کے نفاذ کے لیے ملزم کا بالغ ہونا‘ اعتراف جرم کرنا اور ارتکاب جرم کا چشم دیدگواہ ہوناضروری ہے۔تمام جرائم کے لیے دوچشم دیدگواہ ہونے چاہئیں، لیکن زنا اور زنا بالجبر کے مقدمات میں چارچشم دیدگواہ ضروری ہیں۔ گواہوں کا بالغ مسلمان مرد ہونا ضرو ر ی ہے۔مسلمان ملزم کے خلاف مسلمان عورتوں یا غیرمسلم مردوعورت کی صورت میں غیرمسلم عورت و مرد بھی گواہ ہوسکتے ہیں۔شادی شدہ مسلمان کے ارتکاب زنا پر سنگساری‘ بالغ غیرمسلم یا بالغ غیرشادی شدہ مسلم کی طرف سے زنابالجبر پر سوکوڑے ،جس کے ساتھ موت سمیت کوئی بھی سزا دی جاسکتی ہے۔
1984ء میں قانون شہادت بنایا گیا، جس میں ایک مرد کے مقابلے میں عورت کی گواہی کوآدھا یا دوعورتوں کی گواہی کو ایک مرد کے برابر برقرار دیاگیا۔ان قوانین کے نفاذ کے ساتھ ہی سول سوسائٹی نے خواتین محاذ عمل کے پلیٹ فارم سے تحریک شروع کردی تھی۔2001ء میں پاکستانی شہریت بل1951میں جزوی ترمیم سے پاکستانی عورتوں کے بچوں کو شہریت کا اختیار دیاگیا، مگران کے غیرملکی شوہروں کو بدستور پاکستانی شہریت کے حق سے محروم رکھاگیا۔عورتوں کی ایک خاص مدت میں ’’خلع‘‘ کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے 2002ء میں عائلی عدالتوں کے ایکٹ میں ترمیم کی گئی۔اس عرصہ کے دوران ایک اہم وا قعہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں عورتوں کی مخصوص نشستوں کی بحالی اور ان میں اضافہ تھا۔ان ایوانوں میں عورتوں کے لیے 17 فی صد نشستیں مخصوص رکھی گئیں اور مقامی حکومتوں کے نظام میں خواتین کے لیے 33 فی صد نشستیں مخصوص کی گئیں۔ واضح رہے کہ 1973 کے آئین میں عورتوں کے لیے قومی اسمبلی میں دس نشستیں مخصوص کی گئی تھیں،جو 1988 کے انتخابات کے ساتھ غیرموثر ہوگئی تھیں۔ 2002ء میں اس مثبت اقدام کے نتیجے میں ہزاروں عورتیں مقامی سطح پر منتخب ہوئیں۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں عورتوں کی نمائندگی میں بیس فی صد اضافہ ہوا۔ یہ اقدام دوررس نتائج کا حامل رہا۔عورتوں کے حق میں قانون سازی کی نئی لہر 2002ء سے 2007 کے عرصے میں آئی۔بنیادی طور پر صنفی بنیاد پر قانون سازی کی نئی لہر 12ویں قومی اسمبلی، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں خواتین ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے انسانی حقوق اور عورتوں کے حقوق کی قومی تنظیموں بشمول عورت فائونڈیشن ‘خواتین محاذ عمل‘ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق‘ سیپ پی کے، اے جی ایچ ایس‘ شرکت گاہ،ادارہ استحکام شراکتی ترقی، ادارہ برائے پائیدار ترقی،سنگل اور پائلر کی مکمل ہم آہنگی کے ساتھ آئی۔
شیری رحمن (پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرینز) اوران کی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے دیگر اراکین نے 2003ء میں ’’تحفظ و بااختیاری خواتین بل 2003‘‘ کے نام سے واحد پرائیویٹ ممبرز بل پیش کیا۔2004 میں شیری رحمان نے ’’غیرت‘‘ کے نام پر قتل کے معاملے سے متعلق بھی ایک بل پیش کیا۔اسی سال 30 جولائی کو ’’غیرت کے نام پر قتل کے خاتمہ‘‘ کا ایک سرکاری بل بھی پیش کیا گیا۔اس بل پر اُس وقت کے وزیراعظم کی مشیر برائے ترقی نسواں، نیلو فر بختیار، عورت فائونڈیشن کے اشتراک سے ایک عرصہ سے کام کررہی تھیں۔اس میں قصاص اور راضی نامے کی دونوں دفعات شامل نہیں تھیں۔ محترمہ نیلوفربختیار ‘محترمہ مہناز رفیع اور محترمہ کشمالہ طارق جن کا تعلق، اس وقت کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) سے تھا نے ان مثبت ترامیم کو بل کا حصہ بنانے کے لیے آخری لمحہ تک کوشش کی، لیکن حکومت اور بعض حلقوں کی مزاحمت کی وجہ سے انہیں کامیابی نہ ہوئی۔2005 میں عورتوں نے بہت سے اہم بل پیش کئے، جن میں برابری کے مواقع کا بل 2005‘ گھریلو تشدد کے خاتمے کا بل 2005‘ اور حدود قوانین منسوخی بل 2005 جو شیری رحمان نے پیش کئے۔عائلی عدالتیں ترمیمی بل، جرم زنا ،نفاذ حدود ترمیمی بل ، جرم قذف اور نفاذ حدود ترمیمی بل جو2005ء میں کشمالہ طارق نے پیش کئے۔ خاتون وفاقی محتسب اعلیٰ ادارے کے قیام کا بل، بزرگ شہریوں کا بل 2005 محترمہ مہناز رفیع نے پیش کئے۔ ملازم عورتوں کے تحفظ کا بل 2005 (دوبار پیش ہوا) عورتوں کے لیے وراثت کا بل 2005 عورتوں کے معاشی استحکام کا بل حدود دلاز کا موثر نفاذ اور تحفظ بل، محترمہ سمیعہ راحیل قاضی نے پیش کئے۔
21 اگست 2006کو حکومت کی طرف سے ’’تحفظ خواتین(فوجداری قوانینِ ترمیمی) بل 2006منظور کیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینیز، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی نے بِل کی حمایت کی۔ متحدہ مجلس عمل(چھ مذہبی جماعتوں کا اتحاد) نے بل کی مخالفت کی اور پاکستان مسلم لیگ(نواز) نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ بل میں دو حدود آرڈیننس جو زنا اور قذف کے بارے میں تھے، میں بڑے پیمانے پر ترامیم کی گئیں۔ اس بل میں حد اور تعزیر کے جرائم/سزائوں کو علیحدہ کیا گیا۔ زنا بالجبر کو زنا بالرضا سے الگ کرتے ہوئے اسے زنا آرڈیننس سے ضابطہ تعزیرات پاکستان (پی پی سی میں منتقل کیا۔ زنا(شادی سے باہر تمام جنسی تعلقات) کو پی پی سی میں علیحدہ شقوں(496بی اور496سی) کے طور پر شامل کیا گیا، جس میں پانچ سال تک کی قید اور دس ہزار روپے تک کا جرمانہ رکھا گیا۔ زنا اور قذف کی شکایت کا طریقہ کار تبدیل کیا گیا اور قذف کے متوازی طور پر نفاذ کو ممکن بنایا گیا۔
خواتین کے لئے قانون سازی کے حوالے سے2010 کے عشرے کا پہلا اہم قانون کام کی جگہ پر جنسی ہراساں سے تحفظ کا قانون تھا۔ اب ہر ادارے کے لئے اس قانون کی پابندی کرنا ضروری ہے، اس قانون کے تحت بنائے گئے ضابطہ اخلاق کو اپنے ادارے میں کسی نمایاں جگہ پر آویزاں کرنا بھی ضروری ہے۔ اس قانون کے تحت ہر ادارے کی انتظامیہ کو تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینا لازمی تھا ، جس میں ایک عورت کا رکن ہونابھی لازمی تھا۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ہمارے قانون میں جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کی وضاحت کی گئی ہے۔ اب تک ہراساں کئے جانے کو جرم نہیں، بلکہ ایک سماجی برائی کے طور پر دیکھا جاتا تھا، اس پر عورتوں کو ہی مورد الزام ٹھہراکر اس کا جواز پیدا کرلیا جاتا تھا اور کام کی جگہ پر ہراساں کئے جانے کے خلاف کوئی قانون موجود نہیں تھا۔ اس مسئلے پر دس سال تک مہم چلاکے قومی سطح پر اسے اجاگر کیا گیا۔ ہراساں کئے جانے کے خلاف مختلف تنظیموں کے ’’آشا‘‘ نامی اتحاد نے آگاہی مہم چلائی اور قومی اتفاق رائے سے پالیسی تیار کرکے اسے نجی شعبے کے اداروں میں نافذ کرایا۔ گزشتہ چند سالوں میں300سے زائد اداروں نے اسے اپنایا اور اس کے بعد کام کا ماحول بہتر ہوا ۔ وہ ترقی پسند آجر، جنہوں نے پہلے اس ضابطہ اخلاق کو اپنایا وہ تبدیلی لانے والے رہنمائوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ قانون صرف عورتوں کے لئے نہیں ہے، بلکہ تمام کارکنوں، مردوں اور عورتوں کے لیے ہے، قانون جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کی برائی کے خاتمے کی ذمے داری انتظامیہ پر ڈالتا ہے، لہٰذا زور اس بات پر دیاگیاہے کہ ادارتی نظام کار کے ذریعے افراد اپنے رویے کے لئے ذمے دار ٹھہریں۔ توقع کی جاتی ہے کہ جوں جوں معاشرے کی سوچ تبدیل ہوگی اور عورتوں کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے نامناسب رویے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر توجہ دی جانے لگے گی، ادارے اس نظام کی تبدیلی میں فعال کردار ادا کرنے لگیں گے۔ انہیں اس بات پر شرمندگی محسوس نہیں کرنی چاہئے کہ ان کےہاں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا واقعہ رونما ہوا ہے اور نہ ہی انہیں پردہ پوشی کی کوشش کرنی چاہئے کہ ان کے ادارے میں یہ مسئلہ نہیں ہے، اس کی بجائے انہیں فخر ہوناچاہیے کہ ان کے ہاں اس قسم کے واقعات سے نمٹنے کا نظام موجود ہے۔ عورت دشمن رواجوں کی روک تھام اور تیزاب پھینکنے سے متعلق جرائم پر سزائوں کے ذریعے عورتوں کے خلاف نا انصافی ختم کرنے والے ان دو قوانین کا تحفہ پاکستانی عورتوں کو 2011میں ملا۔
دہشت گردی اور خواتین
2009کے آغاز میں خوب صورت وادی سوات میں ہزاروں لڑکیوں کو طالبان نے اسکول جانے سے روک دیا تھا۔ اس سے پہلے وہ سوات کے180 اسکولوں کو نذر آتش کرچکے تھے اور 900پرائیویٹ اسکولوں کی انتظامیہ اعلان کرچکی تھی کہ سیکیورٹی کی صورتِ حال بہتر ہونے تک اسکول بند رہیں گے۔ شہریوں کے لئے صورتِ حال کو محفوظ بنانے کے لئے سرکاری حکام نے اسکولز کی انتظامیہ سے درخواست کی تھی کہ وہ سردیوں کی چھٹیوں کو مارچ تک بڑھادیں، یوں ساڑھے بارہ لاکھ طالبات کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ گیا تھا۔ سوات میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کی مہم نے افغانستان میں طالبان کے دورِ حکومت کی یاد تازہ کردی تھی۔ سوات پر مقامی طالبان کمانڈر مولوی فضل اللہ کا قبضہ ہوگیا تھا۔ وہ اور ان کے ساتھی مخالفین کے سرکاٹ رہے تھے، حجاموں کی دکانیں بند کردی گئی تھیں، سیاسی بنیادوں پر لوگوں کو قتل کیا جارہا تھا، امیر لوگوں کو اغوا کر کے ان کے گھر مسمار کردیئےگئے تھے۔ طالبان نے اپنا متوازی قانون نظام قائم کیا تھا اور لوگوں کو کوڑوں اور موت کی سزائیں سنائی جاتی تھیں۔ اسکولوں پر بم باری ہوتی تھی۔ تعلیم کا سلسلہ رک گیاتھا، جب کہ مارچ میں میٹرک کے امتحانات ہونے تھے۔
یہی وہ زمانہ تھا،جب بی بی سی سے گل مکئی کی ڈائری نشر ہونا شروع ہوئی۔ دراصل یہ ڈائری ملالہ یوسف زئی لکھتی تھی، جس نے طالبان کے سامنے جرأت انکار کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی جائے۔
مینگورہ میں12جولائی1997کو پیدا ہونے والی ملالہ بچپن میں ہی تعلیم نسواں کی مبلغ بن گئی تھی، جس کے نتیجے میں طالبان اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے رہتے تھے۔9اکتوبر2012ء کو جب ملالہ بس میں اسکول سے گھر جارہی تھی تو طالبان نے بس روک کر، اس کے بارے میں پوچھا تھااورپھراس پر گولیاں برسادیں۔ وہ بچ گئی اور آج وہ دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کی مہم چلارہی ہے۔ پہلے اسے 2013 میں امن نوبل انعام کے لئے نامزد کیا گیا تھا۔ 2014 میں اسے دوبارہ نامزد کیا گیا اور یوں وہ نوبل امن انعام حاصل کرنے والی سب سے کم عمر فرد بن گئی۔
دہشت گردوں نے پاکستان میں تاریخ کا پہیہ الٹا چلانے کی کوشش کی تھی، لیکن ریاست اور عوام نے ترقی کا سفر جاری رکھا اور خواتین نے بھی مختلف شعبوں میں کامیابی کی شاندار داستانیں رقم کیں۔ ثمینہ بیگ مائونٹ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون ہیں، یہی نہیں،وہ جولائی2014سے پہلے آٹھ ماہ کےاندر اندر سات براعظموں کی سات بلند ترین چوٹیاں سر کرچکی تھیں۔ اب ان ساتوں پہاڑوں پر پاکستان کا پرچم لہرارہا ہے۔
عائشہ فاروق پاکستان کی پہلی فائٹر پائلٹ بننے کا2006 میں اعزاز حاصل کرچکی ہیں، جبکہ شکریہ خانم نے 1959 میں کمرشل پائلٹ کا فلائٹ لائسنس حاصل کیا تھا، انہوں نے اس وقت کی واحد ایئر لائن پی آئی اے میں شمولیت اختیار کی، مگر اس وقت تک عورتوں کو کمرشل جہاز اڑانے کی اجازت نہیں ملی تھی، چنانچہ انہوں نے پی آئی اے کے ٹریننگ سینٹر میں فلائٹ انسٹرکٹر کی ملازمت قبول کرلی۔ 1977میں جب ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کیا تو کاک پٹ میں ایک مرد پائلٹ کے ساتھ ایک عورت پائلٹ بیٹھنے کا آئیڈیا اس سے ہضم نہیں ہوا اور شکریہ خانم کو گرائونڈ انسٹرکٹر کے کام تک محدود کردیا گیا۔
1980 میں جب عائشہ رابطہ اور ملیحہ سمیع نے پی آئی اے پائلٹ ٹیسٹ دیا تو انہیں بھی اسی طرح کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ضیاء الحق کے بعد 1989میں پی آئی نے انہیں دوبارہ رسمی پائلٹ ٹریننگ کے لئے مدعو کیا۔ یوں انہیں پرواز کرنے کے لئے نوسال انتظار کرنا پڑا۔2005 میں عائشہ رابعہ کمرشل فلائٹ کی پہلی خاتون کیپٹن بن گئیں۔ ایک سال بعد وہ پورے خواتین عملے کے ساتھ جہاز اڑا رہی تھیں۔
اسکواش کے کھیل میں عالمی شہرت رکھنے والی ماریہ طور پکئی وزیر کا تعلق پاکستان کے اس علاقے سے ہے، جہاں لڑکیوں کو کھیلوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں، چنانچہ وہ لڑکے کا بھیس بدل کر کھیلتی رہیں۔ ماریہ وزیرستان میں پیدا ہوئیں، جسے خطرناک ترین علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ بہت کم لڑکیوں کو اسکول جانے کا موقع ملتا ہے اور کھیلوں میں حصہ لینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ماریہ کی خوش قسمتی تھی کہ ان کے والد عورتوں اور مردوں کے مساوی حقوق پہ یقین رکھتے ہیں۔ طالبان کی طرف سے مار ڈالنے کی دھمکیاں بھی ان کا راستہ نہیں روک سکیں اور آج ماریہ ایک عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی ہیں۔
سیاست کے میدان میں اہم خواتین کا ذکر ہوچکا ہے، ان کے علاوہ بیگم اشرف عباسی تھیں، جنہیں پاکستان کی قومی اسمبلی کی پہلی خاتون ڈپٹی اسپیکر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے 1970میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ 1970-73قومی اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر رہیں۔ حالیہ عرصہ میں شہلا رضا کو دو مرتبہ ڈپٹی اسپیکر بننے کا موقع ملا۔ فہمیدہ مرزا کو قومی اسمبلی کی پہلی خاتون اسپیکر ہونے کا اعزار حاصل ہوا۔ انہوں نے1997 میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی اور 2008-2013 کی اسمبلی کی اسپیکر رہیں۔
کھیل کے میدان میں ساری پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود پاکستانی عورتوں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ 2010میں ڈھاکہ میں ہونے والے جنوبی ایشیائی کھیلوں میں نسیم حمید نے سومیٹر کی دوڑ میں طلائی تمغہ جیت کر ایشیا کی سب سے تیز رفتار خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔
ضیاء الحق نے عورتوں کی کرکٹ ٹیم کو بھی کھیلنے سے روک دیا تھا، مگر آفرین ہے، ہماری لڑکیوں پر جنہوں نے کرکٹ ٹیم کو ختم نہیں ہونے دیا اور آج ثنا میر اور ان کی ٹیم کی لڑکیاں دنیا بھر میں جانی پہچانی جاتی ہیں۔
موجودہ دور کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے۔ پاکستانی خواتین اس میدان میں بھی کسی سے پیچے نہیں رہیں۔ ارفع کریم اب اس دنیا میں نہیں رہی، لیکن کمپیوٹر پروگرامز میں اس کی صلاحیتوں اور قابلیت کو دیکھ کر بل گیٹس نے اسے امریکا مدعو کیا تھا۔ اسی طرح جہاں آرا ڈیجیٹل دنیا کا ایک اہم نام بن چکی ہیں اور آج بڑی تعداد میںخواتین نہ صرف آئی ٹی کی دنیا میںبلکہ کارپوریٹ سیکٹر میں بھی آگے آچکی ہیں اور اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز ہیں۔ ان سب خواتین نے ثابت کردیا ہے کہ وہ نامساعد حالات میں آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔
امسال 14 اگست کو پاکستان کو 70 ویں سالگرہ مناتے ہوئے ہمیں ان عورتوں کو نہیں بھلانا چاہیے، جو قیام پاکستان کے اعلان کے ساتھ پھوٹ پڑنے والے فسادات کے نتیجے میں بے دردی سے قتل کی گئیں یا اغوا کی گئیں یا زنا بالجبر کا شکار ہوئیں۔ وہ عورتیں جن کے بارے میں سعادت حسن منٹو نے ’’محبوس عورتیں‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا اور اغوا شدہ عورتوں کے مسئلے کو اجاگر کیا تھا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ فسادات اور جنگوں کی صورت میں فریقین اپنی ’’عزت اور غیرت‘‘ کا پرچم لہرانے کے لیے دشمن فریق کی عورت کی عزت کو پامال کرتے رہے۔ منٹو کا مطالبہ تھا کہ سرحد کے دونوں طرف سے اغوا ہونے والی عورتوں کو بازیاب کرایا جائے۔ اس سلسلے میں سرکاری سطح پر ابتدائی سالوں میں کچھ کوششیں بھی ہوئیں، لیکن خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو پائی۔ اس مسئلے کے بارے میںمعروف ادیبہ جمیلہ ہاشمی نے بھی ’’بن باس‘‘ کے عنوان سے ایک کہانی لکھی تھی۔ حالیہ برسوں میں زاہدہ حنا نے بھی اس مسئلے کو اٹھایا ، لیکن مجموعی طور پر ریاست اس مسئلے کو بھلا چکی ہے۔ کامران اسد علی نے بھی اپنی کتاب ’’سرخ سلام‘‘ میں اس مسئلے کو اٹھایا ہے۔ پارٹیشن کے وقت جو خواتین جوان تھیں، آج وہ پرنانی اور پر دادی بن چکی ہیں اور اکثریت دنیا سے رخصت ہوچکی ہیں۔ ان سے اگلی نسل بھی بوڑھی ہوچکی ہے، تیسری اور چوتھی نسل اب میدان عمل میں آچکی ہے۔ ہر نسل نے پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ پہلی نسلوں کے لیے صرف طب اور تدریس کے شعبوں کو قابل قبول سمجھا جاتا تھا، مگر آج عورت ہر شعبے میں کام کررہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسے پدرسری اسٹرکچرز ، سخت گیر اور بے لچک ثقافتی اور سماجی رسوم و رواج اور روایات کا بھی سامنا ہے۔ مردوں کو آج بھی غیرت کے نام پر اشتعال میں آکر قتل کرنے کی آزادی ہے، اسی لیے صنف کے حوالے سے ترقیاتی انڈیکس میں پاکستان کا نمبر بہت نیچے آتا ہے۔
ثقافتی اور انسٹی ٹیوشنل پابندیاں پاکستانی عورت کو معاشرے کی ترقی میں سرگرم کردار ادا کرنے سے روکتی ہیں، ثقافتی اور مذہبی اقدار کی آڑ میں عورت پر مزید پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ قومی، صوبائی مقامی سطح پر یہاں تک کہ گھروں میں بھی عورتوں کو فیصلے کرنے کی آزادی نہیں ہے۔ زیادہ بچے پیدا کرنے کی وجہ سے ان کی صحت متاثر ہوتی ہے۔ مردوں کے مقابلے میں انہیں تعلیم حاصل کرنے اور ملازمت کرنے کے کم مواقع ملتے ہیں۔ سچ پوچھیے تو ان ستر سالوں میں ملازمت پیشہ عورت کے تصور کو قبول نہیں کیا گیا۔ ورلڈ ڈیولپمنٹ رپورٹ 2012ء میں پاکستان کی ورک فورس میں عورتوں کی شراکت صرف اٹھائیس فی صد تھی، جبکہ ویت نام جیسے ملکوں میں یہ شرح 77 فی صد تھی۔
اسی طرح صحت کے مسئلے کو لیجئے عورت کی صحت قوم اور کنبے کی صحت سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر عورت بیمار پڑ جائے تو بچے اور خاندان دونوں بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ اگر عورت صحت مند ہوگی تو بچے بھی صحت مند پیدا ہوں گے۔ سماجی رویے بھی تولیدی طبی سہولتوں تک عورت کی رسائی کو محدود کرتے ہیں۔ تعلیم اور صحت کے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے عورت کا فیصلہ ساز اداروں میں بیٹھنا ضروری ہے۔ اس کے لیے اسے سیاست میں حصہ لینا ہوگا، لیکن ہمارے ہاں انتخابی عمل اتنا مہنگا ہے کہ متوسط طبقے کے مرد بھی انتخابات میں کھڑے ہونے سے گھبراتے ہیں تو عورتیں کیسے کھڑی ہوں۔ پھر لے دےکر ان کے لیے مخصوص نشستیں ہی رہ جاتی ہیں، جس میں وہ اپنی سیاسی پارٹی کے بڑوں کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرسکتیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ 1976ء کے لوگوں کی نمائندگی کے ایکٹ کا نفاذ ضروری ہے اور الیکشن کمیشن کو اپنے قانونی اختیارات کا استعمال کرنا چاہیے۔ 2013ء کے قومی انتخابات میں 48 ملین مردوں کے مقابلے میں خواتین ووٹروں کی تعداد 37 اعشاریہ 4 ملین (37.4) تھی۔
بہرحال گزشتہ ستر سالوں میں عورتوں کی زندگی میں تبدیلی آئی ہے اور وہ بڑی تعداد میں ورک فورس میں شامل ہورہی ہیں۔ آج کی عورت زیادہ بااختیار ہے، لیکن آج بھی اسے امتیازی سلوک، جنسی ہراسانی اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عورت کی بااختیاری کے لیے تین چیزوں کو دیکھنا ہوگا،نمبرایک، انہیں اپنی عزت نفس کا کس حد تک احساس ہے،نمبردو، انہیں اپنی زندگی کو کنٹرول کرنے کا کتنا حق ہےاورنمبرتین، وہ ایک منصفانہ نظام کے قیام کے لیے سماجی تبدیلی کی سمت متعین کرنے کا کتنا اختیار رکھتی ہیں۔
اسے حکومت کے سیاسی عزم کی کمی کہیے یا اقتصادی منصوبہ بندی کے ماہرین کی نااہلی، پاکستان میں دیہی اور شہری علاقوں میں زمین آسمان کا فرق پیدا ہوچکا ہے۔ ایک عام شہری تو اس سے متاثر ہوتا ہی ہے، لیکن عورتوں کو اس وجہ سے بہت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ شہری لڑکی کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ایک دیہی لڑکی کے مقابلے میں زیادہ ملتے ہیں۔ بڑے شہروں کی تعلیم یافتہ خواتین کو دیہی خواتین کے مقابلے میں زیادہ خود مختاری حاصل ہے۔ ان میں سے چند اعلیٰ ترین عہدوں پر بھی پہنچی ہیں۔ ڈاکٹر شمشاد اختر کو اسٹیٹ بینک کی پہلی خاتون گورنر ہونے کا اعزاز حاصل ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان آرمی میں بھی دو لیڈی ڈاکٹر میجر جنرل کے عہدے پر ترقی پاچکی ہیں۔
عالمی اقتصادی بحران، سیاسی عدم استحکام، بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور قدرتی آفات کی وجہ سے پاکستان کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے اختیارات مرکز سے صوبوں کو منتقل ہوچکے ہیں، لیکن اس حوالے سے بھی کافی الجھاوے پائے جاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب ریاست اور خاندان دونوں کو عورتوں پر زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ ایک تو عورتوں کے لیے وسائل کم مختص کیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف، چادر چار دیواری، پردہ اور رسوم و رواج اور روایات کے نام پر اسے آگے بڑھنے سے روکا جاتا ہے۔ غیرت کے تصور کو عورت سے منسلک کردیا گیا ہے، اس کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں اور خود بہت سی عورتیں بھی پدرسری نظام کو قبول کرچکی ہیں۔ یہ سارے عوامل زندگی کے ہر شعبے میں صنفی امتیاز کا باعث بنتے ہیں۔ غربت میں اضافے کی وجہ سے عورتوں اور بچوں کے حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔ کم آمدنی والے گھرانوں میں عورتیں غذائی کمی کا شکار رہتی ہیں۔ غربت کی بدولت پیدا ہونے والے مسائل کی وجہ سے عورتیں ذہنی دبائو کا شکار رہتی ہیں۔ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق کسی بھی اسپتال یا کلینک میں آنے والے نفسیاتی مریضوں میں سے دو تہائی عورتیں ہوتی ہیں۔ عورتوں کی خراب ذہنی اور جسمانی صحت ان کی پیداواری صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہے، اس کی سماجی اور اقتصادی قیمت معاشرے کو چکانا پڑتی ہے۔
پاکستانی عورتوں کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے دو شاخہ حکمت عملی اپنائی ہے۔ ایک طرف تو وہ حکومت پر سارے قانون ساز اور بلدیاتی اداروں میں عورتوں کے لیے نشستیں مخصوص کرنے اور مثبت اقدام پر زور ڈالتی ہیں۔ عورتیں شروع سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں میں عورتوں کے لیے 33 فی صد نشستیں مخصوص کرنے کا مطالبہ کرتی آئی ہیں۔ ان نشستوں پر مشترکہ الیکٹوریٹ کے ذریعے براہ راست انتخابات ہونے چاہئیں۔ اس کے علاوہ ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں ترمیم کر کے ساری سیاسی جماعتوں کے لیے یہ لازمی قرار دیا جائے کہ وہ الیکشن لڑنے کے لیے 33 فی صد خواتین امیدواروں کو ٹکٹ دیں۔ دوسری طرف عورتیں سماجی انصاف پر مبنی سیاست کا ایک متبادل تصور بھی سامنے لارہی ہیں۔
اس وقت پاکستانی عورتوں کے سامنے یہ چیلنج ہے کہ ریاست کو کیسے پابند کیا جائے کہ وہ صنفی مساوات کے حوالے سے کیے گئے معاہدوں اور وعدوں کو پورا کرے۔ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت پاکستانی حکومت کو معاشرے میں ضروری تبدیلیاں لا کے عورتوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔